Vinco Paints - Advt

قومی خبریں

خواتین

ہائی کورٹ نے سونم وانگچک کو میدانتا اسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا

یہ حکم چیف جسٹس ڈی کے اپادھیا ئے کی سربراہی والی بنچ نے دیا

نئی دہلی، 21 جولائی (میرا وطن نیوز)
دہلی ہائی کورٹ کی ڈویژن بنچ نے جنتر منتر پر تقریباً 20 دنوں سے بھوک ہڑتال کر رہے سونم وانگچک کو صفدر جنگ اسپتال سے میدانتا اسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔ یہ حکم چیف جسٹس ڈی کے اپادھیا ئے کی سربراہی والی بنچ نے دیا۔
سنگل بنچ کے سامنے سماعت کے دوران سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے مرکزی سرکار اور دہلی پولیس کی نما ئندگی کرتے ہوئے کہا کہ سرکار صرف سونم وانگچک کی صحت کے بارے میں فکر مند ہے اور ان کی زندگی پر کوئی بات چیت نہیں کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہریوں کے احتجاج کے حق کا مطلب یہ نہیں کہ وہ خودکشی کریں۔ 19 جولائی کو جسٹس منی پشکرنا کی سنگل بنچ نے گیتانجلی انگمو کی عرضی پر کوئی عبوری حکم دینے سے انکار کر دیاتھا اور مرکزی حکومت کو سونم وانگچک کی صحت کے بارے میں اسٹیٹس رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی تھی۔
سنگل بنچ کے سامنے سماعت کے دوران، گیتانجلی کی نمائندگی کرنے والے سینئر وکیل کپل سبل نے کہا کہ سونم وانگچک کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنی پسند کے اسپتال اور ڈاکٹر سے علاج کرائیں۔ عدالت نے سوال کیا کہ سرکاری ڈاکٹروں پر شک کیوں کیا جا رہا ہے۔ سبل نے جواب دیا، ’میں سرکاری ڈا کٹر وں پر شک نہیں کر رہا ہوں۔ میں صرف یہ چاہتا ہوں کہ سونم وانگچک اور ان کے اہل خانہ کو اسپتال اور ان کی پسند کا ڈاکٹر بھیجا جائے۔ سبل نے یہ بھی کہا کہ سونم وانگچک کی نگرانی کے لیے پولیس تعینات ہے ۔ ان کی اہلیہ اور اہل خانہ کو بھی ان سے ملنے نہیں دیا جا رہا ہے اور انتظار کرایاجا رہا ہے۔
مرکزی سرکارکی نمائندگی کرنے والے اے ایس جی چیتن شرما نے کہا کہ سرکار زندگیاں بچانے کی پا بند ہے۔ شرما نے کہا کہ صدرجمہوریہ اور دیگر اہم شخصیات علاج کے لیے ایمس اور صفدرجنگ جاتے ہیں۔ سماعت کے دوران جائے وقوعہ پر موجود ایمس کے ایک ڈاکٹر نے کہا کہ انہیں ان پر بھروسہ نہیں ہے۔ یہ محض اعتماد کا معاملہ ہے۔ سبل نے پھر سوال کیا کہ پولیس والا وہاں کیا کر رہا تھا۔ ان کا بلڈ پریشر ہائی تھا۔ کیا وہ مریض کا علاج کر رہا تھا؟ چیتن شرما نے پھر جواب دیا کہ یہ غلط ہے۔ وہاں کوئی پولیس اہلکار موجود نہیں تھا۔
سماعت کے دوران، گیتانجلی نے کہا کہ وہ اپنے پوٹاشیم پر دوسری رائے چاہتی ہے، لیکن اس سے انکار کر دیا گیا۔ اس کے بعد انہوں نے سیمپل طلب کیا، جو 12 گھنٹے بعد فراہم کیا گیا۔ جب وہ لیب گئی تو یہ سب بند تھا۔ چیتن شرما نے پھر کہا کہ یہ عدالت ہے، سرگرمی کی جگہ نہیں۔ گیتانجلی نے ایک عرضی دائر کر کے صفدرجنگ اسپتال سے وانگچک کو فوری طور پر رہا کرنے یا انہیں دوسرے اسپتال منتقل کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ وانگچک کو غیر قانونی طور پر حراست میں لیا جا رہا ہے، ان کے خاندا ن ، وکلاء اور ذاتی ڈاکٹروں سے الگ تھلگ رکھا جا رہا ہے۔
درخواست میں کہا گیا تھا کہ سونم وانگچک کو دہلی پولیس نے 18 جولائی کی صبح جنتر منتر سے اٹھایا اور ان کی رضامندی کے بغیر صفدرجنگ اسپتال لے گئی۔ درخواست میں کہا گیا کہ سونم وانگچک کے خلاف فوجداری مقدمہ درج کیے بغیر یا گرفتاری یا احتیاطی کارروائی کے عدالتی حکم کے بغیر اسپتال میں مسلسل نظربند رہنا غیر قانونی ہے۔ انہیں پرامن احتجاج سے ہٹانے کے لیے طبی مداخلت کی آڑ میں حراست میں لیا جا رہا ہے۔
عرضی میں کہا گیا کہ دہلی پولیس نے دہلی ہائی کورٹ کے حکم کی آڑ میں ایسا کیا، جس نے سونم وانگچک کی صحت پر مسلسل نظر رکھنے کا حکم دیا تھا۔سونم وانگچک 28 جون سے بھوک ہڑتال پر ہیں۔ یہ بھوک ہڑتال این ای ای ٹی اور دیگر امتحانات میں سوالیہ پرچہ لیک ہونے کے بعد مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھا ن کے استعفیٰ کا مطالبہ کرنے کے لیے کی جا رہی ہے۔

No Comments:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *