Vinco Paints - Advt

قومی خبریں

خواتین

گجرات کے بھج میں مساجد کا انہدام: جمعیت علماءہند کے اعلیٰ سطحی وفد کا متاثرہ علاقوں کا دورہ

قانونی چارہ جوئی پر غور؛ ضلع انتظامیہ سے سوا ل نوٹس دیے بغیر سیدھا بلڈوزر چلاکر انصاف کی پامالی کیوں ؟

نئی دہلی/بھج، 29 جون(میرا وطن نیوز)
گجرات کے سرحدی ضلع کچھ (بھج) میں مساجد، درگاہوں اور دیگر مذہبی املاک کے انہدام کے بعد پورے علاقے میں شدید اضطراب، بے چینی اور تشویش کی فضا قائم ہے۔ زخموں پر مزید نمک چھڑکتے ہو ئے پیر کو تحصیل گاندھی دھام کی تاریخی مسجد جونا کنڈلا کو بھی منہدم کر دیا گیاجسے منفرد طرزِ تعمیر کے با عث علاقے میں نمایاں شناخت حاصل تھی۔اس سنگین صورتحال کے پیش نظر صدر جمعیت علماءہند مولانا محمود اسعد مدنی کی ہدایت پر جمعیت علماءہند کا ایک اعلیٰ سطحی وفد متاثرہ علاقہ پہنچا۔ وفد کی قیادت جمعیت علماءہند کے ناظم عمومی مولانا محمد حکیم الدین قاسمی کررہے ہیں جبکہ اس میں جمعیت کے سینئر ذمہ داران، قانونی ماہرین اور ریاستی عہدیداران بھی شامل ہیں۔
وفد نے سب سے پہلے مسجد جونا کنڈلا کے ذمہ داران اور مقامی افراد سے ملاقات کی، حالات کا براہِ راست جائزہ لیا اور ممتاز قانونی ماہرین وسینئر وکلاءکے ساتھ مشورہ کیا تاکہ دستیاب قانونی راستو ں او ر آئندہ کی حکمت عملی پر غور کیا جا سکے۔ مسجد کے صدر محمد سمار نے بتایا کہ نوٹس دیے بغیر مسجد پر 29 تاریخ کی صبح بلڈوزر چلا دیا گیا۔ جب ہم نے اس پر سوال اٹھایا تو پولیس نے ہمیں زبردستی وہاں سے ہٹا دیا اور ہمیں دھمکیاں بھی دی گئیں۔جبکہ مسجد جونا کنڈلا 1965 سے سرکاری وقف ریکارڈ میں درج ہے۔ مزید برآں مسجد کی عمارت فنِ تعمیر کے اعتبار سے بھی نمایاں اہمیت کی حامل تھی۔ اسی طرح آدی پور کی جامع مسجد کو بھی منہدم کردیا گیا۔
اطلاعات کے مطابق اب تک 30 تعمیرات کو منہدم کیا جا چکا ہے جن میں 11 مذہبی مقامات، 17 تجا ر تی تعمیرات اور 2 رہائشی مکانات شامل ہیں۔ مخالفت کرنے والے 25نوجوانوں کو جیل میں بند کرد یا گیا ہے۔بھج میں مسلمان آبادی تقریباً 35 فیصد اور ضلع کچھ میں تقریباً 25 فیصد ہے۔اتنی بڑی مسلم آبادی کی وجہ سے سرحدی علاقوں میں سیکڑوں مساجد، درگاہیں اور دیگر مذہبی مقامات موجود ہیں۔ یہا ں مسلمان سیاسی، سماجی اور بڑی حد تک معاشی اعتبار سے بھی حاشیے پر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ اس کی ایک واضح مثال یہ ہے کہ بھج تعلقہ میں موجود 78 کچی آبادیوں میں سے 63 ایسی ہیں جہاں صرف مسلمان آباد ہیں۔یہاں کے لوگ سادہ مزاج ہیں ، وہ اپنی عبادت گاہوں کو منہدم ہوتے دیکھ کر شدید غم، صدمے اور بے بسی کا شکار ہیں۔
جمعیت علماءہند کے وفد نے اپنے ابتدائی ردِ عمل میں واضح کیا کہ اگر کوئی مسجد، درگاہ یا دیگر مذہبی مقام قانونی طور پر وقف ریکارڈ میں درج ہو تو اس کے بارے میں کسی بھی انتظامی کارروائی سے قبل متعلقہ قو انین، قدرتی انصاف کے اصولوں اور آئینی ضمانتوں کی مکمل پابندی ناگزیر ہے۔ مذہبی مقامات سے متعلق معاملات انتہائی حساس نوعیت کے ہوتے ہیں، اس لیے سپریم کورٹ نے اپنے مختلف فیصلو ں میں انتظامیہ کو پابند کیا ہے کہ وہ مذہبی مقامات سے متعلق کارروائی اس انداز میں انجام دے کہ شہریوں کے مذہبی جذبات مجروح نہ ہوں اور قانون کی حکمرانی پر عوام کا اعتماد برقرار رہے۔دوسرت طرف وفد نے یہ بھی محسوس کیا کہ مذکورہ علاقہ سرحد کافی دور ہے، اس کے باوجود بھی سرحد کے نام پر یہ کارروائی ناقابل فہم ہے۔
وفد نے مقامی مسلمانوں کو دلاسہ دیتے ہوئے یقین دلایا کہ اس ناانصافی کے خلاف ہر ممکن قانونی جد وجہد کی جائے گی۔ وفد کے ارکان نے کہاکہ وہ جلد ہی بھج انتظامیہ سے بھی ملاقات کریں گے۔ وفد اپنی تفصیلی رپورٹ صدر جمعیت مولانا محمود اسعد مدنی کی خدمت میں پیش کرے گا، جس کی روشنی میں آئندہ کے قانونی، تنظیمی اور عوامی اقدامات کا باضابطہ اعلان کیا جائے گا۔
جمعیت علماءہند کے وفد میں مولانا محمد حکیم الدین قاسمی، حاجی محمد ہارون، عتیق الرحمن قریشی اورمولانا ابوالحسن پالن پوری ،نور محمد رائما، سلیم بھائی رائما، مفتی انیس ، عبدالکریم بافن اور انیس بھائی قریشی شامل تھے ۔ازیں قبل احمد آباد میں ایک اہم میٹنگ منعقد ہوئی جس میں پروفیسر نثار احمد انصاری اور ایڈوکیٹ طاہر حکیم بھی شامل تھے۔

No Comments:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *