
شفافیت کی کوشش یا سرکاری کنٹرول میں اضافہ؟
ماہرین اور سماجی کارکنوں کے اہم سوالات
نئی دہلی،19جون (میرا وطن نیوز )
وقف اداروں کی آمدنی، اخراجات، جائیدادوں، واجبات اور عطیات کے مکمل ریکارڈ کی لازمی تیاری سے متعلق مجوزہ ضوابط اور اکاو ¿نٹنگ فارمیٹس پر ملک بھر میں بحث تیز ہوگئی ہے۔ سرکاراور اس کے حا می حلقے اسے وقف املاک کے انتظام میں شفافیت، جوابدہی اور بہتری کی جانب ایک اہم قدم قرار دے رہے ہیں، جبکہ متعدد سماجی تنظیمیں، متولیانِ وقف اور ماہرینِ قانون اسے وقف اداروں کی خو دمختاری میں ممکنہ مداخلت کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر تمام وقف اداروں کو اپنی آمدنی، اخراجات، کرایہ جاتی آمدن، عطیات، سرمایہ کاری اور جائیدادوں کی مکمل تفصیلات باقاعدگی سے جمع کرانی پڑیں تو مالی بے ضابطگیوں اور بدعنوانی پر کافی حد تک قابو پایا جا سکتا ہے۔ اس سے وقف املاک کی حقیقی مالیت کے تعین، ناجائز قبضوں کی نشاند ہی اور وسائل کے بہتر استعمال میں بھی مدد مل سکتی ہے۔
تاہم اس نظام پر کئی سوالات بھی اٹھائے جا رہے ہیں۔ ناقدین کے مطابق چھوٹی مساجد، قبرستان،
مدا رس اور دیگر مقامی وقف ادارے پہلے ہی محدود وسائل کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔ ایسے میں تفصیلی حسا بات، آڈٹ اور مسلسل رپورٹنگ کی پابندی ان کے لیے اضافی مالی اور انتظامی بوجھ ثابت ہو سکتی ہے۔
قانونی ماہرین کے مطابق اصل سوال یہ ہے کہ آیا سرکار صرف حسابات اور مالی تفصیلات حاصل کرنا چا ہتی ہے یا ان معلومات کی بنیاد پر وقف اداروں کے انتظام اور اختیارات میں بھی تبدیلی کا ارادہ رکھتی ہے۔ اگر مستقبل میں ان ریکارڈز کو وقف املاک کی ازسرِ نو درجہ بندی، حصول یا اضافی حکومتی نگرانی کے لیے استعمال کیا گیا تو یہ عدالتی تنازعات اور وسیع عوامی بحث کا موضوع بن سکتا ہے۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ شفافیت اور خودمختاری کے درمیان توازن برقرار رکھنا سب سے بڑا چیلنج ہوگا۔ اگر اس نظام کو منصفانہ اور یکساں طور پر نافذ کیا گیا تو اس سے وقف املاک کے تحفظ، ترقی اور بہتر انتظام کی راہ ہموار ہو سکتی ہے، لیکن اگر اسے محض کنٹرول کے آلے کے طور پر دیکھا گیا تو بداعتمادی اور تنازعات میں اضافہ بھی ہو سکتا ہے
سوشل اینڈ آر ٹی آئی ایکٹوسٹ محمد شاہد گنگوہی نے کہا کہ شفافیت ہر ادارے کے لیے ضروری ہے، لیکن اس کے نام پر مذہبی اور فلاحی اداروں کی خودمختاری متاثر نہیں ہونی چاہیے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ سر کار واضح کرے کہ جمع کیے جانے والے مالی اور جائیدادی اعداد و شمار صرف انتظامی بہتری کے لیے ا ستعما ل ہوں گے یا مستقبل میں وقف املاک کے اختیارات اور انتظامی ڈھانچے میں تبدیلی کے لیے بھی بنیاد بن سکتے ہیں۔
No Comments: