
نئی دہلی ،4ستمبر (میرا وطن نیوز )
ایک تحقیق کار کی تحریر میں ربط، تسلسل، توازن، منطقی استدلال، صحیح اور معتبر حوالہ جات، علمی زبان اور روانیِ بیان جیسی خوبیاں مسلسل لکھتے رہنے کی مشق سے حاصل ہوتی ہیں۔ اگر تحقیق کار کو لکھنے کی عادت نہیں ، لکھے ہوئے کو بار بار پڑھنے اور سمجھنے، اس کی نوک پلک درست کرنے، اس میں پیش کردہ حقائق و معلومات کو جانچنے اورپرکھنے، اس میں شامل مواد پرغوروفکر کرنے کا سلیقہ نہیں تو وہ کوئی معیاری تحریر کبھی پیش نہیں کرسکے گا۔ ان خیالات کا اظہار اردو کے ممتاز محقق ڈاکٹر شمس بدایونی نے ایوان غالب، دہلی میں بین الاقوامی ریسرچ اسکالر سمینار میں کلیدی خطبہ پیش کرتے ہوئے کیا۔
انہوں نے مزید کہا: یہ میراذاتی تجربہ ہے کہ کوئی بھی معیاری تحریر ایک بار میں مکمل نہیں ہوتی، بلکہ وہ لگاتار ترمیم واصلاح کے عمل سے گزرکر ہی کسی معیار کے قریب پہنچ پاتی ہے۔ طلبا کے لیے اس طرح کی تربیت بہت ضروری ہے۔ غالب انسٹی ٹیوٹ کا یہ سالانہ ریسرچ اسکالر سمینار بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے، جو طلبہ کی صلاحیتوں کو پرکھنے اور ان کے اعتماد کو بحال کرنے کا ایک موثر ذریعہ ہے۔
سمینار کا افتتاح معروف مصنفہ اور مترجمہ ڈاکٹر رخشندہ نے کیا۔ انھوں نے کہا بین الاقوامی ریسرچ اسکالر سمینار کا انعقاد ہماری ترجیحات میں شامل ہے۔ اس کے ذریعے پورا اردو معاشرہ تحقیقی سرگرمیوں سے واقف ہوتا ہے۔ طلبا کی بھی تربیت ہوتی ہے اور انھیں بین الاقوامی کانفرنس میں شرکت کا تجربہ بھی حاصل ہوتا ہے۔
غالب انسٹی ٹیوٹ کے سکریٹری پروفیسر صدیق الرحمن قدوائی نے تعارفی کلمات پیش کرتے ہوئے کہا تحقیق کی رفتار جیسی ہونی چاہیے ویسی نہیں ہے لیکن پھر بھی اسی ماحول میں چند طالب علم ایسے بھی ہیں جن کی کتابیں دکھ کر خوشی ہوتی کہ آئندہ نسل میں بھی تلاش اور نئی بات کہنے کا جذبہ ابھی موجود ہے۔ اگر انھیں بہتر مواقع ملیں تو وہ اپنے جوہر کو اور بہتر انداز میں پیش کر سکیں گے۔
مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر سید عین الحسن نے اس اجلاس کی صدارت کی۔ صدارتی تقریر میں انھوں نے کہا ایک محقق کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے مطالعے پر اعتماد کرے مرعو بیت آپ کو اپنی بات کہنے سے روکتی ہے۔ ہر بات کو تجزیے سے گزارنا اور بغیر تعصب و مرعوبیت کے لکھنا محقق کا فرض ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ غالب انسٹی ٹیوٹ اسکالرس کو یہ موقع فراہم کرتا ہے کہ وہ اپنی طرز تحقیق کو لوگوں کے سامنے پیش کرتے ہیں۔
قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے ڈائرکٹر ڈاکٹر محمد شمس اقبال نے استقبالیہ کلمات پیش کرتے ہوئے کہا تحقیق میں ایک سے زیادہ زبانوں سے واقفیت بہت سے مثبت نتائج پیش کر سکتی ہے۔ کیونکہ تحقیق میں صرف مواد نہیں طریق کار بھی بہت اہمیت رکھتا ہے اور جب ہم دوسری زبانوں سے واقف ہوں گے تو ان کے بہتر طریق کار کو بھی اپنائیں گے۔
معروف شاعر اور انڈین آئل کارپوریشن کے جنرل مینیجر آلوک اویرل نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔ انھوں نے کہا: مجھے آج یہ دیکھ کر بہت خوشی ہوئی کہ ہندستان کی تقریباً چالیس یونیورسٹیز کے ریسرچ اسکالر یہاں موجود ہیں اور وہ اپنا مقالہ بھی یہاں پیش کریں گے۔ اس طرح کے جلسوں کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ یہاں ایسے لوگوں سے بھی ملاقات ہوتی ہے جن کا مطالعہ کسی سمت میں بہت اچھا ہے اور وہ آپ کے لیے معاون بھی ہے۔ ایسے تعلقات ساری زندگی ساتھ چلتے ہیں۔
غالب انسٹی ٹیوٹ کے ڈائرکٹر ڈاکٹر ادریس احمد نے کہا ریسرچ اسکالر سمینار ہماری پہچان ہے اور ہم اسے برقرار رکھنے کی پوری کوشش کریں گے لیکن اسکالروں کو بھی چاہیے کہ وہ اسے اپنا سمینار سمجھتے ہو ئے ہر ممکن تعاون دیں۔ ہماری کوشش رہتی ہے کہ ملک کے ہر صوبے سے اردو اسکالرس کو جمع کریں تاکہ ان کے درمیان علمی رابطہ پیدا ہو۔ اس اجلاس میں ڈاکٹر شمس بدایونی کی نئی تحقیقی کتاب ’مطالعہ ¿ حیات جاوید کے ایک سو پچاس سال‘ کی رسم اجرا بھی عمل میں آئی۔
No Comments: