
نئی دہلی ،یکم ستمبر(میرا وطن نیوز)
آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے قومی صدر فیروز احمد ایڈووکیٹ کی قیادت میں آل انڈیا مسلم مجلس مشا ورت کے ایک نمائندہ وفد نے پیر کو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی وائس چانسلر پروفیسر نعیمہ خاتون سے ملاقا ت کی اور یونیورسٹی کی خودمختاری، املاک کے تحفظ، تعلیمی ماحول اور طلبہ کی نمائندگی سے متعلق اہم امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ ملاقات کے موقع پر یونیورسٹی کے پرو وائس چانسلر پروفیسر محمد محسن خان اور رجسٹرار عاصم ظفر بھی موجود تھے۔
وفد نے یونیورسٹی کی ان املاک کے حوالے سے تشویش کا اظہار کیا جن کے بارے میں مقامی حکام یا دیگر متعلقہ اداروں کی جانب سے دعوے کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ آ ل انڈیا مسلم مجلس مشاورت نے مو ¿قف اختیار کیا کہ یونیورسٹی کی کسی بھی جائیداد پر کسی قسم کا دعویٰ صرف مستند ملکیتی دستا و یزات اور قانون کے مقررہ طریق? کار کے مطابق ہی قابلِ قبول ہو سکتا ہے۔ اس سلسلے میں یونیورسٹی انتظامیہ سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ اپنی تمام املاک کے ملکیتی، ریونیو، لیز، حصولِ اراضی اور دیگر متعلقہ ر یکارڈ کو محفوظ اور مکمل رکھے اور جہاں کہیں حدود یا ملکیت سے متعلق اختلاف ہو وہاں باقاعدہ حد بندی اور قانونی تصدیق کا عمل مکمل کرایا جائے۔
اس امر پر بھی زور دیا گیا کہ علی گڑھ سے باہر واقع علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی املاک کا بھی جامع جائزہ لے کر ان کی مناسب حد بندی، قانونی قبضے اور حفاظت کو یقینی بنایا جائے، تاکہ کسی بھی قسم کی غیر قانونی تجاوزات یا غیر مجاز مداخلت کا سدباب ہو سکے۔ یونیورسٹی کی کسی بھی جائیداد کو قانون اور مقررہ ضوابط کی مکمل پابندی کے بغیر سرنڈر، منتقل یا کسی اور طریقے سے کسی کے حوالے نہیں کیا جانا چاہیے۔
آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت نے تجویز دی کہ اگر کسی جائیداد کے حوالے سے قانونی یا انتظامی تنازع موجود ہو تو ماہرینِ قانون اور و امور اراضی پر مشتمل ایک بااختیار کمیٹی تشکیل دی جائے، جو متعلقہ دعوو ¿ں کا جائزہ لے اور یونیورسٹی کے مفاد میں مناسب قانونی کارروائی کی سفارش کرے۔ غیر قانونی یا نا قابلِ جواز دعوو ¿ں کے خلاف متعلقہ فورم اور عدالت میں مو ¿ثر پیروی کرنے پر بھی زور دیا گیا۔
وفد نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اسٹوڈنٹس یونین کی بحالی کا معاملہ بھی اٹھایا۔ مشاورت نے کہا کہ ایک فعال، ذمہ دار اور منظم طلبہ یونین یونیورسٹی کے تعلیمی اور انتظامی نظام میں طلبہ کی تعمیری شرکت کا اہم ذریعہ بن سکتی ہے۔ اس کے ذریعے طلبہ اپنے جائز تعلیمی اور فلاحی مسائل پیش کرنے کے ساتھ ساتھ قیادت، ذمہ داری اور جمہوری طرزِ عمل کی تربیت بھی حاصل کرتے ہیں۔
آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت نے کہا کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں طلبہ کی نمائندگی کی ایک طویل اور قا بلِ ذکر روایت رہی ہے۔ موجودہ قانونی، انتظامی اور ضابطہ جاتی تقاضوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے طلبہ یونین کی بحالی کے لیے مناسب طریقہ کار اختیار کیا جانا چاہیے، جس سے طلبہ اور یونیورسٹی انتظامیہ کے درمیان باقاعدہ مکالمے، باہمی اعتماد اور جواب دہی کے عمل کو فروغ ملے۔میمورنڈم میں طلبہ یونین کی بحالی کے قانونی و انتظامی امکانات کا جائزہ لینے، مناسب ضابط? اخلاق مرتب کرنے، تمام طلبہ کو مسا وی طور پر شرکت کا موقع فراہم کرنے اور تشدد، دھمکی، دباو ¿ یا تعلیمی سرگرمیوں میں خلل کے امکا نات کی روک تھام کے لیے مو ¿ثر انتظامات کرنے کی تجویز پیش کی گئی۔
آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت نے وائس چانسلر سے اپیل کی کہ اے ایم یو کی تاریخی حیثیت، قومی اہمیت اور تعلیمی کردار کو پیش نظر رکھتے ہوئے یونیورسٹی کی تمام املاک کے تحفظ کے لیے ضروری قانونی و انتظامی اقدامات کیے جائیں اور طلبہ یونین کی بحالی کے معاملے پر بھی متعلقہ آئینی و قانونی تقاضوں کے مطا بق سنجیدگی سے پیش رفت کی جائے۔
وفد میں آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت دہلی یونٹ کے صدر ڈاکٹر ادریس قریشی، جنرل سکریٹری احمد جاو ید ، اراکینِ مشاورت عبدالرشید انصاری اور پروفیسر محمد لقمان ، حاجی عمران انصاری کے علاوہ سینئر صحافی اشرف علی بستوی شامل تھے۔
No Comments: