
حیدرآباد : امریکی قونصل جنرل(حیدرآباد ) جینیفر لارسن نے کہا کہ غلط معلومات (فیک نیوز) پھیلانے کا خطرہ جمہوریت کو کمزور کرتا ہے اور صحافیوں کو چوکس رہنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ غلط معلومات ایک بڑا مسئلہ ہے اور صحافیوں کو اس کے خلاف لڑنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ صحافیوں کو حقائق کی جانچ کی مہارتوں سے بااختیار ہونا چاہئے تاکہ وہ غلط معلومات کو پھیلانے سے روک سکیں۔
امریکی قونصل جنرل(حیدرآباد ) جینیفر لارسن سالار جنگ میوزیم میں منعقدہ تربیتی کورس کے اختتامی اجلاس سے خطاب کے دوران ان خیالات کا اظہارکیا ہے۔ قونصل جنرل لارسن نے کہا کہ ” جمہوریت ایک آزاد اور بے باک صحافت پر منحصر ہے، اور اگر صحافیوں کے پاس درست معلومات نہیں ہیں، تو وہ ہمارے جمہوری عمل کی حفاظت میں ہماری مدد نہیں کر سکتے،” قونصل جنرل لارسن کہا کہ عثمانیہ یونیورسٹی کے اشتراک سے فیکٹ چیک کورس تیار کرکے اردو صحافیوں کے لیے ورک شاپس کا انعقاد عمل میں لایا گیا ہے۔
تلنگانہ کے ڈی جی پی انجنی کمار نے صحافیوں سے درخواست کی کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ فرضی خبریں نہ پھیلیں۔ انہوں نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ میسج فارورڈنگ کے رجحان پر عمل نہ کریں۔ “کبھی بھی کسی پیغام یا ویڈیو کو اس وقت تک فارورڈ نہ کریں جب تک کہ آپ کو اس کی صداقت کے بارے میں یقین نہ ہو جائے۔ اس سے لوگوں کی زندگیوں میں کوئی فرق نہیں پڑتا چاہے آپ صحیح پیغام کو آگے نہ بھیجیں۔ جبکہ اگر آپ غیر صدیق شدہ پیغامات کو فارورڈ کرتے ہیں تو یہ معاشرے کے لئے پریشانی کا باعث بنتاہے اور اگر آپ فارورڈ کرتے ہیں تو تشدد کا سبب بن سکتا ہے۔
تلنگانہ کے ڈی جی پی انجنی کمار نے کہا کہ صحافیوں کا کردار معاشرے میں بہت اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ صحافیوں کو حقائق کو اجاگر کرنا چاہیے اور غلط معلومات کو پھیلانے سے روکنا چاہیے۔ عثمانیہ یونیورسٹی کے شعبہ صحافت اور ابلاغ عامہ نے امریکی قونصلیٹ جنرل حیدرآباد کے تعاون سے آٹھ ماہ کی تربیت کا اہتمام کیا۔ اردو کے 37 صحافیوں کی تربیت کی تکمیل پر انہیں آج اسناد تقسیم کئے گئے ہیں ۔
پروفیسرا سٹیونسن کوہیر،صدر، شعبہ صحافت، عثمانیہ یونیورسٹی نے جلسہ تقسیم اسناد میں مہمانوں کا خیرمقدم کیا اور تربیتی پروگرام کے انعقاد پر امریکی قونصلیٹ جنرل کا شکریہ ادا کیا۔ اس تریبتی پروگرام کے مقاصد کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ اس کے ذریعہ اردو صحافیوں کو حقائق کی جانچ کی مہارتوں، ٹولز اور تکنیکوں سے بااختیار بنانا ہے تاکہ غلط معلومات(فیکس نیوز) کو مرکزی دھارے کے میڈیا میں آنے سے روکا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ بلینڈڈ موڈ کے تحت پروجیکٹ میں 40 گھنٹے کی تربیتی کلاسیں منعقد کی گئی ہے اور اس میں مین اسٹریم اردو چینلز اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز سے وابستہ 37 صحافیوں نے شرکت کی ۔
No Comments: