
حج 2027کے مقدس سفر کےلئے منتخب ہوچکے ہیں قومی راجدھانی سے عازمین حج
کمیٹی کی نئی باڈی تشکیل نہیں ہونے پر حج امورسے متعلق کام ہوسکتے ہیں متاثر
حج رضا کاروں نے وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا سے نئی کمیٹی تشکیل کرنے کا مطالبہ کیا
کوثر جہاں نے ساڑھے تین سال تک دہلی حج کمیٹی کی ذمے داری سنبھالی
نئی دہلی، 9ستمبر (میرا وطن نیوز )
قومی راجدھانی میں مسلم اداروں کی بات کریں تو دہلی اردو اکادمی ،دہلی وقف بورڈ اور غازی پور مر غا مچھلی منڈ ی کی تشکیل نہیں ہوسکی ہے ، پچھلے دنوں دہلی اقلیتی کمیشن کی تشکیل توہوگئی ہے جس کا چیئر مین اقلیتوں میں مسلم کے بجائے جین کمیونٹی سے پہلی بار چیئر مین بنایا گیا ہے ،حالانکہ کمیٹی میں مسلم ممبر کی نا مز د گی کی گئی ہے ،جبکہ کمیشن میں اس سے قبل تک جتنے بھی چیئر مین ہوئے وہ سبھی مسلم کمیونٹی سے رہے ۔ اب دہلی اسٹیٹ حج کمیٹی کی عبوری مدت کار بھی ختم ہوگئی ہے۔حالانکہ کمیٹی کی3 سال کی مدت اسی سا ل5جنوری کو ہی ختم ہوچکی تھی ،جس کے بعد مذکورہ کمیٹی کو9مارچ کو6 مہینے کا ایکسٹینشن دیا گیا تھا جو گزشتہ روز 8 ستمبر کو پورا ہوگیا ۔بہر حال دہلی اسٹیٹ حج کمیٹی بھی دیگر کئی مسلم اداروں کے ساتھ بغیر چیئر مین کے افسر شاہی کے حوالے چھوڑ دی گئی ہے؟
موصولہ اطلاع کے مطابق دہلی اسٹیٹ حج کمیٹی کی تشکیل 6جنوری 2023کی گئی اور انتخابی عمل کے بعدکمیٹی کی چیئر پرسن کوثر جہاں بنائی گئیں جبکہ ممبران میں سابق ایم پی گوتم گمبھیر ،سابق ایم ایل اے عبد الرحمن اور حاجی یونس ،کونسلر نازیہ دانش اور محمد سعد تھے۔دہلی اسمبلی انتخابات میں عبد الرحمن الیکشن ہار گئے تھے جبکہ حاجی یونس کو پارٹی نے ٹکٹ نہیں دیا اور دونوں کی رکنیت ختم ہوگئی تھی ۔اس وقت کمیٹی کی مد ت کار 5جنوری 2026کو ختم ہوئی تھی۔
حالانکہ گوتم گمبھیر کو ایم پی کا ٹکٹ نہیںملنے پر وہ بھی کمیٹی سے باہر ہوگئے تھے اور الیکشن میں ان کی جگہ پر چاندنی چوک سے جیت کر آئے ایم پی پروین کھنڈیلوال کو کمیٹی کا رکن بنایا گیا تھا ۔حالانکہ اسمبلی انتخابا ت کے بعد جیت کر آئے مسلم ممبران اسمبلی عمران حسین ،امانت اللہ خان ،آل محمد اقبال اور چودھری ز یبر احمد میں سے کسی کو بھی حج کمیٹی کا ممبر نہیں بنایا گیا ۔ یعنی کمیٹی کا بعد کا ٹرم دو اسمبلی ارکان کے بغیر ختم ہوگیا ۔
قابل ذکرہے کہ چیئرپرسن کوثر جہاں کی سر براہی میں کمیٹی کی 3سال کی مدت اسی سال 5جنوری کو ختم ہوگئی تھی ۔حالانکہ دہلی سرکار نے اس ادھوری کمیٹی کو چھ مہینے کی ایکسٹینشن دے دی تھی اور اس کی مدت کار بھی گزشتہ روز 8ستمبر کو ختم ہوگئی ۔بتایا جاتا ہے کہ چیئر پرسن کو ثر جہاں کی مدت کار کا منگل آخری دن تھا اور انہوں نے حج دفتر میں عملے کے درمیان میٹنگ کر وداعی بھی لی ۔اس معاملے کا دلچسپ پہلو یہ ہے کہ بی جے پی سرکار مذکورہ مدت کار میں بھی کمیٹی کی نئی باڈی تشکیل نہیں کرپائی جبکہ دہلی میں ریکھا گپتا سرکار کو ایک سال سے زیادہ وقت گزر چکا ہے۔
حیرت کی بات یہ ہے کہ حج 2027کے مقدس سفرکے لئے ملک اور قومی راجدھانی کے عازمین کا انتخا ب ہوچکا ہے اور حج امور کے کام جاری ہیں اور فی الحال کمیٹی کی مدت کار ختم ہونے اور نئی باڈی کی تشکیل نہیں کئے جا نے کا اثر براہ راست دہلی اسٹیٹ حج کمیٹی کے کاموں پر پڑے گا ۔کیونکہ منتخب عاز مین میڈیکل سرٹیفکیٹ وغیرہ کے کام چل رہے ہیں ۔
بتایا جاتا ہے کہ دہلی حج کمیٹی کے فا ئنا نشیل کاموں کو عملی جامع پہنانے کے لئے مکمل باڈی( چیئر مین ) کا ہونا ضروری ہے کیونکہ وہ ہی دہلی سرکا ر سے بہتررابطہ قائم کرسکتا ہے ، وہ مالی معاملات میں سائن اتھا رٹی بھی ہوتا ہے اور اس طرح کے کاموں کو سیٹ پر رہ کرہی آسا نی سے کرسکتا ہے۔ جبکہ کمیٹی تشکیل نہ ہونے کی صورت میںحج امور کے کام متاثر ہونے کا پورا امکان رہتا ہے ۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ سرکارحج کمیٹی کی تشکیل نہیں کر پانے کی اپنی خامی پردہ ڈالنے نے کے لئے کسی سرکا ر ی افسر کو عارضی ذمے داری دے کر سائن اتھارٹی بنا سکتی ہے ۔حالانکہ سرکار کے اس عمل سے بھی حج کمیٹی کادفتر ی کام کم ہونے کے بجائے بڑھ جائے گا ۔اور اس عمل سے حج امور کی فائنانشیل فا ئلیں حج منز ل سے دہلی سکریٹریٹ گھومتی رہیں گی جس کی وجہ سے حج کے کام زیادہ متاثر ہونے کاامکان رہے گا ۔
بتایا جاتا ہے کہ دہلی سرکار کے ریوینیو ڈیپارٹمنٹ کے تحت دہلی اسٹیٹ حج کمیٹی آتی ہے اور مذکورہ محکمہ وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا کے پاس ہے ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ دہلی اسٹیٹ حج کمیٹی کے دفتر نے تین سال کی مدت کار ختم ہونے کے وقت پر اور اب کمیٹی کی چھ ماہ کی ایکسٹینشن مدت کے ختم ہوجانے کی موجودہ صو رتحال سے ریوینیوڈیپارٹمنٹ کوتحریری طور پر جانکاری مہیا کرا دی ہے۔حالانکہ دہلی اسٹیٹ حج کمیٹی کی تشکیل نو کا عمل کس اسٹیج پر اور کب تک مکمل ہوجائے گا ، نہ تو متعلقہ ذمے داروں اور نہ ہی خواہش مند اراکین کو معلوم ہے ۔
بہر حال حج امور کی سرگرمیوں پر نظر رکھنے والے کئی حج رضا کاروں کا کہنا ہے کہ کمیٹی کی تشکیل میں تاخیر نہیں ہونی چاہئے تھی کیونکہ نئی باڈی نہیں ہونے سے حج امور کام متاثر ہوں گے ہی ۔ان کا کہنا ہے کہ دہلی میں ایم سی ڈی ، اسمبلی اور پارلیمنٹ میں ایک ہی پارٹی(بی جے پی ) کی سرکاریں ہیں اور اہم ارکا ن میں ایک ممبر پارلیمنٹ ،دو ممبران اسمبلی اور ایک کونسلر ان کے ذریعہ ہی نامزد کرنے ہیں ۔انہوں نے وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا سے اپیل کی ہے کہ حج کمیٹی کی تشکیل نوکے لئے فوری اقدامات کئے جائیں ،کیونکہ پہلے ہی بہت تاخیر ہوچکی ہے۔
واضح رہے کہ دہلی حج کمیٹی ایکٹ 2002کے مطابق دہلی اسٹیٹ حج کمیٹی کی تشکیل کی جاتی ہے ،جس میں ریاست یونین ٹیر ٹیری میں رہائش پذیر مسلمانوں کے نمائندے ،ممبرپارلیمنٹ ،ممبران اسمبلی ،کونسلر اورشیعہ سنی اسلامی اسکالر شامل کئے جاتے ہیں،کمیٹی کی مدت تین سال ہوتی ہے ۔اگر کسی زمر ے میں دہلی سے سنسد ،ودھان سبھا اور ایم سی ڈی میں مسلم ارکان نہیں ہے تب کسی غیر مسلم ارکان کو بھی نامزد کئے جانے کی ایکٹ میں تجویز ہے۔ فی الحال دہلی سے پارلیمنٹ میں کوئی مسلم ایم پی نہیں ہے ،جبکہ اسمبلی اور ایم سی ڈی میں مسلم ارکان ہیں ۔
No Comments: