قومی خبریں

خواتین

سماجوادی پارٹی رکن اسمبلی رفیق انصاری بارہ بنکی سے گرفتار

تقریباً 100 غیر ضمانتی وارنٹ کے باوجود عدالت میں پیش نہیں ہونے پر کاراوئی

لکھنئو :اتر پردیش کے میرٹھ سے سماجوادی پارٹی رکن اسمبلی رفیق انصاری کو آج بارابنکی پولیس نے گرفتار کر لیا۔ ساتھ ہی میرٹھ پولیس رفیق انصاری کو لینے کے لیے بارابنکی روانہ ہو گئی ہے۔ دراصل الٰہ آباد ہائی کورٹ نے رفیق کے خلاف غیر ضمانتی وارنٹ جاری کیے تھے۔ اس سلسلے میں رفیق کو 100 سے زائد نوٹس دیے گئے تھے، اس کے باوجود وہ عدالت میں پیش نہیں ہوئے۔رواں ماہ کے شروع میں الٰہ آباد ہائی کورٹ نے 1995 کے ایک معاملے میں رفیق انصاری کے خلاف مجرمانہ کارروائی کو رد کرنے سے صاف انکار کر دیا تھا۔ عدالت کا کہنا تھا کہ انھیں 1997 سے لے کر 2015 کے درمیان تقریباً 100 غیر ضمانتی وارنٹ جاری کیے گئے، اس کے باوجود وہ ٹرائل کورٹ میں پیش نہیں ہوئے۔ رکن اسمبلی رفیق انصاری نے مجرمانہ معاملے کو ختم کرنے کے لیے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا تھا، لیکن انھیں کوئی راحت نہیں ملی تھی۔ اس معاملے میں جسٹس سنجے کمار سنگھ کا کہنا تھا کہ موجودہ رکن اسمبلی کے خلاف غیر ضمانتی وارنٹ پر توجہ نہ دینا اور انھیں اسمبلی اجلاس میں حصہ لینے کی اجازت دینا ایک خطرناک اور سنگین مثال قائم کرے گا۔
قابل ذکر ہے کہ رفیق انصاری نے دفعہ 482 کے تحت ایک درخواست داخل کی تھی اور گزارش کی تھی کہ ایڈیشنل چیف جیوڈیشیل مجسٹریٹ میرٹھ کی ایم پی-ایم ایل کورٹ کے سامنے ایک مجرمانہ معاملے میں ان کے خلاف زیر التوا مجرمانہ کارروائی کو رد کیا جائے۔ یہ معاملہ 1995 میں شہر کے نوچندی پولیس تھانہ میں درج کیا گیا تھا۔ جانچ کے بعد 22 ملزمین کے خلاف پہلا فرد جرم داخل کیا گیا تھا اور اس کے بعد درخواست گزار رفیق انصاری کے خلاف مزید ایک ضمنی فرد جرم داخل کیا گیا تھا، جس پر متعلقہ عدالت نے اگست 1997 میں نوٹس لیا تھا۔اس معاملے میں رفیق انصاری ایک بار بھی عدالت میں پیش نہیں ہوئے۔ اس کے بعد عدالت نے 12 دسمبر 1997 کو ایک غیر ضمانت وارنٹی جاری کر دیا، لیکن وہ پھر بھی پیش نہیں ہوئے۔ اس کے بعد کورٹ لگاتار غیر ضمانتی وارنٹ جاری کرتی رہی، جن کی تعداد 101 ہو گئی۔ ہائی کورٹ میں سماعت کے دوران رفیق انصاری کے وکیل نے مجرمانہ کارروائی کو اس بنیاد پر رد کرنے کا مطالبہ کیا تھا کہ اس معاملے میں بنیادی طور پر ملزم بنائے گئے 22 افراد مقدمے کا سامنا کرنے کے بعد پہلے ہی بَری ہو چکے ہیں، اس لیے ان کے خلاف کارروائی کو رد کیا جانا چاہیے۔

No Comments:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *