
حج کمیٹی روینیو ڈیپارٹمنٹ کے تحت ہے اور محکمہ کی سربراہ وزیر اعلیٰ ریکھا گپتاہیں
دہلی اسمبلی میں چار مسلم ایم ایل ایز ہیں ،چاروں ممبران اسمبلی عام آدمی پارٹی کے
عمران حسین ،امانت اللہ خان،آل محمد اقبال اور زبیر احمد کو دہلی سرکار پربنانا چاہئے دباﺅ
چاروں اراکین وزیر اعلیٰ اور ایل جی سے ملاقات کر کمیٹی کی تشکیل کا راستہ ہموار کرائیں
نئی دہلی، 18ستمبر (میرا وطن نیوز )
دہلی اسٹیٹ حج کمیٹی کی3 سالہ مدت اسی سا ل5جنوری کو ہی ختم ہوگئی تھی ،لیکن بی جے پی کی سرکار نے تب مذکورہ کمیٹی کو9مارچ کو6 مہینے کا ایکسٹینشن دیا تھا جو گزشتہ 8 ستمبر کو پورا ہوگیا۔حالانکہ ریکھا گپتا
سر کار کی مدت کار کو ڈیڑھ سال ہونے جا رہا ہے ،لیکن وہ اس مدت کار میں بھی حج کمیٹی کی تشکیل نہیں کر پائی ہے ۔اسی کا نتیجہ ہے کہ دہلی اسٹیٹ حج کمیٹی بھی دیگر کئی مسلم اداروں کے ساتھ بغیر چیئر مین کے افسر شاہی کے حوالے چھوڑ دی گئی ہے؟
ذرائع کا کہنا ہے کہ سرکارحج کمیٹی کی تشکیل نہیں کر پانے کی اپنی خامی پردہ ڈالنے نے کے لئے کسی سرکا ر ی افسر کو عارضی ذمے داری دے کر سائن اتھارٹی بنا سکتی ہے۔حالانکہ سرکار کے اس عمل سے بھی حج کمیٹی کادفتر ی کام کم ہونے کے بجائے بڑھ جائے گا۔اور اس عمل سے حج امور کی فائنانشیل فا ئلیں حج منز ل سے دہلی سکریٹریٹ گھومتی رہیں گی جس کی وجہ سے حج کے کام زیادہ متاثر ہونے کاامکان رہے گا۔
دہلی اسٹیٹ حج کمیٹی دہلی سرکار کے ریوینیو ڈیپارٹمنٹ کے تحت آتی ہے اور مذکورہ محکمہ وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا کے پاس ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ دہلی اسٹیٹ حج کمیٹی کے دفتر نے تین سال کی مدت کار ختم ہو نے کے وقت پر اور اب کمیٹی کی چھ ماہ کی ایکسٹینشن مدت کے ختم ہوجانے کی موجودہ صو رتحال سے ریو ینیوڈیپارٹمنٹ کوتحریری طور پر جانکاری مہیا کرا دی ہے۔حالانکہ دہلی اسٹیٹ حج کمیٹی کی تشکیل نو کا عمل کس اسٹیج پر اور کب تک مکمل ہوجائے گا ، نہ تو متعلقہ ذمے داروں اور نہ ہی خواہش مند اراکین کو معلوم ہے۔
بہر حال حج امور کی سرگرمیوں پر نظر رکھنے والے کئی حج رضا کاروں کا کہنا ہے کہ کمیٹی کی تشکیل میں تاخیر نہیں ہونی چاہئے تھی کیونکہ نئی باڈی نہیں ہونے سے حج امور کام متاثر ہوں گے ہی۔ان کا کہنا ہے کہ دہلی میں ایم سی ڈی ، اسمبلی اور پارلیمنٹ میں ایک ہی پارٹی(بی جے پی ) کی سرکاریں ہیں اور اہم ارکا ن میں ایک ممبر پارلیمنٹ ،دو ممبران اسمبلی اور ایک کونسلر ان کے ذریعہ ہی نامزد کرنے ہیں۔انہوں نے وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا سے اپیل کی ہے کہ حج کمیٹی کی تشکیل نوکے لئے فوری اقدامات کئے جائیں ،کیونکہ پہلے ہی بہت تاخیر ہوچکی ہے۔
حج رضا کاروں کا کہنا ہے کہ دہلی میں کل چار مسلم ایم ایل اے ہیں جو اسمبلی میں راجدھانی کے عوام کی نما ئندگی کر رہے ہیں ،ان چاروں کا تعلق عام آدمی پارٹی سے ہے ۔ان میں بلیماران سے عمران حسین ،اوکھلا سے امانت اللہ خان ،مٹیا محل سے آل محمد اقبال اور سیلم پور سے چودھری زبیر احمد شامل ہیں ۔ان چاروں ممبران اسمبلی کو دہلی سرکار پر دباﺅ بناا چاہئے تاکہ حج کمیٹی کی تشکیل میں مزید تاخیر نہیں ہو ۔
حج ر ضا کاروں کا کہنا ہے کہ ماضی میں دیکھنے میں آیا کہ چاروں ممبران اسمبلی دہلی کے مسلم اداروں کے سا تھ ہورہے امتیازی سلوک کے مدعے نہ ایوان میں اٹھا رہے ہیں اور نہ ہی سڑک پر اتر کرآواز بلند کر ر ہے ہیں ،بلکہ ایک طرح سے خاموشی اختیار رہے ہیں۔کیونکہ حج کمیٹی روینیو محکمہ کے تحت آتی ہے اور یہ محکمہ وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا کے پاس ہے ۔حج رضا کا روں کا کہنا ہے کہ ان چاروں ایم ایل ایز کو مشترکہ طور پروزیر اعلیٰ اور ایل جی سے ملاقات کرنی چاہئے تاکہ کوئی مثبت راستہ نکل سکے۔
واضح رہے کہ دہلی حج کمیٹی ایکٹ 2002کے مطابق دہلی اسٹیٹ حج کمیٹی کی تشکیل کی جاتی ہے ،جس میں ریاست یونین ٹیر ٹیری میں رہائش پذیر مسلمانوں کے نمائندے ،ممبرپارلیمنٹ ،ممبران اسمبلی ،کو نسلر اورشیعہ سنی اسلامی اسکالر شامل کئے جاتے ہیں،کمیٹی کی مدت تین سال ہوتی ہے۔اگر کسی زمر ے میں دہلی سے سنسد ،ودھان سبھا اور ایم سی ڈی میں مسلم ارکان نہیں ہے تب کسی غیر مسلم ارکان کو بھی نامزد کئے جانے کی ایکٹ میں تجویز ہے۔ فی الحال دہلی سے پارلیمنٹ میں کوئی مسلم ایم پی نہیں ہے ،جبکہ اسمبلی اور ایم سی ڈی میں مسلم ارکان ہیں۔
No Comments: