
نئی دہلی،19اگست (میرا وطن نیوز )
شعبہ سماجیات،جامعہ ملیہ اسلامیہ نے جامعہ کے ایف ٹی کے سی آئی ٹیکانفرنس ہال میں ’یومِ آزادی دوہزار چھبیس آزادی، ذمہ داری اور مشترکہ قومیت © ©‘کے موضوع پر ایک روزہ سمینار کا انعقاد کیا۔ اس سمینا ر میں ممتاز ماہرینِ تعلیم، محققین، اساتذہ اور طلبہ نے شرکت کی تاکہ موجودہ ہندوستان میں آزاد ی، ذمہ داری، تنوع اور مشترکہ قومیت کے تصور پر غور و خوض کیا جا سکے۔
افتتاحی اجلاس کی صدارت راجسٹرار پروفیسر محمد مہتاب عالم رضوی نے کی۔قومی اقلیتی کمیشن کی وائس چیئرپرسن ایس منواری بیگم نے بطور مہمانِ خصوصی تقریب کی رونق بڑھائی۔ اس موقع پرپدم شری پرو فیسر اخترالو اسع نے کلیدی خطبہ پیش کیا، اور پروفیسر زبیر مینائی،ڈین، فیکلٹی آف سوشل سائنسز نے اظہار اظہار خیال کیا ۔
مہمانوں اور شرکا کا خیرمقدم کرتے ہوئے شعبہ سماجیات کی سربراہ اور سمینار کی کنوینر پروفیسر عذرا عابد ی نے اس بات پر زور دیا کہ آزادی نہ صرف ایک تاریخی کامیابی ہے بلکہ ایک مسلسل سماجی ذمہ داری بھی ہے۔ انھوں نے آئینی اقدار، سماجی انصاف، اخوت، باہمی بات چیت اور ذمہ دارانہ شہریت کے فروغ میں تعلیم اور یونیورسٹیوں کے کردار کو اجاگر کیا۔
اپنے خطاب میں ایس منواری بیگم نے سماجی ترقی اور تعمیرِ قوم میں تعلیم کے انقلابی کردار پر زور دیا۔ انھو ں نے قومیت کے تصور پر روشنی ڈالی اور ‘وکست بھارت دوہزار سینتالیس کے وژن کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ انھوں نے مجاہدینِ آزادی کی قربانیوں کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا اور اس بات پر زور دیا کہ ان کا ورثہ شہریوں، بالخصوص نوجوان نسل کو، دورِ حاضر میں تعمیرِ قوم کے عمل میں فعال کردار ادا کرنے کی تحر یک دے۔
پروفیسر اختر الواسع نے ہندوستانی قومیت کے فکری اور ثقافتی پہلو ¶ں پر روشنی ڈالی، جبکہ پروفیسر زبیر مینائی نے جمہوری اقدار، سماجی ہم آہنگی اور قومیت کے جامع تصور کو مستحکم کرنے میں تعلیمی اداروں کی ذمہ داری کو اجاگر کیا۔
افتتاحی اجلاس کے بعد، آزادی، ذمہ داری اور مشترکہ قومیت سے متعلق موضوعات پر دو تکنیکی اجلاس ہوئے اور ایک خصوصی لیکچر بھی منعقد کیا گیا۔ تکنیکی اجلاسوں میں تعلیم، قیادت، شہریت، تنوع، سماجی ذمہ داری اور سب کو ساتھ لے کر چلنے والی (شمولیتی) قوم سازی جیسے امور کا احاطہ کیا گیا۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے شعبہ تاریخ و ثقافت کی پروفیسر فرحت نسرین نے خصوصی خطبہ دیا اور آزادی، قومیت اور ان کی عصری اہمیت پر تاریخی تناظر پیش کرتے ہوئے بحث کو مزید وقیع اور فکر انگیز بنادیا۔
اس علمی سرگرمیوں میں اس بات پر زور دیا گیا کہ مشترکہ قومیت کا تصور تعلیم، مساوات، باہمی احترام، سماجی یکجہتی اور فعال شہریت کے ذریعے مستحکم ہوتا ہے۔ ان اجلاسوں نے اساتذہ، محققین اور طلبہ کے مابین باہمی رابطے اور تبادلہ خیال کے لیے ایک م ¶ثر پلیٹ فارم بھی فراہم کیا۔
No Comments: