
نئی دہلی ، 29 اپریل (میرا وطن)
دہلی ہائی کورٹ نے سابق وزیر اعلی اروند کجریوال اور 22 دیگر ملزمان کو دہلی ایکسائز اسکام کیس میں ٹرائل کورٹ کی جانب سے بری کیے جانے کو چیلنج کرنے والی ایک درخواست کی سماعت کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ کا مکمل ریکارڈ طلب کیا ہے۔ جسٹس سورن کانتا شرما کی سربراہی میں بنچ نے ٹرائل کورٹ کو حکم دیا کہ وہ میسنجر کے ذریعے مکمل ریکارڈ طلب کرے۔ کیس کی اگلی سماعت 4 مئی کو ہوگی۔
سماعت کے دوران، عدالت نے نوٹ کیا کہ کچھ ملزمان نے اپنے جوابات داخل کیے تھے، جبکہ کچھ نے نہیں کیے تھے۔ عدالت نے ان ملزمان کو جنہوں نے ابھی تک اپنے جوابات داخل نہیں کیے تھے انہیں ایسا کرنے کا حتمی موقع دے دیا۔ آج کی سماعت کے دوران سی بی آئی کی طرف سے سالیسٹر جنرل (ایس جی) تشار مہتا ، اے ایس جی ایس وی راجو اور ڈی پی سنگھ پیش ہوئے۔
کجریوال ، منیش سسودیا اور درگیش پاٹھک نے سماعت کا بائیکاٹ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے اپنے دلائل ذاتی طور پر یا وکیل کے ذریعے پیش نہ کرنے کا عہد کیا ہے۔ انہوں نے ہائی کورٹ کو لکھا ہے کہ انہیں جسٹس سوارن کانتا شرما پر اعتماد نہیں ہے اور وہ ستیہ گرہ میں حصہ لیں گے۔قابل ذکر ہے کہ 20 اپریل کو جسٹس سورن کانتا نے ایکسائز کیس میں بری ہونے کو چیلنج کرنے والی سی بی آئی کی درخوا ست کی سماعت سے خود کو الگ کرنے کی کیجریوال کی درخواست کو مسترد کر دیا تھا۔ جسٹس سورن کانتا نے کہا، میں اس الزام سے متاثر ہوئے بغیر اپنا فیصلہ سناو ¿ں گا ، جیسا کہ میں نے اپنے 34 سالہ عدالتی کیریئر میں ہمیشہ کیا ہے۔
عدالت نے کہا کہ عدلیہ اور ادارے کو ٹرائل میں ڈال دیا گیا۔ جسٹس شرما نے کہا ، ’میں نے تنازعہ کو حل کرنے کا راستہ چنا ہے۔ عدلیہ کی طاقت الزامات پر فیصلہ دینے کے عزم میں ہے۔ میں نے یہ حکم کسی چیز سے متاثر ہوئے بغیر لکھا ہے۔‘انہوں نے مزید کہا کہ وہ حکم ہندی میں جاری کریں گی کیونکہ دلائل بھی ہندی میں پیش کیے گئے تھے۔ عدالت نے کہا کہ وہ ان مثالوں کا حوالہ دے رہی ہیں جہاں پہلی تاریخ کو کیجریوال اور ان کی پارٹی کے لیڈروں کو راحت دی گئی تھی۔ عدالت نے ایک حکم کا حوالہ دیا جس میں کجریوال کے حق میں یک طرفہ حکم جاری کیا گیا تھا۔
کجریوال نے جسٹس سوارن کانتا کی بنچ سے سوال کیا تھا اور انہیں واپس لینے کی درخواست کی تھی۔ کجریوال نے جسٹس سوارن کانتا کی واپسی کی درخواست کی تھی، یہ کہتے ہوئے کہ عدالتی کارروائی اب تک ان کی منصفانہ ٹرائل کے نامنظور کا باعث بنی ہے۔ انہوں نے فریقین کو سنے بغیر سیشن کورٹ کے حکم کو ’غلط‘ قرار دیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ جب 9 مارچ کو ہائی کورٹ میں پہلی سماعت ہوئی تو 23 ملز مان میں سے ایک بھی موجود نہیں تھا۔ عدالت میں صرف سی بی آئی موجود تھی، لیکن پہلی ہی سماعت میں جسٹس سوارن کانتا نے دوسری طرف کے دلائل کو سنے بغیر ہی قرار دیا کہ سیشن کورٹ کا حکم ’ اولین نظر میں ‘ غلط معلوم ہوتا ہے۔ عدالت ریکارڈ طلب کیے بغیر یا دلائل سنے بغیر اس نتیجے پر کیسے پہنچی؟
No Comments: