
نئی دہلی، 24 جون(میرا وطن نیوز )
دہلی بی جے پی کے صدر ہرش ملہوترا اور یمناپر وکاس بورڈ کے چیئرمین سردار ارویندر سنگھ لولی نے بدھ کو ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں پنجاب کے وزیر اعلیٰ سردار بھگونت مان کی سکھ ’مریدا‘ کی خلاف ورزی کرنے اور اس کے بعد سکھ ’سنگت‘اور قوم کو گمراہ کرنے کے لیے فرضی رپورٹ حاصل کرنے کے لیے ا د ائیگی کرنے کی شدید مذمت کرتے ہوئے وزیراعلیٰ عہدے سے استعفیٰ کا مطالبہ کیا۔ایک شکایت کے بعدسکھوں کے اعلیٰ ترین ادارے سری اکال تخت صاحب نے ویڈیو کی دو سرکاری لیبارٹریوں سے جانچ کی، اور پنجاب کے وزیر اعلیٰ سردار بھگونت مان کو قصوروار پایا گیا۔
اس موقع پردہلی بی جے پی کے سکریٹری سردار امپریت سنگھ بخشی نے میڈیا ہیڈ پروین شنکر کپور کی موجود گی میں کہا کہ دہلی میں اروند کجریوال کی طرح سردار بھگونت مان کو سکھ ’مریدا‘ کی خلاف ورزی کی وجہ سے پنجاب کے آئندہ انتخابات میں عبرتناک شکست کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہو ںنے کہا کہ چند ماہ قبل ایک ویڈیو منظر عام پر آیا تھا جس میں پنجاب کے وزیر اعلیٰ سردار بھگونت مان سکھ ’مریدا‘ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے دکھائے گئے تھے۔
کچھ دن پہلے سری اکال تخت صاحب کے ’سنگھ صاحبان‘ نے ایک فرمان جاری کیا جس میں کہا گیا تھا کہ کوئی بھی سکھ سردار بھگونت مان کے ساتھ کسی قسم کی رفاقت برقرار نہ رکھے۔ہرش ملہوترا نے کہا کہ اس کے بعد پنجاب میں عام آدمی پارٹی کیسرکار نے سری اکال تخت صاحب کی طرف سے لگائے گئے الزامات کی تردید کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ یہ ویڈیو جعلی ہے اور اس میں سردار بھگونت مان کو نہیں دکھایا گیا تھا۔
پنجاب سرکارنے ایک پرائیویٹ لیبارٹری سے ٹیسٹ رپورٹ بھی پیش کی جس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ ویڈیو میں موجود شخص سردار بھگونت مان نہیں تھے۔دہلی بی جے پی کے صدر نے کہا کہ کل رات ویڈیو منظر عام پر آئے، جس سے ہریانہ پولیس کو ایف آئی آر درج کرنے پر مجبور کیا گیا۔ اس کے بعد، لیبارٹری کے مالک نے انکشاف کیا کہ پنجاب پولیس کے دو افسران نے اس سے زبردستی کی اور رپور ٹ بنانے کے لیے 10 لاکھ روپے رشوت کی پیشکش کی۔
ہرش ملہوترا نے سوال کیا کہ پنجاب حکومت نے نجی لیبارٹری سے تصدیق کیوں طلب کی جب کہ سری اکال تخت صاحب نے پہلے ہی سردار بھگونت مان کی ویڈیو کو سرکاری لیبارٹری سے جانچنے کا انتظام کر رکھا تھا۔دہلی بی جے پی کے صدر نے کہا کہ یہ اب واضح ہے کہ سردار بھگونت مان نے سکھ ’مریادا‘ کی خلاف ورزی کی ہے اور ملک بھر کی پنجابی برادری پنجاب کے وزیر اعلیٰ کے عہدے سے ان کے استعفیٰ کا مطالبہ کرتی ہے۔
سردار ارویندر سنگھ لولی نے ریمارکس دیے کہ یہ محض سیاسی مسئلہ نہیں ہے بلکہ اس سے ان لوگوں کے جذ با ت کو ٹھیس پہنچتی ہے جو گرووں پر یقین رکھتے ہیں۔ ممتاز وزرائ، وزرائے اعلیٰ اور عہدیدار ماضی میں اکال تخت کے سامنے پیش ہو چکے ہیں۔ آج سردار بھگونت مان اور عام آدمی پارٹی نے اسی ادار ے کو چیلنج کرنے کی کوشش کی ہے۔انہوں نے کہا کہ بھگونت مان کو فوری طور پر استعفیٰ دے دینا چاہیے، اور وہ تمام لوگ جنہوں نے وزیر اعلیٰ کی حمایت کی ہے انہیں سکھ برادری سے معافی مانگنی چاہیے۔
سردار ارویندر سنگھ لولی نے نشاندہی کی کہ عام آدمی پارٹی کے سربراہ اروند کجریوال نے اس پورے معا ملے پر خاموشی اختیار کر رکھی ہے، جس سے سکھوں کے حوالے سے ان کی ذہنیت کا پتہ چلتا ہے۔ انہو ں نے کہا کہ چونکہ وزیر اعلیٰ کے پاس ہوم پورٹ فولیو بھی ہے، بھگونت مان کی طرف سے اپنی بدتمیزی کو چھپانے کے لیے پولیس افسران کا استعمال قابل مذمت ہے۔
No Comments: