Vinco Paints - Advt

قومی خبریں

خواتین

ڈی ٹی سی ڈرائیوروں کی ہڑتال کے باعث چوتھے روز بھی بس سروس بری طرح متاثر رہی

سڑکوں پر ڈھائی ہزار سے 3ہزار بسیں واپس آ ئیں، باوجود مسافروں کو طویل انتظار کرنا پڑا

بسوں کی کمی کے سب مسافروں نے میٹرو کا رخ کیا ، جمعہ کو بھی اسٹیشنوں پر مسافروں کا ہجوم

نئی دہلی،18ستمبر (میرا وطن نیوز )
ڈی ٹی سی بس ڈرائیوروں اور کنڈکٹرز کی ہڑتال کے چوتھے دن جمعہ کو بھی راجدھانی کے پبلک ٹرانسپور ٹ نظام پر دباو ¿ برقرار رہا۔ اگرچہ جمعرات کے مقابلے میں سڑکوں پر بسوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ،کل 7,500 الیکٹرک اور سی این جی بسوں میں سے تقریباً 2,500 سے 3,000 بسیں چلتی ہوئی نظر آئیںلیکن زیادہ تر علاقوں میں مسافروں کو اب بھی بسوں کے لیے طویل انتظار کرنا پڑا۔ بڑی تعداد میں مسافروں نے میٹرو، آٹو، ای رکشہ اور کیب کا رخ کیا۔
راجدھانی بھر کے تقریباً 52 ڈپوو ¿ں پر بس ڈرائیور یونینوں کے احتجاج کا سلسلہ جاری رہا۔ سرکار اور یونینیں دونوں ہی اپنے اپنے موقف پر ڈٹی رہیں۔ بسوں کی محدود دستیابی سے سب سے زیادہ وہ مسافر متاثر ہوئے جن کی منزلیں براہ راست میٹرو نیٹ ورک سے منسلک نہیں ہیں۔ مسافر مختلف اسٹاپس اور ڈپوو ¿ں پر بسوں کا انتظار کرتے ہوئے دیکھے گئے۔ڈی ٹی سی ڈرائیوروں کی ہڑتال سے راجدھانی کا کوئی ایسا علاقہ نہیں ہے جہاں مسافروں کو پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑا ہو ۔حالانکہ آج کچھ تعدادمیں گاڑیاں سڑکوں پر آنے سے لوگوں کو معمولی راحت ضرور ملی ۔
جمعرات کو جب ہڑتال اپنے عروج پر تھی، تو دہلی میٹرو نے پبلک ٹرانسپورٹ کے بوجھ کا ایک بڑا حصہ سنبھالا۔ ڈی ایم آر سی کے مطابق، 17 ستمبر کو 8,244,903 مسافروں نے میٹرو میں سفر کیا۔ یہ میٹرو کی تاریخ میں ایک دن میں سفر کرنے والے مسافروں کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔ اس سے قبل کا ریکارڈ 8 اگست 2025 کو 8,188,115 مسافروں کا تھا۔ جمعرات کی تعداد پرانے ریکارڈ سے 56,788 زیادہ تھی۔ دریں اثنا، 16 ستمبر کو ریکارڈ کیے گئے 8,071,630 مسافروں کے مقابلے میں، 17 ستمبر کو تقریباً 1.73 لاکھ زیادہ مسافروں نے میٹرو کا استعمال کیا۔آٹھ اضافی میٹرو ٹرینیں چلائی گئیں اور 20 اضافی ٹرپس (چکر) لگائے گئے۔
جمعہ کو بھی میٹرو اسٹیشنوں پر مسافروں کا ہجوم برقرار رہا۔ راجیو چوک، کشمیری گیٹ، بوٹینیکل گارڈن، پٹیل چوک، حوض خاص اور نئی دہلی سمیت کئی اسٹیشنوں پر مسافروں کی بڑی تعداد دیکھی گئی۔ مسافروں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیشِ نظر آٹھ اضافی میٹرو ٹرینیں چلائی گئیں اور 20 اضافی ٹرپس (پھیرے ) کا انتظام کیا گیا۔

No Comments:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *