
برسات سے پہلے نالے کی صفائی اور بارش کا پانی روڈ پر جمع نہ ہو یقینی بنایا جائے
امانت اللہ خان نے پی ڈی بلیو ڈی کے سینئر افسروں کی ہدایت جاری کیں
نئی دہلی ،19جون (میرا وطن نیوز )
اوکھلا اسمبلی حلقہ میں جہاں ایک طرف ترقیاتی کاموں کا سلسلہ جاری ہیں تو وہیں ان ترقیاتی کاموں کی وجہ سے لوگوں کو کئی طرح کی پریشانی بھی ہورہی ہے ۔اس کی اہم وجہ ان ترقیاتی کاموں کا منظم طر یقہ سے نہیں ہونا اور وقت رہتے مکمل نہیں ہونا بتایا جارہا ہے ۔حلقہ میں آرہی انہیں تمام اڑچنوں کی شکا یت ملنے پر مقامی ایم ایل اے امانت اللہ خان نے سڑک پر اتر کر ترقیاتی کاموں کا جائزہ لیا اور متعلقہ افسروں اور ٹھیکیداروں کو پھٹکار لگاتے ہوئے لوگوں کی شکایتوں کو دور کرنے اور وقت رہتے کاموں کو مکمل کرنے کی ہدایت دیں۔
مقامی ایم ایل اے امانت اللہ خان نے جمعہ کو اپنی ٹیم کی موجودگی میں پی ڈبلیو ڈی کے سینئر افسران کے ساتھ جامعہ میٹرو اسٹیشن سے لے کر اوکھلا ہیڈ تک تک روڈ کا جائزہ لیا ۔انہوں نے اس اہم روڈ پر دہلی جل بورڈ کے ذریعہ پانی کی پائپ لائن ڈالے جانے کے کام کا معائنہ کیا ۔واضح رہے کہ جل بورڈ پانی کی بڑی لائن ڈال رہا ہے جس کی وجہ سے سڑک ٹوٹ گئی ہے ۔اس سے قبل بھی جل بورڈ کے کام کی وجہ سے یہاں وقتاً فوقتاً کھدائی کئے جانے کی وجہ سے لوگوں کو آمدرفت میں خاصہ پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔اس روڈ پر ترقیاتی کام ہونے کی وجہ سے بھی راہ گیروں ،علاقائی لوگوں اور دو پہیہ اورچار پہیہ گاڑیوں کو بھی آمدرفت میں خاصہ دقتیں ہورہی ہیں ۔انہیں سب شکایتوں کے ازالے کے لئے ایم ایل اے کو سڑک پر اتر کر رو ب رو ہونا پڑا
اس موقع پرامانت اللہ خان نے برسات سے پہلے حلقہ میں جگہ جگہ سڑکوں پر بارش کاپانی جمع بھرجانے اور نالے کی صفائی کرنے کے متعلق بھی افسروں کو ہدایت دیں ۔انہوں نے افسران کو تاکید کی کہ وہ بر سات سے پہلے نالوں کی صفائی کو یقینی بنائیں اور برسات کے دوران بارش کا پانی روڈ پر جمع نہیں ہو ، اس کے انتظامات کئے جائیں ۔امانت اللہ خان نے کہا کہ حلقے میں لگاتار ترقیاتی کام ہورہے ہیں اور سیور ڈالنے اور سڑکوں کی تعمیرات کا سلسلہ بدستور جاری ہے ۔انہوں نے کہا کہ جب اتنی بڑی تعداد میں ڈیولپمنٹ ہوگا تب مختلف وجوہات کی وجہ سے تھوڑی بہت پریشانی تو ہوتی ہے لیکن ان کی پوری کوشش ہے کہ متعلقہ افسر اور ٹھیکیدار الرٹ رہ کر ترقیاتی کاموں وقت رہتے پورا کریں جس سے لوگوں کو کم سے کم دقتوں کا سامنا کرنا پڑے۔
No Comments: