
نئی دہلی، 30 دسمبر(میرا وطن )
دہلی سرکار نے ’دہلی جن وشواس (ترمیمی دفعات) بل، 2026′ کو منظوری دے دی ہے۔ وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے کہا کہ دہلی کابینہ کے ذریعہ منظور کردہ اس بل کا مقصد تعمیل کے طریقہ کار کو آسان بنانا اور معمولی خلاف ورزیوں کو مجرمانہ قرار دینا ہے، اس طرح عدالتوں پر بوجھ کو کم کرنا اور انتظامی عمل کو مزید موثر بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بل پبلک ٹرسٹ (ترمیمی دفعات) ایکٹ، 2023/2025 کے مطابق ہے، جسے مرکزی سرکارنے نافذ کیا ہے، جو مرکزی قوانین میں معمولی جرائم کو مجرم قرار دیتا ہے۔
وزیر اعلیٰ نے اس بل کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ دہلی سرکار اس بل کے ذریعے ’کاروبار کرنے میں آسانی‘اور ’زندگی گزارنے میں آسانی‘کو فروغ دینے کے لیے پوری طرح پابند ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ 2023 میں مرکزی سرکار کے ذریعہ نافذ کردہ عوامی وشواس (ترمیمی دفعات) ایکٹ نے مرکزی قوانین میں معمولی، تکنیکی اور طریقہ کار کی خلاف ورزیوں کو مجرم قرار دیا ہے۔
ریکھا گپتا نے کہا کہ اسی مناسبت سے ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو بھی اپنے قوانین پر نظر ثانی کرنے کا مشورہ دیا گیا تھا۔ اس کے مطابق دہلی سرکار نے ریاستی سطح کی قانون سازی کی اصلا حا ت کے حصے کے طور پر اپنے مختلف قوانین کا مکمل جائزہ لیا اور پایا کہ بہت سے معاملات میں، دیوانی سزائیں فوجداری سزاو ¿ں سے زیادہ مناسب اور عملی ہیں۔
ریکھا گپتا نے واضح طور پر کہا کہ یہ بل لاقانونیت کو فروغ دینے کے لیے نہیں بلکہ سزا کے تناسب کو یقینی بنانے کے لیے پیش کیا گیا ہے۔ یہ بل معمولی، تکنیکی اور طریقہ کار کی خلاف ورزیوں کے لیے فوجداری مقدمات کو ختم کر دے گا، ان کی جگہ دیوانی جرمانے، انتظامی جرمانے اور اپیلیں لے گا۔ صحت عامہ، حفاظت اور زندگی سے متعلق سنگین جرائم کے لیے سخت دفعات برقرار رہیں گی۔ اس سے عدالتوں پر مقدمات کا بوجھ کم ہوگا اور انتظامی کارکردگی میں اضافہ ہوگا۔
کن قوانین میں ترمیم کی تجویز ہے؟
وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ اس بل میں شامل ایکٹ یہ ہیں:
دہلی انڈسٹریل ڈیولپمنٹ، آپریشن اور مینٹیننس ایکٹ، 2010
دہلی شاپس اینڈ اسٹیبلشمنٹ ایکٹ، 1954
‘ناقابل یقین انڈیا’ بیڈ اینڈ بریک فاسٹ اسٹیبلشمنٹس (رجسٹریشن اینڈ ریگولیشن) ایکٹ، 2007 کا قومی دارالحکومت علاقہ
دہلی زرعی پیداوار مارکیٹنگ (ریگولیشن) ایکٹ، 1998
دہلی واٹر بورڈ ایکٹ، 1998
دہلی پروفیشنل کالجز/انسٹی ٹیوٹ ایکٹ، 2007
دہلی ڈپلومہ لیول ٹیکنیکل ایجوکیشن انسٹی ٹیوٹ ایکٹ، 2007
ان تمام ایکٹ میں معمولی جرائم کو مجرمانہ قرار دینے اور انہیں دیوانی سزاو ¿ں میں تبدیل کرنے کی تجویز ہے۔
جرمانے میں وقتاً فوقتاً اضافے کا انتظام
بل میں یہ بھی تجویز کیا گیا ہے کہ ایکٹ کے نافذ ہونے کے بعد ہر تین سال بعد جرمانے کی رقم میں خود بخود 10 فیصد اضافہ ہو جائے گا، تاکہ جرمانے مہنگائی اور لاگت میں اضافے کے مطابق موثر رہیں
No Comments: