Tasawwuf Advertisement 2024

قومی خبریں

خواتین

اسرائیلی پاسپورٹ رکھنے والوں کو مالدیپ دورہ کی اجازت نہیں

غزہ میں معصوم شہریوں پر مظالم کے خلاف صدر محمد معیزونے اہم قدم اٹھایا

مالے: مالدیپ نے غزہ پر جنگ کی وجہ سے اسرائیلی پاسپورٹ رکھنے والوں پر اپنے ملک میں داخل ہونے پر پابندی عائد کردی ہے۔ غیر ملکی خبررساں ادارے (الجزیرہ) کی رپورٹ کے مطابق مسلم اکثریتی ملک مالدیپ کی حکومت نے اسرائیل کی جانب سے غزہ میں معصوم شہریوں پر مظالم کے باعث اسرائیلی پاسپورٹ پر پابندی عائد کردی۔مالدیپ کے صدارتی آفس سے جاری ہونے والے بیان میں بتایا گیا ’ مالدیپ کے صدر محمد معیزو نے اسرائیلی پاسپورٹ پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے’، تاہم بیان میں یہ وضاحت نہیں کی گئی کہ نیا قانون کب سے نافذ العمل ہوگا۔صدر محمد معیزو نے ’مالدیپ کی فلسطین کے ساتھ اظہار یکجہتی‘ کے نام سے ایک قومی فنڈ ریزنگ مہم چلانے کا بھی اعلان کیا، گزشتہ سال تقریباً 11 ہزار اسرائیلی شہریوں نے مالدیپ کا دورہ کیا تھا جو اس برس میں کل سیاحوں کی آمد کا 0.6 فیصد بنتا ہے۔
سرکاری اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ مالدیپ کا دورہ کرنے والے اسرائیلیوں کی تعداد اس سال کے پہلے 4 مہینوں میں کم ہو کر 528 رہ گئی ہے، جو کہ گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 88 فیصد کم ہے۔مالدیپ میں اپوزیشن جماعتیں اور حکومتی اتحادی صدر محمد معیزو پر دباؤ ڈال رہی ہیں کہ وہ غزہ جنگ کے خلاف احتجاجی علامت کے طور پر اسرائیلی شہریوں کے ملک میں داخلے پر پابندی عائد کردیں۔خیال رہے کہ 7 اکتوبر سے جاری جنگ میں 36 ہزار 439 سے زائد فلسطینی ہلاک اور 82 ہزار 627 زخمی ہوچکے ہیں۔
مالدیپ نے 1990 کے اوائل میں اسرائیلی سیاحوں پر عائد سابقہ پابندی کو ہٹا دیا تھا اور 2010 میں تعلقات بحال کرنے کی کوشش کی تھی، تاہم فروری 2012 میں صدر محمد نشید کی معزولی کے بعد یہ کوششیں ناکام ہوگئی تھیں۔
اسرائیل کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے اس پابندی کے ردعمل میں مالدیپ میں موجود اپنے ملک کے شہریوں پر زور دیا کہ وہ وہاں سے چلے جائیں، بیان میں کہا گیا کہ اسرائیلی شہری فوری طور پر مالدیب سے نکل جائیں کیونکہ کوئی بھی شہری اگر کسی مصیبت میں پڑگیا تو ہمارے لیے مدد کرنا مشکل ہوگا۔واضح رہے کہ اسرائیلی پاسپورٹ رکھنے والوں کو الجزائر، بنگلہ دیش، برونائی، ایران، عراق، کویت، لبنان، لیبیا، پاکستان، سعودی عرب، شام اور یمن میں بھی داخلے کی اجازت نہیں ہے۔

No Comments:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *