
نئی دہلی،16اپریل (میرا وطن نیوز )
راجدھانی کے طویل عرصے سے زیر التوا مطالبات کے ساتھ دہلی کے سبھی ساتوں بی جے پی ممبران پا ر لیمنٹ نے جمعرات کو مرکزی وزیر برائے ہاو ¿سنگ اور شہری امور منوہر لال کھٹر سے ملاقات کی۔ انہو ں نے وزیر پر زور دیا کہ وہ ان مسائل کے بارے میں فوری فیصلے کریں۔ ان معاملات میں ’او‘ زون سے 200 کالونیوں کو ہٹانا، 69 متمول کالونیوں کو ریگولرائز کرنا اور ماسٹر پلان کے نوٹیفکیشن کو تیز کرنا شامل ہے۔
جن ممبران پارلیمنٹ نے منوہر لال کھٹر سے ملاقات کی ان میں مرکزی وزیر مملکت ہرش ملہوترا، رام و یر سنگھ بدھوڑی، منوج تیواری، یوگیندر چندولیا،پروین کھنڈیلوال، کمل جیت سہراوت اور بانسری سورا ج شامل تھیں۔ممبران پارلیمنٹ نے کہا کہ ڈیموکلس کی تلوار دہلی کے پانچ اسمبلی حلقوں میں 200 سے زیادہ کالونیوں پر لٹکی ہوئی ہے کیونکہ ان کی درجہ بندی ‘O’ زون میں ہے۔ انہوں نے 69 ایفلوینٹ کالو نیو ں کو ریگولرائز کرنے اور شہری سہولیات کی فراہمی پر زور دیا جو کہ 1,511 کالونیوں پر محیط حالیہ ریگولرائزیشن مہم میں شامل نہیں تھیں۔
اس دوران ممبران پارلیمنٹ نے مزید مطالبہ کیا کہ جن سڑکوں پر کمرشل ادارے 70 فیصد سے زیادہ فرنٹیج پر قا بض ہیں انہیں سرکاری طور پر کمرشل اسٹریٹ کے طور پر نامزد کیا جائے، اور مختلف علاقوں میں 13ہزار دکانیں — جو کئی سالوں سے سیل ہیں — کو ڈی سیل کیا جائے۔ممبران پارلیمنٹ نے ماسٹر پلان کے نوٹیفکیشن میں تیزی لانے اور جی ڈی اے اور لینڈ پولنگ پالیسی کو فوری طور پر لاگو کر نے کا مشورہ دیا تاکہ دہلی کو کچی بستی میں تبدیل ہونے سے بچایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ ایسے دیہاتوں کے لیے جو شہری کاری سے گزر چکے ہیں — اور جن کی ’گرام سبھا‘ کی زمین ڈی ڈی اے کو منتقل کی گئی ہے — ایسی زمین کو خاص طور پر گاو ¿ں والوں کو شہری سہولیات فراہم کرنے کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔ انہوں نےکہا کہ ڈی ڈی اے کو اس زمین کو بیچ کر منافع کمانے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔ ارکان پارلیمنٹ نے دیہی دہلی کے بقیہ دیہاتوں میں توسیع شدہ رہائشی علاقوں (لال ڈور) کو باقاعدہ بنانے کی تجویز پیش کی۔ملاقات کے دوران ہاو ¿سنگ اور شہری امور کی وزارت کے افسران بھی موجود تھے۔ مسٹر کھٹر نے یقین دلایا کہ تمام معاملات پر ہمدردی سے غور کیا جائے گا۔
No Comments: