
نئی دہلی، 4 ستمبر (میرا وطن نیوز)
دہلی کے جنتر منتر پر ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ (سی جے پی) کے مظاہرے کے دوران کارکن نشو آزاد کے والد سنجے آزاد پر مبینہ حملے اور ملزم کی گرفتاری کا مطالبہ کرتے ہوئے جمعہ کو مختلف تنظیموں اور گروپوں نے پارلیمنٹ اسٹریٹ پولیس اسٹیشن کے باہر دھرنا دیا۔
دھرنے میں کانگریس کے رہنماو ¿ں، آزاد رکن پارلیمنٹ پپو یادو، بائیں بازو کی جماعتوں کے طلبہ رہنما و ¿ں اور بھیِم آرمی کے کارکنوں نے شرکت کی۔ آزاد رکن پارلیمنٹ پپو یادو متاثرہ نشو آزاد اور ان کے حامیوں کے ساتھ دھرنے پر بیٹھے۔ اس دوران مظاہرین نے دہلی پولیس اور مرکزی سرکار کے خلاف جم کر نعرے بازی کی۔
مظاہرین کا الزام ہے کہ تقریباً دو ماہ قبل نشو آزاد کے والد سنجے آزاد پر جان لیوا حملہ کیا گیا تھا، جس میں ان کے سر پر شدید چوٹ آئی تھی۔ واقعے کے وقت نشو آزاد نے دہلی پولیس سے انصاف اور ملزمان کی گرفتاری کی اپیل کی تھی، تاہم دو ماہ گزرنے کے باوجود ملزمان کھلے عام گھوم رہے ہیں اور مبینہ طور پر اپنے جرم کا اعتراف بھی کر رہے ہیں۔
مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ چونکہ ملزمان نے خود حملے میں ملوث ہونے کی بات تسلیم کی ہے، اس لیے انہیں فوری طور پر گرفتار کیا جائے اور ان کے خلاف اقدامِ قتل سمیت سخت دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا جائے۔
اسی دوران سی جے پی کے رہنما آشوتوش رانکا اور سوربھ داس بھی احتجاجی مقام پر پہنچے۔ رانکا نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سوربھ داس اور ان کی پوری ٹیم مسلسل دہلی پولیس سے ملزمان کی فوری گرفتاری اور ان کے خلاف اقدامِ قتل کی دفعات عائد کرنے کا مطالبہ کر رہی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ دہلی پولیس بی جے پی رہنماو ¿ں اور کپل مشرا کی مبینہ شہ پر کام کر رہی ہے اور ملزمان کو بچا رہی ہے۔
رانکا نے سوال اٹھایا کہ اگر پُرامن مظاہرے کو روکنے کے لیے پولیس کی بھاری نفری تعینات کی جا سکتی ہے تو اس نفری کا دسواں حصہ بھی کھلے عام جرم قبول کرنے والے مبینہ غنڈوں کو گرفتار کرنے کے لیے کیوں استعمال نہیں کیا گیا؟
دھرنے میں شامل آزاد رکن پارلیمنٹ پپو یادو نے دہلی پولیس اور سرکار کی کارروائی پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کیا ہماری بیٹیوں اور دلتوں پر اسی طرح ظلم کیا جاتا رہے گا؟ انہوں نے الزام لگایا کہ موجو دہ حکومت خواتین، اقلیتوں اور دلتوں کے خلاف ہے اور سوال کیا کہ ملک کی ایک بیٹی کو آخر انصاف کیو ں نہیں دیا جا رہا۔پپو یادو نے مزید کہا کہ پولیس، مجرموں اور حکمراں جماعت کے درمیان مبینہ گٹھ جوڑ جمہوریت اور آئین کو ختم کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جسے برداشت نہیں کیا جائے گا۔
وہیں کانگریس کے رکن پارلیمنٹ نصیر حسین نے بھی سرکاراور پولیس کی نیت پر سوال اٹھاتے ہوئے متا ثرہ خاندان کی حمایت کی۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس ہر اس شہری کے ساتھ کھڑی ہے جس کے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے۔
قابل ذکر ہے کہ سنجے آزاد پر مبینہ حملے کے الزام میں نامزد سوتنتر بھاردواج کی ایک ویڈیو حال ہی میں سامنے آئی تھی۔ ویڈیو میں اس نے کچھ دعوے کیے تھے، جنہیں آزاد کے حامیوں نے سوشل میڈیا پر مبینہ ’اعترافِ جرم‘ قرار دیا۔ حامیوں نے سوال اٹھایا کہ سوتنتر کو پولیس نے کیوں چھوڑ دیا اور اس کے خلاف اقدامِ قتل کی دفعات کیوں نہیں لگائی گئیں۔
No Comments: