Vinco Paints - Advt

قومی خبریں

خواتین

غالب انسٹی ٹیوٹ اور قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے زیر اہتمام سمینار اختتام پذیر

نئی دہلی ،6ستمبر (میرا وطن نیوز )
غالب انسٹی ٹیوٹ اور قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے زیر اہتمام سہ روزہ بین الاقوامی ریسرچ اسکالر سمیناراتوار کے روز اختتام پذیر ہوا۔ سمینار کے آخری دن پہلے اجلاس کی صدارت ڈاکٹر علی احمد ادریسی نے کی۔ صدارتی تقریر کے دوران انہوں نے کہا بین الاقوامی ریسرچ اسکالر سمینار کاایک فائد ہ یہ بھی ہے کہ ہم ہندستان کی مختلف یونیورسٹیز کے ریسرچ اسکالر سے ملاقات کرپاتے ہیںاور یہ بھی معلوم ہوتاہے کہ کن موضوعات پر تحقیقی کام ہورہے ہیں۔
اس اجلاس میں سید مظہر علی عباس نے ’مراة الاسراراور شیخ عبدالرحمن چشتی ایک مطالعہ‘ شرف الدین نے ’قیصرامین پورکی شاعری میں فکر، فن اور سماجی شعور کا تنقیدی مطالعہ‘، سجاد الرحمن نے ’معاصر اردو نظموں میں موضوعات کا تنوع‘ نور عالم نے ’شفیع جاید کی افسانہ نگاری‘، محمد علی باشانے ’ترقی پسند تحریک کے تحت لکھے گئے منتخب افسانو ںکا مثبت اور منفی تجزیہ‘ کے عنوان سے مقالے پیش کےے۔ اس اجلاس کی نظامت ڈاکٹر شاداب شمیم نے کی۔
دوسرے اجلاس کی صدارت ڈاکٹر احمد امتیاز نے کی۔ صدارتی خطاب کے دوران انہوں نے کہا تحقیقی مقالہ لکھتے وقت اس بات کا خیال رکھنا بہت ضروری ہے کہ اس کی عصری معنویت کیا ہے۔اس اجلاس میں آل زہرہ زیدی نے ’سامی دور کے ماخذ میں ہندوایران کے مورخین کا تقابلی مطالعہ‘، مریم بی نے ’اردو زبان وادب کے فروغ میں اقسام ذرائع ابلاغ کا حصہ‘، محمد شاداب انصاری نے ’کرشن چندر کے افسانوںمیں نباتاتی عناصر کا تجزیہ‘، علی حسین نے ’احمد مشتاق کی غزلیہ شاعری‘، عظمیٰ نے ’سید احمد شمیم کی ا دبی خدمات ‘ کے عنوان سے مقالات پیش کےے۔ اس اجلاس کی نظامت ڈاکٹر جاوید رحمانی نے کی۔
تیسرے اجلاس کی صدارت ڈاکٹر خالد مبشرنے کی۔ صدارتی خطاب میں انہوں نے کہا ہردوراپنے ساتھ نئے چیلنج لے کر آتاہے اور ان چیلنجز کا مقابلہ بھی کیا جاتاہے لیکن تاریخ اس عہدکو امتیازی مقام دیتی ہے جوان چیلنجز کا سامنا ہوش مندی سے کرتاہے۔ اس اجلاس میں امتیاز احمدنے ’بہارمیں آز ادی کے بعداردو افسانہ نگاری کے بدلتے موضوعات‘، محمد فدیان نے’ساغر نظامی کی ادبی خدما ت‘، محمد ریحان خان نے ’آغاحشرکاشمیری کی شاعری کی افادیت و معنویت‘، ساجد رضانے ’بہارمیں اردو افسانے کا تنقیدی جائزہ‘، عبیدالرحمن نے ’ابوالکلام قاسمی اور اردو تنقید‘ کے عنوان سے مقالات پیش کےے۔ اس اجلاس کی نظامت غلام سرور نے کی۔
سمینار کے آخری اجلاس کی صدارت ڈاکٹر مہتاب جہاں نے کی۔ صدارتی تقریر کے دوران انہوں نے کہا مجھے یہ دیکھ کر خوشی ہوتی ہے کہ نئی نسل اب نئے موضوعات کی طرف متوجہ ہورہی ہے لہٰذا ان کے مطالعہ کا اندازبھی بہت مختلف ہے۔ اس اجلاس میں علی اشرف نے ’شمس الرحمن فاروقی اور تفہیم میروغا لب‘شگفتہ خانم نے ’کشور ناہید کی شاعری میں عصر حاضر کے مسائل کی عکاسی‘، فرحین خانم نے ’حمیدہ سالم کی خدمات اردو کی غیر افسانوی نثرکے حوالے سے‘، خلیق الرحمن اعوان نے ’چنڈی گڑھ، پنچ کولہ اور موہالی کے نمائندہ شعرا‘، محمد وسیم نے ’رسالہ شب خون کی ادبی صحافت کا تحقیقی و تنقیدی مطالعہ‘ کے عنوان سے مقالات پیش کےے۔ اس اجلاس کی نظامت ڈاکٹر ضوفشاں نے کی۔ سمینار کے آخر میں غالب انسٹی ٹیوٹ کے ڈائرکٹر ڈاکٹر ادریس احمدنے تمام شرکا کاشکریہ ادا کیا۔

No Comments:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *