
نئی دہلی،22جولائی(میرا وطن نیوز)
دہلی ہائی کورٹ نے 20 جولائی کو پارلیمنٹ مارچ کے دوران مبینہ پولیس زیادتی کے خلاف دائر درخوا ست پر مرکزی سرکار اور دہلی پولیس کو نوٹس جاری کرتے ہوئے واقعے کی سی سی ٹی وی اور دیگر ویڈیو ریکارڈنگ محفوظ رکھنے کی ہدایت دی ہے۔چیف جسٹس ڈی کے اپادھیائے کی سربراہی والی بنچ نے دہلی پولیس کو حکم دیا کہ واقعے سے متعلق تمام سی سی ٹی وی فوٹیج اور دیگر ویڈیو شواہد محفوظ رکھے جائیں۔ عدالت نے کیس کی اگلی سماعت 11 ستمبر مقرر کی ہے۔
سماعت کے دوران درخواست گزاروں کی جانب سے سینئر وکیل این ہری ہرن نے عدالت کو بتایا کہ جنتر منتر پر طلبہ پرامن احتجاج کر رہے تھے اور وہ اپنے آئینی حق کا استعمال کر رہے تھے، لیکن پولیس نے ان کے ساتھ سخت اور غیر ضروری طاقت کا استعمال کیا۔انہوں نے کہا کہ دہلی پولیس کے پاس احتجاج کو پُرامن طریقے سے کنٹرول کرنے کی صلاحیت موجود تھی، مگر اس کے باوجود مبینہ طور پر سخت کارروائی کی گئی۔
درخواست گزاروں کی جانب سے پیش ہونے والے ایک اور سینئر وکیل وکاس سنگھ نے کہا کہ کہیں بھی یہ نہیں بتایا گیا کہ مظاہرین نے تشدد کا راستہ اختیار کیا تھا۔ ان کے مطابق متعدد ویڈیوز میں پولیس کی مبینہ سخت کارروائی دیکھی جا سکتی ہے۔ انہوں نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ جن لاٹھیوں سے طلبہ کو مارا گیا، ان میں کیلیں لگی ہوئی تھیں، جبکہ پتھروں اور بجلی کے کرنٹ کا بھی استعمال کیا گیا۔
واضح رہے کہ کاکروچ جنتا پارٹی کی جانب سے نیٹ پرچہ لیک معاملے میں مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کے مطالبے پر 20 جون سے جنتر منتر پر احتجاج جاری تھا۔ اس احتجاج کے دوران سونم وانگچک نے 28 جون سے غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال شروع کی تھی۔ تقریباً 20 روز بعد انہیں جنتر منتر سے صفدر جنگ اسپتال منتقل کر دیا گیا۔20 جولائی کو مظاہرین نے پارلیمنٹ مارچ کیا، جس کے دوران دہلی کے مختلف مقامات پر پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔
درخواست میں الزام لگایا گیا ہے کہ پولیس نے متعدد مقامات پر مظاہرین کے خلاف لاٹھی چارج کیا، آنسو گیس کے گولے داغے اور ضرورت سے زیادہ طاقت استعمال کی۔ اس سلسلے میں کنّاٹ پلیس، پار لیمنٹ اسٹریٹ اور دیگر تھانوں میں مقدمات بھی درج کیے گئے ہیں۔
No Comments: