
نئی دہلی،28اگست(میرا وطن نیوز )
ایکسیلینس ان کپنگ تھریپی گلوبل چوائس ایوارڈ یافتہ ڈاکٹر اصفیہ ذکائی کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے شا ہی امام مسجد فتح پوری ڈاکٹر مفتی مکرم احمد نے کہا کہ آج سماج کے تقریباً ہر فیلڈ میں خواتین اہم کردا ر ادا کر رہی ہیں جو اچھی بات ہے۔ اسی طرح سے سنت نبوی حجامہ تھریپی میں بھی خواتین کو آگے آنا چاہئے تاکہ جب کوئی خاتون حجامہ کرانے کے لیے گھر سے نکلے تو اس کا حجامہ کرنے کے لیے تربیت یافتہ خا تو ن کا ہونا ضروری ہے۔عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ نہ صرف حجامہ بلکہ طبی میدان میں بھی لڑکیوں کو مز ید آ گے آنے کی ضرورت ہے۔ بیماری سے شفاءکے لیے کیا خواتین کو علاج کی ضرورت نہیں ہے؟
شاہی امام نے کہا کہ جب ہمارے معاشرے میں رہ کر لڑکیاں اس طرح کی کامیابی حاصل کریں تو ان کی حوصلہ افزائی بھی ضروری ہے۔ جس طرح سے آج کپنگ کی دنیا میں تیزی کے ساتھ ترقی ہورہی ہے ۔ اس میں خواتین کا بھی اہم کردار ہے۔ عام طور پر حجامہ تھریپی میں اب تک مردہی نظر آتے تھے مگر اب خواتین بھی آگے آرہی ہیں۔ اور جو مجھے بتایا گیا ہے کہ ڈاکٹر اصفیہ ایک تربیت یافتہ ماہر حجامہ ہیں ۔ اور امید کرتے ہیں کہ ڈاکٹر اصفیہ سنت نبویکے ذریعہ خواتین کا بہتر علاج کریں گی،کیونکہ سنت نبویکے ذریعہ لوگوں کو شفا ءفراہم کرنا عظیم خدمت ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ کے ہاتھوں میں مزید برکت اور شفا عطا فرمائے۔ خواتین کے لیے آپ کی یہ طبی خدمات قابل ستائش ہیں۔خاتون کا حجامہ اگر خاتون کرے تو بہتر ہے۔
شاہی امام ڈاکٹر مفتی مکرم نے کہا کہ ڈاکٹر اصفیہ علاج کے ساتھ ساتھ خدمت خلق بھی کرتی ہیں۔ جو ان کو اپنے والد محترم حکیم امام الدین ذکائی سے وراثت میںملا ہے۔ ڈاکٹر اصفیہ عمیر ذکائی نے بتایا کہ انہوں نے حجامہ کلینک شروع کرنے قبل اس کی باقاعدہ و تربیت حاصل کی ہے ۔انہوں نے بتایا کہ میں نے ہائر ایجوکیشن کے بعد بیچلر آف نیچرو پیتھی اینڈ یوگنگ سیفرون انسٹی ٹیوسٹ میڈیکل فاﺅنڈیشن کرناٹک سے کیا ہے۔ حجامہ میں ماسٹر ڈپلومہ ان ایکیوپریشر انسٹی ٹیوٹ آف انڈیا جے پور، اس کے علاوہ بھی حجامہ سے متعلق مختلف کورسیز کے بعد مختلف حجامہ مراکزسے تربیت حاصل کی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ گذشتہ 5برسوں سے دریا گنج میں خواتین کا حجامہ کرتی ہوں۔یہ نہ صرف فصیل بند شہر بلکہ دہلی کا اکیلا مسلم حجامہ سینٹر ہے ،جس میں خواتین کا حجامہ ڈگری ہولڈر و تربیت یافتہ خواتین کے ذریعہ ہی کیا جاتا ہے۔ اس موقع پر ان کے شوہرحاجی محمد عمیر والد محترم حکیم امام الدین ذکائی وغیرہ بھی موجود تھے۔
No Comments: