Vinco Paints - Advt

قومی خبریں

خواتین

سونم وانگچک کی وائرل ویڈیو پر مچا ہڑکمپ ،صفدر جنگ اسپتال کی وضاحت

صفدر جنگ اسپتا ل نے کہا یہ ویڈیو ہائی کورٹ کے تحریری حکم سے پہلے کی ہے

نئی دہلی، 25 جولائی (میرا وطن نیوز)
ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک سے متعلق وائرل ویڈیو پر صفدر جنگ اسپتال انتظامیہ نے ہفتہ کو اپنی وضا حت جاری کرتے ہوئے کہا کہ یہ ویڈیو اس وقت کی ہے جب دہلی ہائی کورٹ کا تحریری حکم اسپتال کو موصول نہیں ہوا تھا۔اسپتال کی جانب سے جاری بیان کے مطابق یہ ویڈیو 21 جولائی کو اسپتال کے اس حصے میں ریکارڈ کی گئی جہاں ویڈیو بنانا ممنوع ہے۔ انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ یہ ویڈیو مبینہ طور پر سونم وانگچک کے ساتھیوں نے ریکارڈ کی اور بعد میں اسے عوامی کیا گیا۔
اسپتال نے بتایا کہ ویڈیو بنائے جانے کے وقت تک دہلی ہائی کورٹ کا تحریری حکم اسپتال کو موصول نہیں ہوا تھا۔ انتظامیہ کے مطابق، 21 جولائی کی شام جیسے ہی عدالت کا تحریری حکم ملا، فوری طور پر تمام قانو نی کارروائی مکمل کی گئی اور اسی روز شام 6 بج کر 40 منٹ پر سونم وانگچک کو گروگرام کے میدانتا اسپتال کے ڈاکٹروں کی ٹیم کے حوالے کر دیا گیا۔
ِقابل ذکر ہے کہ وائرل ویڈیو میں سونم وانگچک کو اسپتال سے باہر جانے سے روکتے ہوئے دکھایا گیا ہے، جس پر وہ پولیس پر انہیں گھر میں نظر بند (ہاو ¿س اریسٹ) رکھنے کا الزام لگاتے نظر آتے ہیں۔د ر یں اثنا، سونم وانگچک کی اہلیہ گیتانجلی اگمو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کئی سوالا ت اٹھائے ہیں۔ ان کا الزام ہے کہ میدانتا اسپتال کے مرکزی دروازے، استقبالیہ (ریسپشن) اور آئی سی یو کے باہر پولیس تعینات ہے، اور یہی طے کر رہی ہے کہ کون ان سے ملاقات کر سکتا ہے اور کون نہیں۔
انہوں نے سوال کیا کہ اگر عدالت واضح کر چکی ہے کہ سونم وانگچک پولیس حراست میں نہیں ہیں، تو پھر پولیس کس اختیار کے تحت ملاقاتوں پر پابندی یا کنٹرول کر رہی ہے؟ ان کے مطابق ایک جمہوری نظام میں پولیس کا کام شہریوں کی حفاظت اور قانون پر عمل درآمد کو یقینی بنانا ہے، نہ کہ اقتدار میں موجود افراد کی جانب سے شہریوں کو کنٹرول کرنا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایسے سوالات ہیں جن پر ہر بھارتی شہری کو غور کرنا چاہیے۔

No Comments:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *