
نئی دہلی،4جولائی (میرا وطن نیوز)
جماعت اسلامی ہند کے سینئر قائدین نے جماعت کے مرکزی دفتر میں منعقدپریس کانفرنس میں ملک کے مختلف حصوں میں مساجد اور کمزور طبقات کو نشانہ بنا کر کی جانے والی انہدامی کارروائیوں، بڑھتی ہوئی بدعنوانی،ایس آئی آر اور جمہوری اداروں کو درپیش چیلنجز پر اپنی گہری تشویش کا اظہار کیا۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جماعت اسلامی ہند کے قومی سیکریٹری شفیع مدنی نے بتایا کہ جماعت اسلا می ہند کے ایک اعلیٰ سطحی وفد نے 29 جون سے 2 جولائی تک باڑمیر، جیسلمیر اور جودھ پور کا دورہ کیا تاکہ ز مینی صورت حال کا جائزہ لیا جا سکے، متاثرہ خاندانوں سے ملاقات کی جائے، مقامی نمائندوں، قا نونی ماہرین اور سول سوسائٹی کے افراد سے تبادلہ خیال کیا جائے اور انتظامیہ کی کارروائیوں کی نو عیت کو سمجھا جا سکے۔
اس موقع پر شفیع مدنی نے ملک کے مختلف حصوں میں مساجد، رہائشی بستیوں اور کمزور آبادیوں کے خلا ف بڑھتی ہوئی انہدامی کارروائیوں کی سخت مذمت کی۔انہوں نے کہا کہ راجستھان، اتر پردیش، مہار اشٹر، گجرات، دہلی اور دیگر ریاستوں میں پیش آنے والے حالیہ واقعات ایک تشویشناک رجحان کی نشا ند ہی کرتے ہیں، جہاں غیر قانونی تعمیرات کے نام پر چلائی جانے والی کارروائیوں کا نشانہ مساجد، مکا نات اور معاشی طور پر کمزور طبقات بن رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ صرف ایک ماہ کے دوران کئی مسا جد کو منہدم یا جزوی طور پر مسمار کیا گیا ہے، جبکہ راجستھان کے سرحدی اضلاع باڑمیر، جیسلمیر اور بیکا نیر میں سکیورٹی کے نام پر کارروائیوں کے دوران مساجد، درگاہوں اور مدارس کو منہدم کیا گیا، جس سے مقامی آبادی میں شدید بے چینی پیدا ہوئی ہے۔ مساجد کو فرقہ وارانہ بنیاد پر نشانہ بنا کر ان کا انہدام پورے ملک کے لیے شرم ناک ہے اور اسے فوری طور پر روکا جانا چاہیے۔
شفیع مدنی نے کہا کہ جماعت اسلامی ہند باڑمیر، بیکانیر اور جیسلمیر کے ان ہندو بھائیوں کی ستائش کرتی ہے جنہوں نے اپنے مسلم پڑوسیوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا اور ان کے مطالبے کی حمایت کی۔ فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور باہمی تعاون کی ایسی مثالیں ہمارے ملک کے سماجی تانے بانے کو اور مضبوط بناتی ہیں۔
اس موقع پر جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر پروفیسر سلیم انجینئر نے ملک میں بڑھتی ہوئی بدعنوانی اور مالی بے ضابطگیوں پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وزراء، اعلیٰ سرکاری افسران اور دیگر بااثر شخصیات پر بدعنوانی کے حالیہ الزامات اخلاقی اقدار اور جوابدہی کے گہرے بحران کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ بدعنوانی اب صرف سیاست، بیوروکریسی یا کاروباری دنیا تک محدود نہیں رہی بلکہ ان اد ا روں تک بھی پہنچ چکی ہے جن پر لاکھوں افراد اپنی عقیدت کا اظہار کرتے ہیں۔انہوںنے کہا کہ جما عت اسلامی ہند کا ماننا ہے کہ ہندوستان کو ادارہ جاتی اصلاحات کے ساتھ ساتھ ایک اخلاقی بیداری کی بھی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ اب تک کی ایس آئی آر کارروائیوں کے نتیجے میں مختلف ریاستوں میں بڑی تعداد میں ووٹروں کے نام فہرستوں سے خارج کر دئے گئے ہیں۔جماعت اسلامی ہند اور دیگر سماجی تنظیموں نے کئی ریاستوں میں ایس آئی آر سہولت مراکز قائم کئے ہیں تاکہ شہریوں کو اس عمل کو سمجھنے، دستاویزات مکمل کرنے اور بوتھ لیول افسران (بی ایل او) کے ساتھ مکمل تعاون کرنے میں مدد فراہم کی جا سکے۔ عوام کو یہ مشورہ دیا جا رہا ہے کہ خوف یا افواہوں کا شکار ہونے کے بجائے آئینی اور قانونی راستہ اختیار کریں۔پروفیسر سلیم انجینئر کہا کہ جماعت الیکشن کمیشن آف انڈیا سے مطالبہ کرتی ہے کہ اس پورے عمل کو شفاف اور آسان بنایا جائے ، اس کے لیے مناسب وقت فراہم کیا جائے، شکایتی نظام قائم کیا جائے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ کوئی بھی ووٹر انتخابی فہرست سے خارج نہ ہو۔
No Comments: