Vinco Paints - Advt

قومی خبریں

خواتین

جامع مسجد گیٹ-1 پر تین سال سے پانی جمع ہونے سے نمازیوں اور عام لوگوں کو پریشانی کا سامنا

شہر کی عباد گاہوں کے ساتھ پرسرکاری سطح پر ہورہے دوہرے معیار پر اٹھائے جا رہے ہیں سوالات

مقامی ایم ایل اے پنر دیپ سنگھ ساہنی اور مقامی کونسلر سلطان آباد کو اپنی سطح پر مسائل کو کرنا چاہئے حل
اگر چاندنی چوک گرودوارہ کے ساتھ ایسی صورتحال ہوتی تب عوامی نمائندے شکایت کا انتظار کرتے؟

نئی دہلی،9اگست (میرا وطن نیوز )
دہلی کی تاریخی جامع مسجد کے گیٹ نمبر 1 کے آس پاس کا علاقہ گزشتہ تین سالوں سے سیوریج جام اور پانی بھر جانے سے دوچار ہے۔ برسات کے دوران معمولی بارش کے بعد ہی پوری سیڑھیاں اور صحن پا نی اور غلاظت میں ڈوب جاتا ہے۔ نتیجتاً یہ ہے کہ گندے پانی میں نمازیوں کو گزرنا پڑتا ہے جس سے ان کے کپڑوں کے ناپاک ہونے کا خدشہ رہتا ہے۔حالانکہ سالوں سے چلی اس پریشانی سے سرکار اور ایم سی ڈی کے متعلقہ محکموں کے ساتھ منتخب نمائندوں کو واقف کرایا گیا ہے لیکن ان میں کسی کے سر بھی جوں تک نہیں رینگ رہی ہے ۔
قابل ذکر ہے کہ تاریخی شاہجہانی مسجد کے آس پاس کی اس صورتحال سے نمازی اور عام لوگ متعدد بار متعلقہ سرکاری اور عوامی نمائندوں کو آگاہ کراچکے ہیں لیکن صرف یقین دہانیوں کے سیوا کچھ حاصل نہیں ہورہا ہے اور یہاں کے مسائل جس کے تس بنے ہوئے ہیں ۔یہی نہیںمقامی لوگوں کے ذریعہ بار بار کی شکایا ت کے باوجوددہلی سرکار، ایم سی ڈی، ڈی جے بی، ایم ایل اے، اور میونسپل کونسلر محض کاغذی کارروائی میں مصروف ہیں۔ کوئی مستقل حل تلاش نہیں کیا گیاہے۔ علاقے میں کچرا اٹھانے یا صفائی ستھرا ئی کے لیے کوئی ٹھوس انتظامات نہیں ہیں۔جبکہ برسات کے موسم میں بارش ہونے کے بعد اور بھی زیادہ حالات خراب ہوجاتے ہیں ۔
بتایا جاتا ہے کہ مقامی نمائندوں نے جامع مسجد اور مینا بازار کے علاقوں کی ابتر حالت کے حوالے سے وزیر اعلیٰ اور متعلقہ محکموں کو خط لکھ دیا ہے۔ خطوط پر روشنی ڈالی گئی ہے کہ جامع مسجد ایک ایسی جگہ ہے جہا ں ملک اور بیرون ملک سے سیاح اور زائرین آتے ہیں، اس کے باوجود یہ اس وقت نظر انداز اور بدحا لی کا شکار ہے۔علاقے لوگوں کا الزام ہے کہ صرف خطو کتابت کی دکھاوی کارروائی سے منتخب نمائندے عوام میں صرف یہ پیغام دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ وہ اپنی سطح پر پہل کر رہے ہیں لیکن سرکاری سطح پر سنجیدگی نہیں دکھائی جا رہی ہے ۔ حالانکہ لوگوں کا الزام ہے کہ یہ منتخب عوامی نمائندوں کی ذمے داری بنتی ہے کہ وہ اس مسئلے کو اپنی سطح پر حل کرائیں ۔
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ اگر چاندنی چوک گرودوارہ کی حالت ایسی ہی ہوتی تو کیا ایم ایل اے پنردیپ سنگھ ساہنی شکایت کا انتظا ر کرتے؟ یا 24 گھنٹے میں علاقے کو صاف کر دیا جاتا؟جامع مسجد علاقے کے رہائشیوں کا الزام ہے کہ مذہب کی بنیاد پر امتیازی سلوک کیا جاتا ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ سرکار اور ایم ایل اے سے گٹروں کو منظم طریقے سے صاف کرنے، مستقل نکاسی کا نظام تعمیر کرنے اور پورے علاقے میں باقاعدگی سے صفائی کو یقینی بنانے کے لیے ایک بڑی ہائی پریشر مشین تعینات کی جائے۔
اس تعلق سے سوشل ورکر اور آر ٹی آئی ایکٹیوسٹ محمد شاہد گنگوہی نے سرکار کے متعلقہ محکموں کے ساتھ مقامی ایم ایل اے پنر دیپ سنگھ ساہنی اورمقامی کونسلر سلطان آباد کے سامنے اس حساس معاملے کو لے کر کچھ مطالبات رکھے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ جامع مسجد گیٹ-1 پر پانی کی بھرمار کو فوری طور پر ہٹایا جائے۔موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے بڑی مشینری کا استعمال کرتے ہوئے سیوریج لائنوں کی صفائی کرائی جائے ۔اس کے ساتھ تاریخی شاہجہانی مسجد سمیت شہر کی تمام عبادت گاہوں میں صفائی اور ترقی کے لیے یکساں معیارکو بر قرار رکھا جائے ۔

No Comments:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *