Vinco Paints - Advt

قومی خبریں

خواتین

جامعہ ملیہ اسلامیہ کی جامع مسجد کے امام قاری محمد سلیمان قاسمی کا انتقال

قاری محمد سلیما ن قاسمی کی نمازِ جنازہ جامعہ کی جامع مسجد میں ادا کی گئی

بڑی تعداد میں سوگواروں کی موجودگی میںجامعہ کے قبرستان میں سپردِ خاک
جامعہ برادری نے ان کے انتقال کو ایک اہم دینی اور سماجی شخصیت کا نقصان قرار دیا

نئی دہلی،18ستمبر (میرا وطن نیوز )
جامعہ ملیہ اسلامیہ کی جامع مسجد کے طویل عرصے تک خدمات انجام دینے والے امام اور خطیب، مولانا قاری محمد سلیمان قاسمی جمعرات کی رات انتقال کر گئے۔ وہ کافی عرصے سے علیل تھے اور دہلی کے سا کیت علاقے میں واقع میکس اسپتال میں زیر علاج تھے، جہاں انہوں نے آخری سانس لی۔ ان کے انتقال کی خبر نے جامعہ ملیہ اسلامیہ کیمپس اور قومی راجدھانی سمیت ملک اور بیرونی ممالک میں غم کی لہر دوڑا دی۔
قاری محمد سلیما ن قاسمی کی نمازِ جنازہ جامعہ کی جامع مسجد میں ادا کی گئی۔ اس کے بعد انہیں جامعہ کے قبرستان میں سپردِ خاک کر دیا گیا۔ جنازے میں بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی اور مرحوم کی مغفر ت کے لیے دعا کی۔ نمازِ جنازہ میں نہ صرف جامعہ ملیہ اسلامیہ سے وابستہ افراد بلکہ دہلی اور گردونواح کے مذہبی رہنماو ¿ں، سماجی کارکنوں اور مقامی باشندوں نے بھی شرکت کی۔ لوگوں نے اس بات کا اظہا ر کیا کہ قاری سلیمان قاسمی نے اپنی طویل مذہبی خدمات کے ذریعے معاشرے اور جامعہ برادری کے لیے نمایاں خدمات انجام دی تھیں۔
اطلاعات کے مطابق، مولانا قاری محمد سلیمان قاسمی کچھ عرصے سے بیمار تھے۔ طبیعت بگڑنے پر انہیں ساکیت کے میکس ہسپتال میں داخل کرایا گیا تھا، جہاں جمعرات کی رات ان کا انتقال ہو گیا۔ وہ 83 برس کے تھے۔پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ چار بیٹے اور چار بیٹیاں ہیں۔ان کے انتقال کی خبر نے ان کے اہل خانہ، واقف کاروں اور جامعہ ملیہ اسلامیہ سے وا بستہ افراد کو غمزدہ کر دیا۔ دہلی کی مختلف مسلم دینی اور سماجی تنظیموں نے بھی ان کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔
واضح رہے کہ قاری محمد سلیمان قاسمی نے50سال کے طویل عرصے تک جامعہ ملیہ اسلامیہ کی جامع مسجد کے امام اور خطیب کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ امامت کے فرائض کی ادائیگی کے علاوہ، وہ جمعہ کی نماز اور دیگر خصو صی مواقع پر خطبے بھی دیا کرتے تھے۔ وہ اپنے دینی علم، سادگی اور عاجزانہ رویے کی وجہ سے جامعہ برادری اور مقامی رہائشیوں میں انتہائی قابلِ احترام تھے۔ اپنے مثبت فکری نظریات اورافکار کے پیش نظر تمام مکتب فکر میں ان کی قدر و منزلت تھی ۔
قابل ذکر ہے کہ مسجد کے ساتھ ان کا تعلق محض دینی فرائض کی ادائیگی تک محدود نہیں تھا؛ ان کے طویل دورِ خد مت نے یونیورسٹی کے طلبہ، اساتذہ، عملے اور مقامی آبادی کے ساتھ گہرے تعلقات استوار کیے تھے ۔ملک اور بیرونی ملک جامعہ برادری نے ان کے انتقال کو ایک اہم دینی اور سماجی شخصیت کا نقصان قرار دیا ہے۔
جامعہ ملیہ اسلامیہ اور دہلی کی مسلم برادری سے وابستہ افراد نے ان کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ سوگواروں نے قاری محمد سلیمان قاسمی کی وفات کو مذہبی اور سماجی دونوں شعبوں کے لیے ایک بڑا نقصان قرار دیا۔ ان کے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے، ان کے عقیدت مندوں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ انہیں جنت الفردوس (جنت کا اعلیٰ ترین مقام) میں جگہ عطا فرمائے۔
مرحوم قاری محمد سلیمان کی تدفین میں ممبر پارلیمنٹ محب اللہ ندوی ،ایم ایل اے امانت اللہ خان اور ڈا کٹر سید فاروق نے شامل ہو کر اظہار تعزیت پیش کیا ۔
اس موقع پر پروفیسر اختر الوسع نے قاری محمد سلیمان کے انتقا ل پر رنج و غم کا اظہار کیا ہے ۔انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ امام صا حب نے تقریباً پچاس سال تک جس خوش اسلوبی کے ساتھ امام کے فرا ئض انجام دیے وہ انہیںکا سیوا تھا ۔انہوں نے بتایا کہ جامعہ کے اسکول میں بھی ان کا تقرر ہوا تھا، جس سلیکشن کمیٹی میں مرحوم کا تقرر کیا تھا اس میں ،میں بھی شامل تھا ۔

No Comments:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *