
ہندوستان کے علما، دانشور اور مختلف مذاہب کے رہنماو ¿ں سے دونوںممالک کی تاریخی مماثلت پرگفتگو
آئیے ہم سب مل کر عالمی امن، سکون، انصاف، رفاہ اور تمام انسانوں کی ترقی کیلئے کوشش کریں
نئی دہلی ،5ستمبر (میرا وطن نیوز )
آئیے ہم سب مل کر عالمی امن، سکون، انصاف، رفاہ اور تمام انسانوں کی ترقی کیلئے کوشش کریں۔ان خیالات کا اظہار برکس کانفرنس میںشرکت کے لیے ہندوستان پہنچے ایران کی عدلیہ کے سربراہ ڈاکٹر محسنی اژہ ای نے گزشتہ روز نئی دہلی واقع سفارت خانہ اسلامی جمہوریہ ایران میںمنعقد پروقارتقریب میں کیا ۔اس پروقار تقریب میں سکھ گوردوارہ پربندھک کمیٹی کے سربراہ سردار پی ایس چندوک،شیعہ جامع مسجد کشمیری گیٹ کے امام مولاناسید محسن تقوی، جے این یو میں شعبہ فارسی کے سربراہ پروفیسر احمد اخلاق آہن، عالمی امن انسٹی ٹیوٹ کے سربراہ اور ہندو رہنما سوامی سارنگ، جماعت اسلامی ہند کے نائب صدر پروفیسر محمد سلیم انجینئر، امیر خسرو فاو ¿نڈیشن کے سربراہ ڈاکٹر حفیظ الرحمن مولانا سید کلب رشیدخاص طور سے موجود تھے۔
اس موقع پر ایران کے چیف جسٹس ڈاکٹر محسنی اژہ ای نے ہندوستان کے دانشوروں اور مختلف مذاہب کے رہنماو ¿ں سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ہندوستانی عوام اور ممتاز علماءنے شہید رہبر کی یاد میں منعقد ہونے والی تقریبا ت میں، خواہ ہندوستان کی مختلف ریاستوں میں ہوں یا ایران میں، نمایاں اور قابل قدر شرکت کی۔ اسی لیے میں ہندوستانی عوام اور اس ملک کے بزرگ علماءکا تہہ دل سے شکر گزار ہوں۔ڈاکٹر محسنی اژہ ای نے کہاکہ میں رہبر معظم انقلاب اسلامی آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای کا گرمجو ش سلام ہندوستانی عوام اور بزرگ علماءکی خدمت میں پیش کرتا ہوں اور ان کی جانب سے شہید امام کی یاد میں منعقدہ تقریبات میں آپ کی بھرپور اور باشعور شرکت پر شکریہ ادا کرتا ہوں۔
ڈاکٹر محسنی نے ہندوستان کی سامراج مخالف جدوجہد کا ذکر کرتے ہوئے کہاکہ ہندوستان جیسے قدیم اور متمدن ملک کو آزاد ہوئے 70 سال سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے، آپ ہندوستانیوں نے آزادی اور ظالم استعمار پسند طاقتوں کے تسلط سے نجات حاصل کرنے کیلئے بڑی مشکلات اور سختیاں برداشت کی ہیں۔
ڈاکٹر محسنی نے کہا کہ ایران نے بھی گزشتہ 48 برسوں کے دوران آزادی، عزت اور خودمختاری کی بلند یوں تک پہنچنے کیلئے اپنے بہترین افراد کی قربانیاں پیش کی ہیں، ہم نے بھی مستکبرین اور طاغوتی طاقتو ں کے مقابلے میں بہت سی مشکلات اور تکالیف برداشت کی ہیں۔انہوںنے کہاکہ آج ایران واحد ملک ہے جو سربلندی کے ساتھ دنیا کی سب سے بڑی مستکبر طاقت(امریکہ) کے مقابل کھڑا ہے اور اس جارح طاقت کو شکست دے چکا ہے۔ ڈاکٹرمحسنی اژہ ای نے کہاکہ ایران نے قرآن کریم اور رسو ل اکرم، جو کہ عدل و اخلاق کے عظیم نمونہ ہیں، ان کی تعلیمات سے یہ سیکھا ہے کہ وہ ظلم و جبر کے سامنے نہ کبھی جھکا ہے اور نہ آئندہ جھکے گا۔
ایرا ن کے چیف جسٹس نے ہندوستان میں مختلف مذاہب کے دانشوروں اور رہنماو ¿ں سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ آئیے ہم سب ملکر عالمی امن، سکون، انصاف ، رفاہ اور تمام انسانوں کی ترقی کیلئے کوشش کریں۔ اگر مختلف اقوام اور مذاہب کے رہنما باہمی مشاورت اور تعاون کریں تو طاقت کے نشے میں مبتلا مستکبر عناصر کبھی بھی عراق، افغانستان، لبنان، غزہ اور ایران پر حملہ نہیں کر سکے گا اور مستقبل میں دوسرے ممالک کو بھی نشانہ بنانے کی جرا ¿ت نہیں کر پائے گا۔انہوں نے کہاکہ ہمیں باہمی مشاورت اور تعاون کے ذریعہ جارحیت کرنے والوں کے مقابل کھڑا ہونا ہوگا تاکہ جارح طاقتوں کو روکا جاسکے اور پوری دنیا میں پائیدار امن و سکون قائم ہو۔
ایرانی چیف جسٹس نے اپنے خطاب کے اختتام پرکہاکہ امید ہےکہ یہ ملاقاتیں اللہ کے فضل و کرم سے ایران اور ہندوستان بلکہ تمام مسلمانوں اور پوری انسانیت کیلئے مفید اور خیر و برکت کا ذریعہ ثابت ہوں گی۔ اس سے پہلے ہندوستان میں ایران کے سفیر ڈاکٹر محمد فتح علی نے ایران اور ہندوستان کے درمیا ن تہذیبی اشتراکات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ دونوں قوموں کی مشترکہ تہذیبیں ایک گراں قدر سرمایہ ہیں، امید ہے کہ ہم اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں گے۔
اس موقع پرہندوستان میں نمائندہ ولی فقیہ ڈاکٹر عبدالمجید حکیم الہی نے اپنے خطاب میںکہاکہ ایران اور ہندوستان دو عظیم تہذیبی مراکز ہیں جن کے درمیان صدیوں سے علم و حکمت، ادب و عرفان ، ثقافت اور معنویت کے میدانوں میں باہمی تبادلہ جاری رہا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ محسنی اژہ ای کادورہ ¿ ہندوستان اور ہندوستانی علماءاور دانشوروں کےساتھ ان کی دوستانہ ملاقات دونوں ممالک کے درمیان علمی و ثقافتی تعلقات کو مزید گہرا کرنے اور مذاہب و اقوام کے درمیان باہمی مفاہمت کو مضبوط بنانے کی سمت ایک نیا قدم ثابت ہوگا۔
No Comments: