
نئی دہلی ، یکم جولائی (میرا وطن نیوز)
دہلی ہائی کورٹ نے بی جے پی کے راجیہ سبھا رکن راگھو چڈھا کی اپنے ذاتی حقوق کے تحفظ کی درخوا ست پر عبوری حکم جاری کرنے سے انکار کردیا۔ تاہم ، جسٹس سبرامنیم پرساد کی سربراہی والی بنچ نے سو شل میڈیا سے چڈھا کی طرف سے پیش کردہ پانچ ہتک آمیز مواد کو ہٹانے کا حکم دیا۔
عدالت نے 21 مئی کو راگھو چڈھا کی درخواست پر اپنا فیصلہ محفوظ رکھا تھا۔ سماعت کے دوران جسٹس سبرامنیم پرساد نے چڈھا سے کہا کہ ان کے سیاسی فیصلوں پر تنقید بنیادی طور پر ان کے ذاتی حقوق کی خلاف ورزی نہیں ہوتی۔ ہائی کورٹ نے کہا کہ ان کے سیاسی فیصلوں پر تنقید کو ان کے ذاتی حقوق کی خلاف ورزی نہیں سمجھا جا سکتا۔ وہ اس کے خلاف ہتک عزت کا مقدمہ دائر کر سکتے ہیں۔
چڈھا نے اپنے ذاتی حقوق کے تحفظ کے لیے دہلی ہائی کورٹ سے رجوع کیا۔ اپنی درخواست میں چڈ ھا نے الزام لگایا کہ ان کی تصاویر اور ویڈیوز کو غیر مجاز طور پر اے آئی اور ڈیپ فیک ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ ان کے بدلے ہوئے چہرے کو ان کی تقریروں کی مبینہ نمائندگی کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔
اس سے قبل ہائی کورٹ نے حکم دیا تھا کہ کانگریس لیڈر ششی تھرور ، اداکار ارجن کپور ، تیلگو اداکار اللو ارجن ، کہانی کار انیرودھاچاریہ ، ملیالم فلم اداکار موہن لال ، ہندوستانی کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ اور سا بق ایم پی گوتم گمبھیر ، پتنجلی آیورویدکے فاو ¿نڈر بابا رام دیو، اداکارہ سنہکرنا، بالی ووڈ کی اداکارہ کاجول ،اداکار وویک اوبرائے،آندھرا پریش کے نائب وزیراعلیٰ پون کلیان، سابق کرکٹر سنیل گواسکر، فلم اداکا ر سلمان خان ، اداکار اجے دیوگن ، اداکارہ و رکن پارلیمنٹ جیا بچن ، صحافی سدھیر چودھری ، آرٹ آف لیونگ فاو ¿نڈیشن کے بانی سری سری روی شنکر ، اداکارہ تے راو ¿ شنکر، ابھیشیک بچن اور فلم پروڈیوسر کرن جوہر کی اجازت کے بغیر ان کی شخصیت سے متعلق کوئی بھی چیز استعمال نہ کریں۔
No Comments: