
نئی دہلی، 24 جولائی(میرا وطن نیوز)
وقف ایکٹ 2025 کے خلاف جاری سماجی و قانونی جدوجہد کے دوران جمعہ کو جمعیت علماءہند کے ز یر اہتمام ایوانِ غالب، نئی دہلی میں آل انڈیا متولیان کانفرنس منعقد ہوئی، جس کی صدارت سید شاہ حا فظ محمد علی الحسینی، سجادہ نشین درگاہِ حضرت خواجہ بندہ نواز گیسو دراز رحمتہ اللہ علیہ، گلبرگہ شریف نے کی ۔ جبکہ کلمات استقبالیہ ناظم عمومی جمعیت علماءہند مولانا محمد حکیم الدین قاسمی نے پیش کیے۔ نظامت کے فرائض مولانا مفتی حسان قاسمی نے انجام دیے۔
کانفرنس سے کلیدی خطاب کرتے ہوئے جمعیت علماءہند کے صدر مولانا محمود اسعد مدنی نے کہا کہ وقف محض جائیداد نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی امانت اور اسلامی تہذیب کا اہم ستون ہے، اس لیے اس کی حفاظت،دستاویزات کا تحفظ اور ضرورت پڑنے پر قانونی جدوجہد بھی عبادت ہے۔ انہوں نے کہا کہ وقف کو صرف متولی کا مسئلہ نہیں بلکہ پوری ملت کی مشترکہ ذمہ داری سمجھنا ہوگا۔ انھوں نے کہا کہ جس قوم نے اپنی امانتوں کی حفاظت چھوڑ دی، تاریخ نے بھی اس کی حفاظت چھوڑ دی۔
مولانا مدنی نے کہا کہ اوقاف کو درپیش مسائل میں بیرونی چیلنجوں کے ساتھ ہماری اپنی غفلت، ناقص انتظام اور دستاویزات کی عدم حفاظت بھی شامل ہے۔ انہوں نے وقف (ترمیمی) ایکٹ 2025 کے تناظر میں حکومت سے مطالبہ کیا کہ انصاف اور آئینی اصولوں کو ہر حال میں مقدم رکھا جائے ، انھوں نے کہا کہ میں حکومت سے بھی یہ کہنا چاہتا ہوں کہ انصاف کسی ایک طبقے پر احسان نہیں ہوتا، انصاف ریاست کی سب سے بڑی طاقت ہے۔قانون کی عزت اسی وقت باقی رہتی ہے جب قانون سب کے لیے ایک جیسا ہو۔
مولانا مدنی نے متولیان سے اپیل کی کہ وقف املاک کا مکمل ریکارڈ محفوظ اور ڈیجیٹلائز کیا جائے، مالی شفافیت، باقاعدہ آڈٹ اور ناجائز قبضوں کے خلاف موئثر قانونی کارروائی کو یقینی بنایا جائے ۔مولانا مدنی نے موروثیت سے اجتناب پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس سے اداروں کا اعتماد اور روح متاثر ہوتی ہے۔ مولانا مدنی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ موجودہ حالات میں اوقاف کے تحفظ کے لیے جز وقتی نہیں بلکہ کل وقتی جدوجہد کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم اخلاص، منصوبہ بندی اور مسلسل محنت کے ساتھ اس میدان میں کام کریں، ذمہ دار افراد تیار کریں اور ملت کو اس مشن سے جوڑیں تو اللہ تعالیٰ ہماری کوششوں کو قبول فرمائیں گے اور اوقاف کے خلاف ہونے والی ہر سازش کو ناکام بنائیں گے۔
پٹنہ ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس اقبال انصاری نے اپنے خطاب میں کہا کہ جہاں متولی موجود ہیں، وہاں وقف املاک رجسٹریشن اور قانونی کارروائیوں میں سب سے زیادہ مشکلات پیش آ رہی ہیں ، اس لیے متولی حضرات کو خاص طور پر ذمہ داری کا احساس کرنا ہوگا۔انھوں نے مزید کہا کہ حکومت اور عوام کے درمیان تنازعات میں عدالت کو آئینی حدود کے اندر رہ کر فیصلہ کرنا چاہیے۔انھوں نے کہا موجودہ دور میں یہ کہنا مشکل ہے کہ عدالت انصاف کے مطابق کام کررہی ہے۔
مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے امیر مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی نے کہا کہ اوقاف کے مسائل کا سارا بوجھ صرف متولیان یا حکومت پر ڈالنے کے بجائے پوری ملت اور عوام کو اپنی ذمہ داری کا احساس کرنا چاہیے۔جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر ملک معتصم خاں نے کہا کہ اوقاف کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے انہیں زیادہ موئثر اور عوامی مفاد کے لیے کارآمد بنانا وقت کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ وقف املاک پر ناجائز قبضوں اور تنازعات کی ایک بڑی وجہ بعض متولیان کی غفلت اور بعض مقا ما ت پر وقف جائیدادوں کو ذاتی ملکیت سمجھنے کا رجحان ہےجس سے اوقاف کو شدید نقصان پہنچاہے۔
اپنے صدارتی خطاب میں صدر اجلاس سید شاہ محمد علی الحسینی صاحب (گلبرگہ) نے کہا کہ گزشتہ دو برس کے دوران وقف کے تحفظ کی تحریکوں کے نتیجے میں عوام میں وقف کے بارے میں نمایاں بیداری پیدا ہوئی ہے، جسے مزید منظم کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ وقف املاک کے تحفظ، ناجائز قبضو ں کے خلاف بروقت قانونی کارروائی اور وقف قوانین سے مکمل واقفیت وقت کی اہم ضرورت ہے ۔ا نہوں نے اہلِ ثروت سے نئے اوقاف قائم کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وقف کو تعلیم، صحت اور رفاہِ عامہ کے فروغ کا موئثر ذریعہ بنایا جائے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ متولی کی بنیادی ذمہ داری واقف کے منشا کی مکمل پابندی ہے۔
شاہ سید یاداللہ حسینی نائب سجادہ نشیں روضہ خرد گلبرگہ شریف نے اپنے خطاب میں انہوں نے وقف کے تحفظ کے لیے ایک موئثر اور فعال کمیٹی کی تشکیل پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ کمیٹی وقف جائیدادوں کے تحفظ، نگرانی اور قانونی دفاع کے لیے عملی منصوبہ تیار کرے۔ انہوں نے کہا کہ اوقاف کا موئثر تحفظ اسی وقت ممکن ہے جب ذمہ داران ذاتی دلچسپی، احساسِ ذمہ داری اور مستقل عملی کوشش کے ساتھ اس کام کو انجام دیں۔
ساﺅتھ ایشین مائناریٹیز لائیر ایسوسی ایشن (ساملہ)کے صدر ایڈوکیٹ ناصر عزیز نے زور دیا کہ ہر علا قے میں وقف تحفظ کمیٹیاں اور قانونی سیل قائم کیے جائیں، ناجائز قبضوں کے خلاف فوری قانونی کار روائی کی جائے اور متولیان شفاف مالی و انتظامی نظام اپنائیں۔انہوں نے کہا کہ وقف کا تحفظ پوری ملت کی مشترکہ ذمہ داری ہے، اس لیے عوام میں بیداری پیدا کی جائے، نوجوانوں کو اس عمل میں شر یک کیا جائے اور وقف کی آمدنی کو اس کے اصل دینی، تعلیمی اور سماجی مقاصد کے لیے استعمال کیا جائے۔
اپنے خطاب میں ممبر پارلیمنٹ ہریندر ملک نے وقف املاک میں بعض مقامات پر بدانتظامی اور غیر شفاف معاملات پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ وقف کی آمدنی غریبوں اور ضرورت مندوں کی فلاح کے لیے استعمال ہونی چاہیے۔ انہوں نے وقف کے تحفظ کی اس جدوجہد میں ہر ممکن تعاون کا یقین بھی دلایا۔ممبر پارلیمنٹ مولانا محب اللہ ندوی نے جمعیت علماءہند کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے وقف کے تحفظ کے لیے مشترکہ اور منظم جدوجہد کی ضرورت پر زور دیا۔ ممبر پارلیمنٹ عمران مسعود نے اپنے خطاب میں وقف کے حوالے سے حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وقف املاک کے تحفظ کا مسئلہ صرف مسلمانوں تک محدود نہیں، بلکہ ملک میں دیگر مذہبی مقامات بھی مختلف نوعیت کے تنازعات کا سامنا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس تناظر میں تمام مذہبی اداروں اور ان کی املاک کے تحفظ کےلیے ہندو اور مسلمانوں کو مل کر لڑنا ہوگا۔
اپنے خطاب میں عبدالواحد حسین انگارا درگاہ اجمیر شریف نے کہا کہ صرف قوانین پر انحصار کافی نہیں، بلکہ عوامی شعور، اعتماد اور اجتماعی تعاون ہی اوقاف کے موئثر تحفظ کی حقیقی ضمانت ہیں۔مولانا صدیق اللہ چودھری صدر جمعیت علماءمغربی بنگال نے ملک کو پانچ زون میں تقسیم کرکے اوقاف کے انتظام کو زیادہ مو?ثر بنانے کی تجویز پیش کی۔
ان کے علاوہ آئی آر ایس اکرم الجبار خاں، حاجی محمد ہارون ایڈوکیٹ صدر جمعیت علماءمدھیہ پردیش، ایڈوکیٹ اقبال شیخ سابق ممبر وقف کونسل،آئی ار ایس سید محمود اختر،ایڈوکیٹ طاہر محمد حکیم ، ممبر پار لیمنٹ عبدالوہاب کیرالہ اور سابق ممبر پارلیمنٹ حارث بیرن کا بھی خطاب ہوا، ان کے علاوہ نواب احمد حمید باغپت ،ایڈوکیٹ فیروز غازی جنرل سکریٹری ساملہ ، مرضیہ خاں ممبئی، ، جمعیت علماءگجرات کے جنرل سکریٹری پروفیسر نثار احمد انصاری ، مولانا یحییٰ کریمی ناظم اعلی جمعیت علماءہریانہ ، ہماچل پردیش وپنجا ب ، نائب صدر ماسٹر محمد قاسم مہوں، جمعیت علماءصوبہ دہلی کے صدر مولانا محمد قاسم نوری ، جنرل سکریٹر ی مولانا آ فتاب عالم صدیقی، مولانا قاری عبدالسمیع، اویس سلطان خاں سمیت بڑی تعداد میں جمعیت علماءہند ، جمعیت علماءصوبہ دہلی، ہریانہ میوات اور مغربی یوپی کے ذمہ داران اور پانچ سو سے زائد متولیان موجود تھے۔ اس موقع پر معزز مہمانوں کا شال سے بھی استقبال ہوا۔
No Comments: