
نئی دہلی،31اگست (میرا وطن نیوز )
بھارتیہ جنتا پارٹی اقلیتی مورچہ کے سابق قومی صدر جمال صدیقی نے کیرالہ کے اسلامی علما سے متعلق حالیہ بیان اور سرکلر پر ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ خواتین کی عوامی اور سماجی زندگی میں شرکت کو محدود کرنے والی رجعت پسند سوچ پر سنجیدگی سے غور کیے جانے کی ضرورت ہے۔
قابل ذکر ہے کہ حال ہی میں سمستھ کیرالہ جمیعت العلماءکی جانب سے جاری ایک سرکلر کے حوالے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ تنظیم کے صدر ای سلیمان مسلیار اور جنرل سکریٹری کانتھاپورم اے پی ابوبکر مسلیار نے خواتین کے مردوں کے ساتھ اسٹیج شیئر کرنے اور ان کے ساتھ عوامی مقامات پر آنے کے حوالے سے ہدایات جاری کی ہیں۔ اس تناظر میں خواتین کے عوامی طور پر سامنے آنے اور ان کی شرکت کے حوالے سے بھی سنگین خدشات کا اظہار کیا گیا ہے۔
اس پر ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے جمال صدیقی نے کہا:”اسلام میں خواتین اور مردوں دونوں کو عزت، وقار اور حقوق کے حوالے سے اہم مقام حاصل ہے۔ خواتین کی تعلیم، خود کفالت اور معاشرے کے مرکز ی دھارے میں ان کی شمولیت کو محدود کرنے والی کسی بھی رجعت پسند سوچ پر نظرِ ثانی کی جانی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ آج دنیا تیزی سے بدل رہی ہے اور زندگی کے ہر شعبے میں خواتین کا کردار مسلسل مضبوط ہو رہا ہے۔ عرب ممالک سمیت متعدد مسلم ممالک میں بھی خواتین کی تعلیم، روزگار اور عوامی زندگی میں شرکت کو فروغ دینے کے لیے سماجی اور قانونی اصلاحات کی جا رہی ہیں۔جمال صدیقی نے کہا کہ ہندوستان کی خواتین آج تعلیم، سائنس، سیاست، انتظامیہ، کھیل، صنعت اور سماجی خدمت سمیت ہر شعبے میں ملک کا نام روشن کر رہی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا:کسی بھی معاشرے اور قوم کی حقیقی ترقی اسی وقت ممکن ہے، جب اس کی خواتین محفو ظ ، تعلیم یافتہ، باعزت، خود کفیل اور ترقی کے مرکزی دھارے میں برابر کی شریک ہوں۔ خواتین کی تر قی کو روکنے والی شدت پسند اور رجعت پسند ذہنیت معاشرے کو آگے بڑھانے کے بجائے پیچھے لے جانے کا کام کرتی ہے۔انہوں نے معاشرے کے تمام طبقات سے اپیل کی کہ خواتین کے احترام، تعلیم، تحفظ اور بااختیار بنانے کے لیے ایک مثبت اور سازگار ماحول قائم کیا جائے۔
No Comments: