Vinco Paints - Advt

قومی خبریں

خواتین

اوکھلا اسمبلی حلقہ کے ذاکر نگر وارڈ کے تحت مختلف علاقوں غیر اعلانیہ بجلی کٹوتی کا سلسلہ جاری

بی ایس ای ایس نے بجلی سے متعلق مقامی لوگوں کوجانکاری دینے کےلئے گروپ دیا ہے تشکیل

تقریباً 72افراد مشتمل گروپ میں 21بی ایس ای ایس کے افسر اور ملازمین شامل ہیں
گروپ میں مسیج کرنے کے باوجودغیر اعلانیہ بجلی کٹوتی کی اپڈیٹ نہیں کرائی جا رہی ہے مہیا

نئی دہلی ،26مئی (میرا وطن نیوز )
ملک اور قومی راجدھانی میں پڑ رہی گرمی نے لوگوں کے ہوش اڑا دیے ہیں ۔راجدھانی کی اگر بات کی جائے تب مسلسل درجہ حرارت بڑھنے کی وجہ سے لوگوں کا گھروں میں رہنا اور گھروں سے باہر نکلنا دو بھر ہورہا ہے ۔اس کی وجہ بجلی کمپنیوں کے ذریعہ غیر اعلانیہ کٹوتی کو بتایا جا رہا ہے ۔دہلی میں2گھنٹے تک کی بجلی کٹوتی کا اعتراف وزیر توانائی آشیش سود بھی کر رہے ہیں ۔حالانکہ ان کی دلیل ہے کہ پچھلے سال دو گھنٹے سے زائد کی کٹوتی ہوتی رہی ۔بتایا جا رہا ہے کہ بہت سے علاقوں میں دو سے تین گھنٹے اور اس سے زائد وقت تک کٹوتی ہورہی ہے ۔عید الضحٰی کا تہوار سر پر ہے ،اس کے باوجود اوکھلا اسمبلی حلقہ میں غیر اعلانیہ بجلی کٹوتی کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے ۔
ابل ذکر ہے کہ اوکھلا اسمبلی حلقہ کے تحت ذاکر نگر وارڈ میںبجلی کٹوتی سمیت بجلی سے متعلق جانکاری کے لئے “Batla House/Joga Bai/Zakir Nagar BSES Group”بنایا گیا ہے ۔یہ گروپ حلقہ کے لوگوں کو بجلی سے متعلق اپڈیٹ ملتی رہے بجلی کمپنی بی ایس ای ایس کے ذریعہ ہی تشکیل دیا گیا ہے ۔اس گروپ میں تقریباً 72افراد ہیں جن میں تقریباً 21بی ایس ای ایس کے افسر اور ملازمین ہیں ۔دلچسپ یہ ہے کہ کچھ وقت پہلے تک گروپ میں بجلی کٹوتی اور دیگر بجلی کی جانکاری ملتی رہتی تھیں ،فی الحال چند ایک معاملے میں ملتی ہے ۔لیکن زیادہ تر معاملوں میں لوگوں کو جانکاری مہیا نہیں کرائی جا رہی ہے ۔گروپ میں کئی کئی بار میسیج لکھنے کے باوجود بھی وقت رہتے کوئی جانکاری نہیں د ی جا رہی ہے جس کی وجہ سے لوگ ناراض ہیں ۔دلچسپ کہ یہ بجلی کٹوتی غیر اعلانیہ کی جا رہی ہے اور بجلی کب آئے گی کوئی جواب نہیں دیا جا رہا ہے
بتایا جاتا ہے کہ گزشتہ رات دو پہر تک ذاکر نگر کی گلی نمبر 36اور اس سے ملحق نصف درجن گلیوں میں چا ر بارگھنٹوں بجلی کٹوتی کی گئی ۔اس سلسلے میں علاقے میں رہائش پذیر ایک سینئرصحافی کے ذریعہ گروپ میں بار بار بجلی کٹوتی کی اپڈیٹ مانگی جاتی رہی لیکن گروپ میں موجود بی ایس ای ایس کے 21افسر او ر ملازمین میں سے کسی ایک نے بھی میسج کا جواب نہیں دیا ۔اس سے قبل بھی صحافی کے ذریعہ جمعرات اور ہفتے کو بھی گروپ میں بجلی کٹوتی ہونے کی اپڈیٹ کے میسیج کئے لیکن کوئی ریسپانس نہیں ملا ۔اس کے بعد صحافی نے مقامی ایم ایل اے امانت اللہ خان کو بھی میسیج کیا کہ بی ایس ای ایس نے ایک گروپ بنایا ہے لیکن اب اس پر جانکاری مہیا نہیں کرائی جا رہی ہے ۔ انہوں نے اس معاملے کو دیکھنے کی بھی یقین دہانی کرائی ہے ۔

No Comments:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *