
نئی دہلی، 30 جون (میرا وطن نیوز)
عالمی یوم اردو منتظمہ کمیٹی کی میٹنگ جوشی کالونی، نئی دہلی میں جلال الدین اسلم کی صدارت میں منعقد ہوئی،جس میں 9 نومبر کے پروگرام کے سلسلے میں سیرحاصل گفتگو ہوئی۔ گزشتہ برسوں کی طر ح سال رواں 2026 کے موقع پر شائع ہونے والے عالمی یوم اردو یادگار مجلہ کو ’خاندان علم و عمل‘ کے مصنف گورکھپور کی ایک عظیم علمی و ادبی شخصیت محمد حامد علی کی حیات و خدمات سے منسوب کیے جانے کا فیصلہ لیا گیا۔
اس موقع پر جلال الدین اسلم نے اپنے صدارتی کلمات میں کہا کہ اردو داں عوام کو اپنی ذمہ داری خلوص کے ساتھ نبھانی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ مساجد میں ہدایات صرف ہندی میں تحریر کرنے کی روایت عام ہوتی جارہی ہے، یہ اس دور کا سب سے بڑا المیہ ہے۔ اگر ہم اسی طرح اردو سے دور ہوتے چلے گئے تو ہمارے نام بھی کچھ کے کچھ پکارے جائیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اردو کو ترک کرنے کا رواج انتہائی افسوس کی بات ہے۔ اس کا خسارہ ملت اسلامیہ کو کئی لحاظ سے مستقبل میں بھگتنا پڑسکتا ہے۔
عالمی یوم اردو منتظمہ کمیٹی کے کنوینر ڈاکٹر سید احمد خاں نے کہا کہ جلد ہی عالمی یوم اردو ایوارڈ 2026 کا اعلان بھی کردیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ بھارت میں اردو کی ترویج و ترقی کے لیے مرکزی اور صوبائی حکومتوں کے منصوبوں کو عمل میں لانے کی ذمہ داری ہم سب پر لازم ہے اور جمہوریت میں عوام کی آواز اور مطالبات کے مطابق فیصلے ہوتے ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ ہم 9 نومبر ’عالمی یوم اردو‘ کے بہانے خود کا محاسبہ کریں اور عملی کردار نبھانے کی بھرپور کوشش کریں۔
میٹنگ کے اہم شرکاءمیں ڈاکٹر اعزاز علی قادری ،ڈاکٹر عبداللہ خاں، محمد حنیف، حکیم مرتضیٰ دہلوی، حکیم سید نعیم احمد سیوہاروی اور محمد عمران قنوجی وغیرہ کے نام قابل ذکر ہیں۔
No Comments: