
عام آدمی پارٹی حکمت عملی کر رہی ہے تیار ، کانگریس بھی مصروف،آئی وی پی بھی اہم کردار کےلئے تیار
23 اپریل کو ہونے والی نامزدگیوں سے پتہ چل جائے گا کہ دہلی کا اگلا میئر اور ڈپٹی میئر کون بنے گا
نئی دہلی،16اپریل (میرا وطن نیوز )
دہلی کا اگلا نیا میئر اور ڈپٹی میئر کون بنے گا یہ سوال 23 اپریل کو کاغذات نامزدگی داخل کرنے کے ساتھ ہی طے ہو جائے گا۔ بی جے پی – فی الحال کارپوریشن میں اقتدار پر قابض ہے – اور اپوزیشن عام آدمی پارٹی 23 اپریل کو اپنے اپنے امیدواروں کے کاغذات نامزدگی داخل کرکے اپنے دعوے کو باضابطہ طور پر پیش کرے گی۔ میئر اور ڈپٹی میئر کے انتخابات کے لیے نامزدگی کے عمل کے بعد، اصل انتخاب کارپوریشن کے ہیڈکواٹرمیں29 اپریل کو ہونے والی ہاو ¿س میٹنگ کے دوران کرایا جائے گا۔ قابل ذکر ہے کہ موجودہ میئر، اسٹینڈنگ کمیٹی کی چیئرپرسن سمیت کئی دیگر عہدیداران اور مختلف کمیٹیوں اور وارڈز کے عہدیداران پہلے ہی لائن میں لگے ہوئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق، بی جے پی کے اندر مختلف دھڑوں سے تعلق رکھنے والے لیڈران پارٹی کی ’ہائی کمان‘ (مرکزی قیادت) کے لیے سرگرم لا بنگ کر رہے ہیں۔ چونکہ کارپوریشن کے اندر میئر کا عہدہ اس بار کسی مخصوص زمرے کے لیے مختص نہیں کیا گیا ہے، اس لیے قیادت کا عہدہ ممکنہ طور پر کسی مرد یا خاتون کونسلر کو دیا جا سکتا ہے۔
قیاس آرائیاں یہ بھی ہیں کہ اس بار ایک خاتون کونسلر کو میئر منتخب کیا جا سکتا ہے، اس لیے کہ ’ناری شکتی وند ن ادھینیم‘ (خواتین ریزرویشن ایکٹ) اس وقت قومی گفتگو کا ایک اہم موضوع ہے۔ اگرچہ کارپو ر یشن کے اندر تقریباً دو درجن لیڈروں کے نام ان عہدوں کے دعویدار کے طور پر سرخیوں میں ہیں، ا بھی تک کوئی ٹھوس یا قطعی معلومات سامنے نہیں آئی ہیں۔
اپوزیشن عام آدمی پارٹی بھی خاموشی سے ان اہم عہدوں کے حوالے سے اپنی حکمت عملی بنانے میں مصر وف ہے۔ کانگریس پارٹی کے علاوہ، ایک تیسری سیاسی جماعت – اندرا پرستھ وکاس پارٹی (آئی وی پی ) – کے بھی میئر اور ڈپٹی میئر کے انتخابات میں اہم کردار ادا کرنے کی امید ہے۔ عام آدمی پارٹی سے علیحدگی کے بعد تشکیل پانے والی پارٹی IVP سے تعلق رکھنے والے کونسلر اس موقع سے فائدہ اٹھا نے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کونسلرز کو متحد رکھنا حکمران جماعت اور اپوزیشن دونوں کے لیے ایک چیلنج بنی ہوئی ہے۔ تاہم، یہ دیکھتے ہوئے کہ بی جے پی، کارپوریشن میں اقلیت کے ساتھ منتخب ہونے کے باوجود، فی الحال اقتدار پر قابض ہے، ان کونسلروں کا کردار خاصا اہم ہو جاتا ہے۔
No Comments: