Vinco Paints - Advt

قومی خبریں

خواتین

ایس آئی آر یا این آر سی؟ ووٹ کے حق سے شہریت تک کیا ملک ایک نئے آئینی بحران کی طرف بڑھ رہا ہے ؟ :مولانا ارشد مدنی

ملک میں جو کچھ ہو رہا ہے، وہ محض ووٹر لسٹوں کی نظرثانی نہیں بلکہ شہریوں کے بنیادی جمہوری اور آئینی حقوق سے متعلق ایک نہایت سنگین معاملہ بنتا جا رہا ہے

نئی دہلی، یکم جولائی(میرا وطن نیوز)
جمعیة علماءہند کے صدر مولانا ارشد مدنی نے ووٹر لسٹوں کی خصوصی نظرثانی (ایس آئی آر) کے موجودہ عمل پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں جو کچھ ہو رہا ہے، وہ محض ووٹر لسٹوں کی نظرثانی نہیں بلکہ شہریوں کے بنیادی جمہوری اور آئینی حقوق سے متعلق ایک نہایت سنگین معاملہ بنتا جا رہا ہے۔ اگر ہر شہری کو بار بار اپنی شہریت اور حقِ رائے دہی ثابت کرنے پر مجبور کیا جائے تو یہ صرف ووٹ کا مسئلہ نہیں بلکہ آئین، جمہوریت اور شہری آزادیوں کا مسئلہ ہے۔
مولانا مدنی نے کہا کہ ماضی میں بھی ووٹر لسٹوں کی نظرثانی ہوتی رہی ہے، مگر موجودہ ایس آئی آر اپنی نوعیت، طریق کار اور ممکنہ نتائج کے اعتبار سے بالکل مختلف دکھائی دیتا ہے۔ لاکھوں شہری سرکاری دفاتر کے چکر لگانے، مختلف دستاویزات جمع کرنے اور شدید ذہنی اضطراب کا شکار ہیں، لیکن اس کے باوجود انہیں یہ یقین نہیں کہ ان کا نام ووٹر لسٹ میں برقرار رہے گا۔ اگر ووٹ کا آئینی حق سرکاری صوابدید کا محتاج بن جائے تو یہ جمہوری نظام کے لیے نہایت خطرناک رجحان ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ جمعیة علماءہند نے ابتدا ہی میں خدشہ ظاہر کیا تھا کہ موجودہ ایس آئی آر کہیں این آر سی کی ایک نئی شکل ثابت نہ ہو، اور اب مختلف ریاستوں سے موصول ہونے والی اطلاعات ان خدشات کو مزید تقویت دے رہی ہیں۔ الیکشن کمیشن کی آئینی ذمہ داری آزادانہ، منصفانہ اور شفاف انتخابات کا انعقاد ہے، نہ کہ شہریوں کی شہریت کا تعین کرنا۔ اگر ووٹر لسٹ سے نام خارج ہونا عملی طور پر شہریت پر سوالیہ نشان بن جائے تو یہ آئینی حدود سے تجاوز ہوگا۔
مولانا مدنی نے کہا کہ لگتا ہے کہ ایس آئی آر کی آڑ میں حقیقی شہریوں کو ووٹ کے حق سے محروم کرنے کی کوششیں ہو رہی ہیں اور متعدد ریاستوں میں خصوصاً مسلمانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے مغر بی بنگال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 27 لاکھ ووٹروں کو مشکوک قرار دینا اور ان کے حقِ رائے دہی پر سوالات کھڑے کرنا جمہوریت پر ایک سنگین دھبہ ہے۔ ان کے مطابق دستیاب رپورٹوں سے معلوم ہوتا ہے کہ متاثرہ افراد میں مسلمانوں کی بڑی تعداد شامل ہے، جس سے پورے عمل کی غیر جانب داری کے دعوے پر سوالات پیدا ہوتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایس آئی آر کے اگلے مراحل شروع ہو چکے ہیں، اس لیے مسلمانوں سمیت تمام شہریو ں کو غیر معمولی بیداری، قانونی شعور اور احتیاط کے ساتھ آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔ تمام ضروری د ستا ویزات پہلے سے تیار رکھے جائیں اور فارم کسی جلد بازی یا لاپروائی کے ساتھ ہرگز جمع نہ کیا جائے، کیونکہ معمولی تکنیکی غلطی بھی بعد میں سنگین قانونی پیچیدگی پیدا کر سکتی ہے۔مولانا مدنی نے یقین دلایا کہ جمعیةعلماءہند حسبِ سابق ملک بھر میں اپنے رضاکاروں، وکلاءاور قانونی ماہرین کے ذریعے عوام کی رہنمائی، دستاویزات کی جانچ اور قانونی معاونت کا سلسلہ جاری رکھے گی تاکہ کوئی بھی شہری لاعلمی یا تکنیکی خامی کی بنیاد پر اپنے آئینی اور جمہوری حقوق سے محروم نہ ہو۔
انہوں نے کہا کہ یہ تاثر مضبوط ہوتا جا رہا ہے کہ ووٹر لسٹوں کی نظرثانی کا عمل محض انتخابی فہرستوں کی اصلا ح تک محدود نہیں بلکہ بعض حلقوں میں اسے مسلم ووٹ کے اثر کو کمزور کرنے کے ایک ذریعہ کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔ انہوں نے آسام کی نئی حلقہ بندی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہاں انتخابی حلقوں کی ازسرِ نو تقسیم سے مسلم ووٹ کے اثر کو کمزور کرنے کے خدشات ظاہر کیے گئے تھے، اور اب اندیشہ ہے کہ دیگر ریاستوں میں بھی اسی نوعیت کے اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔
مولانا مدنی نے کہا کہ جب انتظامیہ اور دیگر ادارے انصاف فراہم کرنے میں ناکام رہیں تو سپریم کورٹ عوام کی آخری امید ہوتی ہے۔ انہوں نے ایس آئی آر کے خلاف اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا خیر مقدم کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ عدالتِ عظمیٰ آئین کی بالادستی، شہریوں کے بنیادی حقوق اور انتخابی نظام کی شفافیت کے تحفظ کے لیے مو ¿ثر رہنمائی فراہم کرے گی۔
مولانا مدنی نے کہا کہ آسام میں این آر سی کے دوران جمعیة علماءہند نے ایک تاریخی قانونی جدوجہد کی تھی، جس کے نتیجے میں لاکھوں ہندو اور مسلم خاندانوں کو قانونی امداد فراہم کی گئی اور بے شمار ہندوستانی شہریوں کو غیر ملکی قرار دیے جانے سے بچایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ جمعیة کی یہ جدوجہد کسی ایک طبقے کے لیے نہیں بلکہ آئین، انصاف اور ہر ہندوستانی شہری کے وقار کے تحفظ کے لیے تھی۔
مولانا مدنی نے اخیر میں کہاکہ اگر ایس آئی آر کے نام پر کسی بھی شہری کے حقِ رائے دہی یا دیگر آئینی حقوق پر ضرب لگانے کی کوشش کی گئی تو جمعیة علماءہند ہر قانونی، آئینی اور جمہوری محاذ پر پوری قوت کے ساتھ ان کے شانہ بشانہ کھڑی رہی گی۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت کی بقا اسی میں ہے کہ ہر شہری کا ووٹ محفوظ رہے، آئین کی بالادستی برقرار رہے اور کسی بھی ہندوستانی کو بلاجواز اپنی شہریت ثابت کرنے پر مجبور نہ کیا جائے۔

No Comments:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *