
نئی دہلی، 6 ستمبر (میرا وطن نیوز )
جمعیت علماءہند کے صدر مولانا محمود اسعد مدنی نے سہارنپور کلکٹریٹ میں واقع ایک صدی قدیم مسجد کے انہدام پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ انتظامیہ کی یہ کارروائی انصاف کے تقاضوں اور عدالتی شفافیت کے سراسر منافی ہے۔
مولانا مدنی نے معاملے کے قانونی پہلو کی طرف توجہ دلاتے ہوئے کہا کہ جب اراضی کا تنازعہ خود کلکٹر یٹ کے احاطے سے متعلق تھا، تو انتظامیہ اور مجسٹریٹ ازخود اس معاملے میں ایک فریق بن چکے تھے۔ قانون کا یونیورسل اور مسلمہ اصول ہے کہ کوئی بھی فریق اپنے ہی معاملے میں منصف (جج) نہیں ہو سکتا۔ لہذا اس معاملے میں مجسٹریٹ کے ذریعے یکطرفہ کارروائی انصاف کے اصولوں پر کاری ضرب ہے۔
مولانا مدنی ے مزید کہا کہ 4 ستمبر کو نچلی عدالت کے فیصلے میں مسجد کو فوری زمیں بوس کرنے کا کوئی صریح حکم درج نہیںتھا۔ اس کے باوجود متاثرہ فریق سےقانونی چارہ جوئی کا حق چھینتے ہوئے عدالتی فیصلے کی مصدقہ نقل تک رسائی دیے بغیر، محض چند گھنٹوں کی قلیل مدت میں رات کی سیاہی کا سہارا لے کر مسجد پر بلڈوزر چلا دیا گیا۔
مولانا مدنی نے اس بات پر زور دیا کہ نچلی عدالت کبھی حرفِ ا?خر نہیں ہوتی؛ ا?ئین ہند میں ہر شہری کے لیے اعلیٰ عدالتوں سے رجوع کرنے اور داد رسی کا بنیادی حق محفوظ ہے۔ جب کوئی ایسا قدم اٹھایا جا رہا ہو جس سے پہنچنے والا زک ناقابلِ تلافی ہو تو اتنی برق رفتاری کا مظاہرہ اس بات کا بین ثبوت ہے کہ مقصد صرف اور صرف متاثرہ فریق کے لیے انصاف کے دروازے بند کرنا تھا۔مولانا مدنی نے مسجد کمیٹی اور قانونی چارہ جوئی کے ماہرین کو متوجہ کیا کہ وہ انتظامیہ کے خلاف بلاتاخیر ہائی کورٹ سے رجوع کریں تاکہ قانون کا وقار بحال ہو اور طاقت کے اس بے محابا استعمال کا عدالتی احتساب یقینی بنایا جا سکے۔
مولانا مدنی نے دردمندانہ اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ا?ج وطنِ عزیز کے تمام باضمیر، انصاف پسند اور امن کے نقیب طبقات کو مساجد کے تئیں روا رکھے جانے والے اس ا?مرانہ اور تعصب پرور سرکاری رویے کے خلاف سینہ سپر ہونا ہوگا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر اس ناانصافی کے ا?گے مشترکہ جدوجہد کا بند نہ باندھا گیا، تو فرقہ واریت اور مذہب دشمنی کی یہ زہریلی لہر ملک کے صدیوں پرانی مشترکہ اقدار کو نگل جائے گی؛ لہٰذا وطن کو اس تاریک وبا سے بچانے کے لیے آوازبلند کرنا وقت کا سب سے بڑا تقاضا ہے۔
No Comments: