Vinco Paints - Advt

قومی خبریں

خواتین

یومِ آزادی کے موقع پر ترلوک پوری میں 157واں مفت یونانی طبی کیمپ

ڈاکٹر سید احمد خان نے طبِ یونانی کی افادیت اجاگر کی، بڑی تعداد میں مریضوں کا مفت معائنہ اور ادویات کی فراہمی
نئی دہلی,16 اگست ( میرا وطن نیوز ) آل انڈیا یونانی طبی کانگریس کے سکریٹری جنرل ڈاکٹر سید احمد خان نے کہا ہے کہ بدلتے موسم میں مختلف موسمی بیماریوں سے بچاؤ اور علاج کے لیے طبِ یونانی کی اہمیت نمایاں ہے۔ انہوں نے کہا کہ یونانی طریقۂ علاج اپنی روایتی اور قدرتی خصوصیات کے باعث عوام میں مقبول ہے اور مفت طبی کیمپوں کے ذریعے ضرورت مند افراد تک علاج کی سہولت پہنچانے کا سلسلہ جاری رہنا چاہیے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے یومِ آزادی ہند کے موقع پر ترلوک پوری، نئی دہلی میں منعقدہ 157ویں مفت یونانی طبی کیمپ کے دوران کیا۔
کیمپ کے افتتاح سے قبل پرچم کشائی اور سلامی کی رسم ادا کی گئی، جس کے بعد طبی کیمپ کا باقاعدہ آغاز ہوا۔
کیمپ میں بڑی تعداد میں لوگوں کا مفت طبی معائنہ، چیک اَپ اور تشخیص کی گئی، جبکہ ضرورت مند مریضوں کو مفت ادویات بھی فراہم کی گئیں۔ طبی ماہرین کے مطابق ان دنوں وائرل بخار، نزلہ، زکام اور دست کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جبکہ جوڑوں کے درد، ذیابیطس اور بلڈ پریشر کے مریض بھی بڑی تعداد میں طبی سہولیات سے استفادہ کر رہے ہیں۔
اس موقع پر آل انڈیا یونانی طبی کانگریس کے قومی آرگنائزنگ سکریٹری ڈاکٹر ڈی۔ آر۔ سنگھ کے علاوہ ڈاکٹر ذکی الدین، ڈاکٹر شکیل احمد، ڈاکٹر شمس الدین آزاد، ڈاکٹر محمود عالم، ڈاکٹر ظمیر احمد، ڈاکٹر مفتی جاوید انور، ڈاکٹر شبنم شکیل، ڈاکٹر غیاث الدین، ڈاکٹر اطہر محمود، حکیم محمد مرتضیٰ اور ڈاکٹر فہیم ملک نے مریضوں کو طبی خدمات فراہم کیں۔
کیمپ کی کامیابی میں مقامی ذمہ داران چھمبھو لال، لکشمن، کے۔ پی۔ سنگھ، سنتوش پور، راجپال، محمد عمران قنو جی، ندیم عارف، حاجی عبدالجبار، بال کشن بانی، فردوس خاتون، ڈاکٹر یاسین(ریڈیولوجسٹ)، شکیل داودی، سنتوش پٹیل، شان الدین۔ڈاکٹر۔ عبدالحسیب ،ایڈوکیٹ شان جبیں قاضی ، معروف لیڈر عبدالباسط قاضی اور شارق صدیقی۔ اشوک نٹھاری سمیت دیگر افراد نے اہم کردار ادا کیا۔
کیمپ میں شریک افراد نے آل انڈیا یونانی طبی کانگریس کی جانب سے فراہم کی جانے والی مفت طبی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے طبی کیمپ معاشرے کے ضرورت مند طبقات کے لیے نہایت مفید ثابت ہوتے ہیں۔ انہوں نے مستقبل میں بھی ایسے کیمپوں کے انعقاد کی ضرورت پر زور دیا۔

No Comments:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *