
چاندنی چوک ضلع کانگریس کی جانب سے ایوان غالب میں منعقد پروگرام میںطلبا کی بھیڑ امڈی
نئی دہلی ،24جون (میرا وطن نیوز )
کانگریس رہنما لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر جن نائک راہل گاندھی کے ذریعہ حالیہ میں راجستھان کے کوٹا میں ملک کے ایجوکیشن سسٹم کی سچائی کو اجاگر کرنے کے حوالے سے ’چھاتروں کی گونج ‘ پروگرام کا سلسلہ شر و ع ہوگیا ہے ۔اسی تناظر میں دہلی پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر دیویندر یادو کی رہنمائی میں چاند نی چو ک ضلع کانگریس کمیٹی کی جانب ایوان غالب آڈیٹوریم میں’طلبہ کی آواز‘کے عنوان سے تقر یب منعقد کی گئی جس کا اہتمام شہر ضلع چاندنی چوک صدر محمد عثمان کے ذریعہ کیا گیا تھا ۔انہوں نے کہا
کانگریس پارٹی نے 14 جولائی کو دہلی میں طلباءکے ایک بڑے اجتماع کو منظم کرنے کے منصوبوں کا بھی اعلان کیا،یہ پروگرام اسی کڑی کا ایک حصہ ہے۔
آج ایوان غالب میں ’چھاتروں کی گونج ’کے عنوان سے منعقد پروگرام میں ملک کے موجودہ تعلیمی نظا م کی حقیقتو ں پر رو شنی ڈالی گئی، جس کوراہل گاندھی نے شروع کیا ہے اور جلسوں میں متاثرطلبا سے رو برو ہورہے ہیں ۔ اس پروگرام میںریاستی کانگریس صدر دیویندر یادو نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی اور دیگر مہمانوں میں اے آئی سی سی دہلی انچارج قاضی نظام الدین، جے پور کے ایم ایل اے رفیق خان (جے پور)، انل بھاردواج،ڈاکٹرنریندر ناتھ،محمود ضیا ، سی پی متل، بھوپیش یادو، پشپا سنگھ، پریرنا سنگھ، اور عمر ہارون سمیت بڑی تعداد میںطلباءاور ان کے اہل خانہ نے شرکت کی۔ راہل گاندھی کے ذریعہ کوٹا ریلی میں ملک تعلیمی نظام کے بارے حقیقت پر مبنی پر فٹیج کو اسکرین پر دکھایا گیا ۔
اس موقع پر دیویندر یادو نے کہا کہ کانگریس طلبا کے ساتھ کھڑی ہے اور جہاں جہاں بھی ان کے ساتھ نا انصافی ہورہی ہے پارٹی کی مختلف ونگ اس کے خلاف آواز اٹھا رہی ہیں ۔انہوں نے کہا کہ موجودہ بی جے پی سرکار پیپر لیک سرکار ہے اور اسی نام سے جانی جائے گی ۔انہوں نے کہا کہ کانگریس اعلیٰ کمان نے طے کیا ہے کہ طلبا کی لڑائی ایوانوں کے ساتھ سڑکوں پر مضبوطی کے ساتھ لڑی جائے گی ۔ اس موقع پرشہر ضلع چاندنی چوک صدر محمد عثمان نے کہا کہ موجودہ بی جے پی سرکار کی مدت میں اتنی بڑی تعداد میں پیپر لیک ہوئے ہیں، ملک بھر میں پیپر لیک ہونے کے واقعات کی مثال نہیں ملتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جن نائک راہل گاندھی کے ذریعہ طلبا کے حق میں شروع کی گئی مہم تحریک کی شکل اختیار کرے گی اور سرکار کو آخر کار جھکنا ہی پڑے گا ۔
No Comments: