
نئی دہلی،20اپریل (میرا وطن نیوز )
جنوبی دہلی کے رکن پارلیمنٹ رام ویر سنگھ بدھوڑی نے اعلان کیا ہے کہ راجدھانی کے 31 دیہی علاقو ں کے دیہاتوں کو جلد ہی ’لال ڈورا‘ کی حدود میں واقع ان کی رہائشی اراضی کے مالکانہ حقوق مل جائیں گے۔ اس اقدام سے مقامی باشندوں کو بینک قرضوں تک رسائی حاصل ہو سکے گی، اور دیگر بنیادی حقو ق کے استعمال میں سہولت کے لیے پراپرٹی کارڈ جاری کیے جائیں گے۔ انہوں نے سرکار پر زور دیا ہے کہ اس نظام کو دہلی بھر کے تمام گاو ¿ں پر نافذ کیا جائے۔
پچھلے سالبدھوڑی نے مرکزی وزیر برائے ہاو ¿سنگ اور شہری امور منوہر لال کو اس معاملے میں خط لکھا تھا۔ اس کے بعد یہ مسئلہ حکومت ہند کی وزارت پنچایتی راج کو بھیجا گیا۔ خط میں اس بات پر روشنی ڈالی گئی کہ دہلی کی ترقی کے نام پر گاو ¿ں والوں کی زمین حاصل کی گئی تھی، جس کے لیے انہیں معمولی معاو ضہ ملا تھا۔ اس کے باوجود گاو ¿ں والوں نے کوئی اعتراض نہیں کیا۔ ان کے خط کے جواب میں، پنچایتی راج کی وزارت کے سکریٹری نے اب واضح کیا ہے کہ اگرچہ دہلی میں رسمی پنچایتی نظام نہیں ہے، تاہم وزیر اعظم نریندر مودی کی ’سوامیتوا‘ اسکیم کو راجدھانی میں لاگو کیا گیا ہے۔
اس پہل کے تحت دہلی سرکار اور سروے آف انڈیا کے درمیان ایک مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے گئے ہیں، جس میں اسکیم میں شامل کرنے کے لیے 31 مخصوص گاو ¿ں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ ان دیہا توں کی ڈرون پر مبنی نقشہ سازی مکمل کر لی گئی ہے، اور اس کے نتیجے میں آنے والے نقشے متعلقہ افسروں کے حوالے کر دیے گئے ہیں۔ دہلی سرکار فی الحال اس سلسلے میں ضروری ضابطے وضع کر رہی ہے، اور تو قع ہے کہ بہت جلد ان دیہات کے مکینوں کو پراپرٹی کارڈ الاٹ کیے جائیں گے۔ ایک بار جب یہ کارڈ جاری ہو جائیں گے، تو ان دیہات کے رہائشیوں کو بینک قرضوں کے حصول میں مزید مشکلات کا سا منا نہیں کرنا پڑے گا۔
No Comments: