
نئی دہلی،18ستمبر (میرا وطن نیوز )
جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر ایس امین الحسن نے امریکی کانگریس کی جانب سے ایسے ممالک پر، جو روس سے تیل اور گیس خریدتے ہیں، جن میں ہندوستان بھی شامل ہے، صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو 100 فیصد تک ٹیرف عائد کرنے کا اختیار دینے سے متعلق قانون سازی پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
میڈیا کے لیے جاری بیان میں نائب امیر نے کہا کہ جماعت اسلامی ہند ’لنڈسی او گراہم سینکشننگ رشیا اینڈ ایران ایکٹ 2026‘ پر گہری تشویش کا اظہار کرتی ہے۔ یہ قانون روس-یوکرین جنگ کے سلسلے میں امریکی ردعمل کو سفارتی اقدامات سے آگے بڑھاتے ہوئے سخت اور تعزیری نوعیت کے اقتصادی اقدامات تک لے جاتا ہے۔ یہ حکمت عملی اخلاقی اور اقتصادی، دونوں اعتبار سے غلط ہے۔
انہوں نے کہا کہ پہلی بات تو یہ ہے کہ ٹیرف درآمد کنندگان پر عائد کیا جاتا ہے، لیکن اس کی لاگت بالآ خر امریکی صارفین، ہندوستانی برآمد کنندگان، مزدوروں اور چھوٹے کاروباروں تک منتقل ہوتی ہے۔ 2025 میں امریکہ کو ہندوستان کی برآمدات تقریباً 104 ارب ڈالر کی تھیں۔ انہوں نے سوال اٹھیا کہ عام ہندوستانی مزدوروں اور ان کے خاندانوں کو ایسے جغرافیائی سیاسی تنازعے کی قیمت کیوں چکانی چاہیے جس میں ان کا کوئی کردار نہیں ہے؟
No Comments: