
راجیہ سبھا انتخابی عمل کی شفافیت اور مغربی بنگال کی صورت حال پر تشویش کا کیا اظہار
نئی دہلی،16جون (میرا وطن نیوز )
جماعت اسلامی ہند کے مرکز میں منعقد ہونے والی پریس کانفرنس میں جماعت کے سینئر رہنماو ¿ں نے امریکہ ایران امن معاہدے کا خیر مقدم کیا ہے۔ جبکہ ملک کے مختلف حصوں میں جاری انہدامی کارروا ئیوں ، راجیہ سبھا انتخابات کی شفافیت اور مغربی بنگال میں انتخابات کے بعد کی صورت حال پر اپنی گہر ی تشویش ظاہر کی ہے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نائب امیر ملک معتصم خان نے دہلی میں جاری انہدامی کارروائیوں کی شدید مذمت کی اور کہا کہ یہ کارروائیاں قانونی تقاضوں اور بازآبادکاری کے منصوبوں کے بغیر انجام دی جا رہی ہیں۔ انہوں نے ان اقدامات کو انتہائی غیر انسانی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ بنیادی حقوق اور انسانی وقار کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ چند ہفتوں کے دوران دہلی، باندرہ، فرید آباد، ویرم گام (گجرات)، گورے گاو ¿ ں (مہاراشٹر)، وارانسی، سنبھل، جے پور، بھائیندر، پی سی ایم سی اور اٹاوہ میں بڑے پیمانے پر انہدامی کارروائیاں کی گئیں ہیں۔ پمپری چنچواڑ میں افسروں نے متعدد مذہبی مقامات کو نوٹس جاری کی اور رات کے وقت کارروائی کرتے ہوئے کئی عمارتوں کو منہدم کر دیا۔ سورت کے ناصر نگر میں تین دن کے دورا ن 106 مکانات گرائے گئے، جبکہ جے پور میں سڑک کی توسیع کے نام پر نورانی مسجد کو شہید کر دیا گیا۔
اس موقع پر نائب امیر پروفیسر سلیم انجینئر نے کہا کہ جماعت اسلامی ہند حال امریکہ اور ایران کے در میان طے پانے والے امن معاہدے کا خیرمقدم کرتی ہے اور امید کرتی ہے کہ اس کے طے شدہ نکات پر متعلقہ فریق مکمل دیانت داری کے ساتھ عمل کریں گے۔انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان طویل عر صے سے جاری کشیدگی کے پیش نظر یہ معاہدہ تنازعات میں کمی اور خطے میں استحکام کے لیے ایک اہم پیش رفت ہے۔
انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی ہند امید کرتی ہے کہ حکومت ہند امن کے فروغ میں مزید فعال کردار ادا کرے گی۔ ساتھ ہی ہم ایرانی عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں اور ان کے حوصلے کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ بھی ضروری ہے کہ بین الاقوامی برادری غزہ اور فلسطین میں جاری ناانصافیوں، جنگی جرائم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو نظر انداز نہ کرے۔
راجیہ سبھا انتخابات کے حوالے سے پروفیسر سلیم انجینئر نے کہا کہ حالیہ رجحانات نے انتخابی عمل کی سا کھ کے بارے میں تشویشناک سوالات کھڑے کر دئے ہیں۔ ووٹوں کی خرید و فروخت، دولت کے ناجائز استعمال، ارکانِ اسمبلی کو ہراساں کرنے اور کراس ووٹنگ کے الزامات اب ایک حقیقت بن چکے ہیں۔
جماعت اسلامی ہند کے رہنماو ¿ں نے اجتماعی طور پر سول سوسائٹی، انسانی حقوق کی تنظیموں اور قانونی ماہرین سے اپیل کی کہ وہ ان مسائل کا سنجیدگی سے نوٹس لیں اور متاثرہ افراد کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کریں۔ جماعت اسلامی ہند نے ایک بار پھر اس بات کا اعادہ کیا کہ تمام شہریوں کے حقوق، وقار اور سلامتی کا تحفظ ملک کے آئینی اور جمہوری ڈھانچے کو برقرار رکھنے کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔
No Comments: