
آئین اور قانون پر واقعی ہر شہری اور ہر مذ ہب کےلئے یکساں طور پر عمل کیا جاتا ہے؟
نئی دہلی ،5ستمبر(میرا وطن نیوز)
جمعیة علماءہند کے صدر مولانا ارشد مدنی نے سہارنپور کلکٹریٹ میں واقع ایک قدیم مسجد کو صبح تقریباً پانچ بجے منہدم کیے جانے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس واقعے نے ایک بار پھر ملک کے سامنے یہ بنیادی سوال کھڑا کر دیا ہے کہ کیا آئین اور قانون پر واقعی ہر شہری اور ہر مذ ہب کے لیے یکساں طور پر عمل کیا جاتا ہے؟ اگر آئین سب کو برابری کا حق، مذہبی آزادی اور قانون کا یکساں تحفظ فراہم کرتا ہے تو اسے عملی طور پر نافذ کرنے میں یہ دوہرا معیار کیوں دکھائی دیتا ہے؟
مولا نا مدنی نے کہا کہ سہارنپور کا واقعہ صرف ایک مسجد کا معاملہ نہیں ہے بلکہ یہ آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی، مذہبی آزادی، شہری مساوات اور ریاست کے غیر جانب دار کردار سے جڑا ہوا ایک انتہائی حساس معاملہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ 1991 میں جو عبادت گاہوں سے متعلق قانون بنایا گیا تھا، وہ اب بھی موجود ہے۔ انتظامیہ کی یہ کارروائی نہ صرف اس قانون کی خلاف ورزی ہے بلکہ نئے وقف قانون میں موجود ’وقف بائی یوزر‘ کی شق کی بھی واضح خلاف ورزی ہے۔ مسجد وقف بورڈ میں رجسٹرڈ ہے اور اس کا رجسٹریشن نمبر 451 ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ یہ زمین ابتدا ہی سے یعقوب خان اور وحید خان کے نام پر ہے، اس کے باوجود یہ کارروائی کس قانون کے تحت کی گئی؟انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر غیر قانونی قبضہ اور تجاوزات ہی کارروائی کا واحد معیار ہے تو پھر یہی معیار ہر مذہب اور ہر طبقے کے لیے یکساں ہونا چاہیے۔لیکن اس طرح کے بہانوں اور وجوہات کی بنیاد پر صرف ایک مخصوص برادری کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
مولانا مدنی نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ اگر ملک کے مختلف حصوں میں سرکاری زمینوں، سڑکوں، عوامی مقاما ت اور دیگر جگہوں پر برسوں اور دہائیوں سے مذہبی تعمیرات موجود ہیں تو کیا ان تمام تعمیرات کے خلا ف بھی انتظامیہ اسی عجلت، اسی سختی اور اسی معیار کے تحت کارروائی کر رہی ہے؟ اگر ایسا نہیں ہے تو پھر کسی ایک مذہبی مقام کے معاملے میں غیر معمولی سختی انصاف کے اصول پر سوال کھڑا کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ کسی مذہبی مقام کی ملکیت یا زمین سے متعلق قانونی تنازع کا فیصلہ عدالت میں کیا جا سکتا ہے، لیکن طویل عرصے سے جاری مذہبی استعمال، تاریخی دستاویزات اور زمینی حقائق کو بھی قانون کے دائرے میں پوری سنجیدگی کے ساتھ دیکھا جانا چاہیے۔
مولانا ارشدمدنی نے کہا، ’ہمارا سوال بالکل سیدھا ہے، جو قانون مسجد کے لیے ہے، وہی قانون ہر مذ ہبی مقام کے لیے کیوں نہیں ہے؟ جو معیار ایک مسلمان کے لیے ہے، وہی دوسرے شہری کے لیے کیوں نہیں ہے؟ اگر آئین اور قانون سب کے لیے ہیں تو ان کے تحفظ اور نفاذ میں بھی سب کے لیے یکسانیت ہونی چاہیے۔‘
No Comments: