
نئی دہلی ،29اگست (میرا وطن نیوز )
نیپال وتبت کی سرحد پر گلیشیر ٹوٹنے سے آنے والے حالیہ قیامت خیز اور اچانک سیلاب سے جو مناظر سامنے آرہے ہیں، وہ بہت ہولناک ہیں۔ کونسل کے کارگزار صدر، مولانا انیس الرحمن قاسمی نے جاری بیان میںافسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ دل دہلانے والے اس سونامی نے نوال کوٹ، رسوا، چتوان اور ڈھانڈنگ وغیرہ علاقوں کو سب سے زیادہ متاثر کیا ہے اور ان آفات کے نتیجے میں مصدقہ سرکاری ذرائع کے مطابق اب تک 584 ہلاکتیں ہوچکی ہیں، جبکہ 2500 افراد کے لاپتہ ہونے کی اطلاعات ہیں، لاکھوں لوگوں کے مکانات زمیں بوس ہوچکے ہیں۔
کارگزار صدر کونسل مولانا انیس الرحمن قاسمی نے کہا کہ چھوٹے چھوٹے دینی مکاتب ومدارس بھی سیلا ب کی شد ید زد سے نہ بچ پائے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ کاٹھمنڈو سے کوئی 75 کلومیٹر شمال کے ترشولی بازار میں واقع ایک بڑا دینی ادارہ، دارالقرآن بھی غیرمعمولی طور پر تباہ ہوچکا ہے۔ایسی صورت حال میں تمام اصحاب خیر سے اور عام دردمند لوگوں سے اپیل کی جاتی ہے کہ وہ ابھی سے لوگوں کی راحت رسانی کے لیے حتی المقدور اقدامی جذبے کے ساتھ کاموں کا آغاز کریں۔ یہ ہماری انسانی ذمہ دار یوں کے ساتھ دینی ذمہ داری بھی ہے۔
No Comments: