Vinco Paints - Advt

قومی خبریں

خواتین

شفیق میموریل اسکول جیسے اقلیتی تعلیمی اداروں میں زعفرانی رنگ کا الزام,

آر ایس ایس سے وابستہ مسلم راشٹریہ منچ آکے سرپرست کو مہمانِ خصوصی بنانے پر شاہد گنگوہی کی سخت مذمت

نئی دہلی، 15اگست ( میرا وطن نیوز ) یومِ آزادی کے موقع پر دہلی کے شفیق میموریل اسکول میں منعقدہ پروگرام میں مسلم راشٹریہ منچ کے سرپرست اور RSS سے وابستہ رہنما ڈاکٹر اندریش کمار کو مہمانِ خصوصی بنائے جانے پر سوشل اینڈ RTI ایکٹیوسٹ محمد شاہد گنگوہی نے سخت افسوس اور تشویش کا اظہار کیا ہے۔
گنگوہی نے کہا کہ یومِ آزادی ملک کا قومی تہوار ہے اور تعلیمی اداروں میں پرچم کشائی اور حب الوطنی کے پروگرام منعقد کرنا قابلِ احترام عمل ہے، لیکن اقلیتی تعلیمی اداروں کی اپنی تاریخی، تعلیمی اور ادارہ جاتی شناخت بھی ہوتی ہے۔ ایسے اداروں کے سرکاری پروگراموں میں کسی مخصوص نظریاتی یا تنظیمی پس منظر رکھنے والی شخصیت کو مہمانِ خصوصی بنائے جانے پر شفافیت اور جواب دہی ضروری ہے۔
عوامی طور پر دستیاب ذرائع میں ڈاکٹر اندریش کمار کو آر ایس ایس کی قومی مجلسِ عاملہ سے وابستہ رہنما اور مسلم راشٹریہ منچ کے سرپرست/رہنما کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ خود مسلم راشٹریہ منچ کی ویب سائٹ پر بھی ڈاکٹر اندریش کمار کی تنظیمی سرگرمیوں کو نمایاں طور پر شائع کیا جاتا ہے۔

ڈاکٹر ذاکر حسین کی تعلیمی وراثت کا سوال

شاہد گنگوہی نے کہا کہ شفیق میموریل اسکول اور تاریخی اینگلو عربک سینئر سیکنڈری اسکول جیسے اداروں کی تاریخی حیثیت اور تعلیمی روایات کو دیکھتے ہوئے یہ سوال اہم ہے کہ ان اداروں کے سرکاری پروگراموں میں مہمانوں کا انتخاب کس پالیسی اور طریقۂ کار کے تحت کیا جاتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ دہلی ایجوکیشن سوسائٹی کی تاریخی حیثیت کو مدنظر رکھتے ہوئے ان اداروں کی تعلیمی عظمت، اقلیتی شناخت اور سیکولر روایات کا تحفظ سوسائٹی کی بنیادی ذمہ داری ہے۔
اینگلو عربک اسکول میں بھی دعوت کی اطلاعات
گنگوہی نے کہا کہ ان کے علم میں یہ بات بھی آئی ہے کہ ڈاکٹر اندریش کمار کو تاریخی اینگلو عربک سینئر سیکنڈری اسکول میں یومِ آزادی کے موقع پر پرچم کشائی کے لیے جانا تھا، تاہم کسی وجہ سے یہ پروگرام منسوخ ہوگیا۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ اگر یہ اطلاع درست ہے تو دہلی ایجوکیشن سوسائٹی اور متعلقہ اسکول انتظامیہ واضح کرے:
* ڈاکٹر اندریش کمار کو دعوت دینے کی تجویز کس نے پیش کی؟* دعوت نامہ کس نے جاری کیا؟* اس کی منظوری کس افسر یا کمیٹی نے دی؟
* کیا دہلی ایجوکیشن سوسائٹی یا گورننگ باڈی کی میٹنگ میں یہ فیصلہ کیا گیا؟* اگر پروگرام منسوخ ہوا تو اس کی اصل وجہ کیا تھی؟* کیا اس سلسلے میں کوئی سرکاری خط و کتابت، قرارداد یا اجازت نامہ موجود ہے؟
“کس نے بلایا اور کس کی اجازت سے؟”
شاہد گنگوہی نے کہا کہ ان کا مقصد کسی فرد کی مذہبی یا شخصی آزادی کو نشانہ بنانا نہیں، بلکہ اقلیتی تعلیمی اداروں کے انتظام میں شفافیت اور جواب دہی کو یقینی بنانا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر اسکول کے کسی اسٹاف ممبر یا دہلی ایجوکیشن سوسائٹی کے کسی عہدیدار نے کسی نظریاتی تنظیم سے وابستہ شخصیت کو سرکاری تعلیمی پروگرام میں مدعو کیا ہے تو اس فیصلے کی ذمہ داری طے ہونی چاہیے اور متعلقہ افراد سے پوچھا جانا چاہیے کہ ایسا فیصلہ کس بنیاد پر کیا گیا۔
تاہم گنگوہی نے یہ بھی واضح کیا کہ بغیر دستاویزی ثبوت کسی ملازم، استاد یا عہدیدار کا نام لے کر الزام لگانا مناسب نہیں ہے۔ اس لیے اسکول انتظامیہ اور دہلی ایجوکیشن سوسائٹی کو خود تمام متعلقہ ریکارڈ سامنے لانا چاہیے۔
“اقلیتی اداروں کو زعفرانی رنگ دینے کی کوشش شرمناک”
گنگوہی نے کہا کہ اگر تاریخی اقلیتی تعلیمی اداروں کے سرکاری پروگراموں میں مسلسل ایسے افراد کو نمایاں مقام دیا جاتا ہے جن کی شناخت آر ایس ایس یا اس سے وابستہ تنظیموں سے ہوتی ہے تو یہ اداروں کی آزاد تعلیمی شناخت کے بارے میں سنگین سوالات پیدا کرتا ہے۔
انہوں نے اسے “اقلیتی تعلیمی اداروں کو زعفرانی رنگ دینے کی جانب تشویشناک قدم” قرار دیتے ہوئے کہا کہ تعلیمی اداروں کو کسی مخصوص سیاسی یا نظریاتی تنظیم کے اثر و رسوخ سے محفوظ رکھنا ضروری ہے۔
آرٹی آئی کے ذریعہ ریکارڈ حاصل رہنے کا اعلان
محمد شاہد گنگوہی نے کہا کہ وہ ضرورت پڑنے پر آرٹی آءی کے ذریعے پورے معاملے سے متعلق سرکاری اور ادارہ جاتی ریکارڈ حاصل کریں گے، جس میں مہمانِ خصوصی کے انتخاب، دعوت نامے، منظوری، گورننگ باڈی کی میٹنگ، دہلی ایجوکیشن سوسائٹی کی خط و کتابت اور اینگلو عربک اسکول کے پروگرام سے متعلق تمام دستاویزات شامل ہوں گی۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ اگر کسی عہدیدار یا ملازم نے مقررہ طریقۂ کار کی خلاف ورزی کرتے ہوئے یہ فیصلہ کیا ہے تو اس سے بازپرس اور جواب طلبی کی جائے۔
گنگوہی نے کہ“تعلیمی ادارے بچوں کے مستقبل کی تعمیر کے مراکز ہیں، کسی تنظیم کی نظریاتی تشہیر کا پلیٹ فارم نہیں۔ ڈاکٹر ذاکر حسین جیسے عظیم ماہرِ تعلیم کی وراثت سے وابستہ اداروں کو اپنی تاریخی شناخت، تعلیمی آزادی، آئینی اقدار اور تمام مذاہب کے احترام کی روایت کو ہر حال میں برقرار رکھنا چاہیے۔”

No Comments:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *