
ایک ناقابل یقین اورمایوس کن فیصلہ،اس فیصلہ کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا جائے گا:مولانا ارشدمدنی
نئی دہلی7جولائی (میرا وطن نیوز )
گجرات ہائی کورٹ کی دو رکنی بینچ نے آج ہندوستانی تاریخ کے پھانسی کی سزا کے سب سے بڑے مقد مہ میں غیرمتوقع فیصلہ سنا دیا۔ ہائیکورٹ نے سیشن عدالت سے پھانسی کی سزا پانے والے 38 ملزمین اور عمر قید کی سزا پانے والے 11 ملزمین کی سزا ¶ں برقرار رکھا ہے۔گجرات ہائی کورٹ کی دو رکنی بینچ کے جسٹس اے وائی کوگجے اور جسٹس سمیر دوے نے تقریباً ایک سال تک اس اہم مقدمہ کی یومیہ کی بنیاد پر حتمی سماعت کی تھی اور فیصلہ محفوظ کرلیا تھا جسے آج سنایا گیا، دو رکنی بینچ نے ملزمین کی جانب سے نچلی عدالت کے فیصلے کوچیلنج کرنے والی اپیلوں پر بھی سماعت کی۔
کل 49 ملزمین میں سے جمعیة علماءمہاراشٹر (ارشد مدنی) قانونی امداد کمیٹی نے جمعیة علماءاحمد آباد (گجرات) کے تعاون سے39 ملزمین کو قانونی امداد فراہم کی ہے۔ملزمین سال 2008 سے جیل کی سلاخوں کے پیچھے مقید ہیں۔تفتیشی ایجنسیوں نے ملزمین کو ملک کی مختلف ریاستوں بشمول یو پی، راجستھان، کیرالا، کرناٹک، مہاراشٹر، مدھیہ پردیش و دیگر سے گرفتارکیا تھا۔
ملزمین کے دفاع میں ملک کے نامور کریمنل وکلاءناگا متھو(سبکدوش جسٹس ہائی کورٹ)، ابھئے تھپسے (سبکدوش جسٹس ہائی کورٹ)، نتیاراما کرشنن(سپریم کورٹ)مہر دیسائی (بامبے ہائیکورٹ) یوگ موہت چودھری(بامبے ہائیکورٹ)ہردے بوچ،تیجس باروت، اسیم پنڈیا، سومناتھ وٹس(گجرات ہائی کورٹ) و دیگر نے بحث کی تھی۔ جس پر آج فیصلہ سناتے ہوئے احمدآبادہائی کورٹ نے سیشن عدالت کے فیصلہ کو جوں کا توں برقرا ررکھا-
جمعیةعلماءہند کے صدرمولانا ارشدمدنی نے احمد آباد ھائی کورٹ کے فیصلہ پر اپنے ردعمل کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ احمدآبادہائی کورٹ کا فیصلہ ایک ناقابل یقین اور مایوس کن فیصلہ ہے ،جمعیةعلماءہند اس فیصلہ کے خلاف سپریم کورٹ جائے گی،اور ملزمین کو پھانسی کے تختہ سے بچانے کے لئے ملک کے نامو ر،کریمنل وکلاءکی خدمات حاصل کرے گی اور ان کے مقدمات کومضبوطی کے ساتھ لڑے گی، ہمیں پورایقین ہے کہ اعلیٰ عدالت سے ان نوجوانوں کومکمل انصاف ملے گا، انشاءاللہ۔
مولانا مدنی نے مزیدکہا کہ ہمارے سامنے پہلا مرحلہ یہ ہے کہ پھانسی کی سزا ¶ں پر سپریم کورٹ سے اسٹے لیا جائے، جس کے لیے وکلا کو ہدایت دیدی گئی ہے کہ وہ لائحہ عمل تیار کریں ،انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایسے متعددمعاملے ہیں،جن میں نچلی عدالتوں نے سزائیں دیں مگر جب وہی معاملے اعلیٰ عدالت میں گئے تومکمل انصاف ہوا،اس کی ایک بڑی مثال اکشردھام مندرحملہ کا معاملہ ہے، جس میں نچلی عدا لت نے مفتی عبدالقیوم سمیت تین افرادکو پھانسی اور چارلوگوں کو عمر قید کی سزادی تھی، یہاں تک کہ گجرا ت ہائی کورٹ نے بھی اس فیصلہ کو برقراررکھاتھا، لیکن جمعیةعلماءہند کی قانونی امدادکے نتیجہ میں جب یہ مقدمہ سپریم کورٹ میں گیا تو یہ سارے لوگ نہ صرف باعزت بری ہوئے بلکہ بے گناہوں کو دہشت گردی کے الزام میں پھانسنے پر عدالت نے گجرات پولس کی سخت سرزنش بھی کی تھی،مولانا مدنی نے کہا کہ ہمیں امید ہے کہ اس اہم مقدمہ میں بھی ملزمین کو سپریم کورٹ سے راحت حاصل ہوگی۔
انہوں نے تفصیل بیان کرتے ہوئے کہا کہ اس سے قبل نچلی عدالت اور ہائی کورٹ سے پھانسی کی سزا پانے والے 11/ ملزمین کے مقدمات کی پیروی جمعیة علماءہند نے کی تھی اور ایک بھی ملزم کو پھانسی کی سزا ہونے نہیں دی گئی، ہمیں امید ہے ہم ملزمین کو پھانسی کی سزا ¶ں سے بچانے میں کامیاب ہونگے ۔انہوںنے کہاکہ امریکن قونصلیٹ پر حملہ کے مقدمہ میں سات لوگوں کو پھانسی کی سزا ہوئی تھی اور ممبئی کے ایک ملزم کوبھی ممبئی کی نچلی عدالت سے پھانسی کی سزا ہوئی تھی، الحمداللہ جمعیة علماءہند کی کامیاب پیروی سے سات ملزمین باعزت بری ہوئے جبکہ دوافراد کی سزا ¶ں کو سات سال میں تبدیل کردیا گیا، اسی طرح دو افراد کی سزا ¶ں کو پھانسی سے عمر قید میں تبدیل کیا گیا۔ہمیں دوسرے مقدمات کی طرح اس مقدمہ میں بھی انصاف ملے گا، انشاءاللہ ۔
آج احمد آباد ہائی کورٹ جانب سے فیصلہ سنائے جانے کے بعد جمعیة علماءمہاراشٹر کے صدر مولانا حلیم اللہ قاسمی نے اپنے بیان میں کہا کہ ہائی کورٹ کا فیصلہ چونکانے والاہے،اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا جائے گا۔ اس تعلق سے ملزمین کے اہل خانہ اوروکلا کی ایک مشترکہ میٹنگ بھی جلدہی منعقدکی جائے گی ، آج عدالت نے جن ملزمین کو پھانسی کی سزا سنائی ہے ان کا تعلق گجرات، یوپی، کرناٹک ،کیرالا، مہاراشٹر،مدھیہ پردیش، آندھرا پردیش، راجستھان، بہار اور دہلی سے ہے اور ان پر الزام ہے کہ انہوں نے غیر قانونی طریقے سے دھماکہ خیز مادہ جمع کیا تھا اور پھر بم دھماکہ کیا ،جس سے 56 لوگوں کی موت ہوئی جبکہ 200 سے زائد لوگ زخمی ہوئے تھے۔ملزمین پر یہ بھی الزام عائد کیا گیا کہ وہ ممنوعہ تنظیم انڈین مجاہدین اور سیمی کے ممبر ہیں اور وہ 2002 کے گودھرا فسادات کا بدلا لینا چاہتے تھے۔
واضح رہے کہ یہ ہندوستانی عدلیہ کی تاریخ میں اپنی نوعیت کا پہلا ایسا مقدمہ ہے جس میں ملزمین کی جا نب سے جمعیة علماءہند کے توسط سے کی گئی درخواست پر35 ایف آئی آر (مقدمات) کو یکجا کرکے ایک ہی عدالت میں اس کی سماعت ہوئی، جس میں 2800سو سرکاری گواہان میں سے 1163 سرکا ری گواہان اور 8 دفاعی گواہوں نے عدالت میں گواہی دی۔اس مقدمہ کی سماعت 13 سال تک چلی، دوران سماعت ایک بھی ملزم کو ضمانت پر رہائی نہیں ملی بلکہ ایک ملزم وعدہ معاف گواہ بن گیا جس کا نام ایاز رزاق شیخ ہے، عدالت نے وعدہ معاف گواہ کو ملزمین کے خلاف گواہی دینے اور استغاثہ کی مدد کرنے کے عوض میں مقدمہ سے بری کردیا۔
No Comments: