
نئی دہلی، 16 مئی (میرا وطن نیوز )
نیشنل اسٹوڈنٹس یونین آف انڈیا (این ایس یو آئی) کے صدر ونود جھاکھر کی قیادت میں ہزاروں طلباء نے ہفتہ کو اوکھلا میں قومی اہلیتی امتحان (این ٹی اے) کے دفتر کے باہر احتجاج کرتے ہوئے نیٹ کے سوالیہ پرچہ لیک ہونے پر پابندی لگانے اور مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا۔
ڈی یو اسٹوڈنٹس یونین کے سابق صدر رونق کھتری بھی احتجاج میں موجود تھے۔ احتجاج کے دوران قومی صدر ونود جھاکھر سمیت کئی مظاہرین کو سیکورٹی فورسز نے حراست میں لے لیا۔ احتجاج کے دور ا ن طلباءکا کہنا تھا کہ پیپر لیک نے لاکھوں محنتی امیدواروں کا مستقبل داو ¿ پر لگا دیا ہے۔
طلباءنے سپریم کورٹ کی نگرانی میں سینٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی) کی تحقیقات، طلباء کے لئے مفت دماغی صحت خدمات، متاثرہ طلباءکے لئے مفت قانونی امداد اور مالی معاوضہ اور مالی امداد کا مطالبہ کیا۔
ونود جھاکھرنے کہا کہ پیپر لیک کو روکا جانا چاہیے اور طلبہ کو انصاف فراہم کیا جانا چاہیے۔ بصورت دیگر طلبہ کی محنت، والدین کے خوابوں اور ملک کے تعلیمی نظام کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کے خلاف جنگ جاری رہے گی۔ انہوںنے کہا کہ ہمیں حراست میں لیا جا سکتا ہے، لیکن طلباءکے لیے انصاف کی اس لڑائی کو روکا نہیں جا سکتا۔
No Comments: