
نئی دہلی،27اگست (میرا وطن نیوز)
موجودہ دور میں ایسے لوگ ملک و ملت کی تعمیر کا کام زیادہ بہتر انداز سے انجام دے سکتے ہیں، جو قدیم و جدید دونوں دھاروں سے وابستہ ہوں۔ ہمارے لیے سب سے اطمینان کی بات یہ ہے آج امکانات نامی جس رسالے کی تقریب اجراءمیں ہم لوگ شریک ہیں اس کی ٹیم میں اکثر لوگ وہ ہیں جو قدیم و جدید اداروں کا سنگم ہیں۔ ان خیالات کا اظہار پروفیسر اخترالواسع نے سہ ماہی مجلہ امکانات کی باوقار تقریب رونمائی کو خطاب کرتے ہوئے کیا۔
پروفیسر اخترالواسع نے مزید کہا کہ اس رسالے کی ٹیم میں مختلف مکاتب فکر اور مختلف مناہج فکر سے وا بستہ لوگ ہیں ۔ یہ بہت بڑی چیز ہے۔ ہم لوگوں کو چاہیے کہ اللہ کا کام خود انجام دینے کی جرائت کرنے کے بجائے وہ کام کریں جو ہمارے کرنے کے ہیں۔ ہمیں عقیدے اور عقیدت کے درمیان فرق کر نے کی بھی ضرور ت ہے۔ میرا خیال ہے کہ امکانات مشن شروع کرنے کے لیے یہ مناسب ترین وقت ہے۔ میں امکانا ت کی پوری ٹیم کو دلی مبارک باد پیش کرتا ہوں۔
مولانا حسن سعید صفوی عثمانی ازہری کی زیر صدارت نہرو گیسٹ ہاو ¿س، جامعہ ملیہ اسلامیہ میں منعقد ہو نے والی تقریب اجراءمیں اجلاس کے کنوینر احمد جاوید نے استقبالیہ کلمات پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس رسالے کا نام ’امکانات‘بہت سوچ سمجھ کر رکھا گیا ہے۔ امت کا جدید ذہن بانجھ نہیں ذرخیز ہے۔ اس کو بارآور کرنے کے لیے امکانات کو تلاش کرنا ضروری ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ امکانا ت ایک ایسا پلیٹ فارم بنے جہاں مختلف مکاتب فکر کے لوگ ایک دوسرے کو سن سکیں۔ امکانات نام بھی ہے اور پیغام بھی ہے۔
پروفیسر اقتدار محمد خان نے کہا کہ اس وقت ہمارا سب سے بڑا دشمن آپسی انتشار اور مسلکی تعصب ہے ۔ اس رسالے کا سب سے بڑا کارنامہ یہی ہوگا کہ اس سے انتشار اور تعصب کی فضا ختم ہو اور ہمارے سامنے تعمیر و ترقی کے نئے امکانات روشن ہوں۔ اس رسالے کے چیف ایڈیٹر میرے عزیز شاگرد ڈا کٹر ذیشان احمد مصباحی ہیں۔ان کی صلاحیتوں اور مزاجی اعتدال کا اعتراف ہم سب کو ہے۔ اس لیے امید ہے کہ یہ رسالہ ہمارے لیے حقیقی امکان کی راہیں ہموار کرے گا۔
ڈاکٹر ذیشان احمد مصباحی نے امکانات پروجیکٹ کا تعارف کراتے ہوئے کہ آج ہم امکانات کا اسٹیج اس لیے سجا رہے ہیں کہ ہم یہ غور کرسکیں کہ دو سو سال کے باہمی انتشار اور مناظرے کے بعد ہم غور و فکر، مذاکرے و مکالمے، تحقیق و تفکر اور ایک دوسرے کو سننے کے لیے تیار ہیں یا نہیں؟ آج کی نسل کے پاس اپنی آواز ہے، اگر اسے نہ سنا گیا تو یہ مذہب و ملت کے لحاظ سے بھی باغی ہوجائے گی۔اس لیے ضرورت ہے کہ اس نسل کو سنا جائے اور پیار محبت سے اپنی بات بھی سنائی جائے۔
ڈاکٹر جاوید جمیل نے اپنی خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ قرآن اور رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم صر ف مسلمانوں کے لیے نہیں، پوری انسانیت کے لیے بھیجے گئے تھے۔ان کا مقصد تاریکی کو مٹا کر روشنی کو پھیلانا ہے۔ اندھیرا کوئی چیز نہیں ہے۔ اس کا اپنا کوئی وجود نہیں ہے۔لیکن ہم مسلمانوں نے اسلام کے اس بنیادی مشن کو بھلا دیا ہے۔ ہمیں پوری انسانیت کی رہنمائی کے لیے آگے آنا ہوگا اور اند ھیرے کو ختم کرنے کی جدوجہد کرنی ہوگی۔
مولانا سید سیف الدین اصدق چشتی نے اپنی گفتگو میں کہا کہ آج کے حالات میں ضرورت اس بات کی ہے ہم تنازع اور مخالفت سے بچیں۔اسلام کے پیغام کو دنیا کے سامنے پیش کریں۔امکانات کا بھی یہی مشن ہونا چاہیے۔جب ہم یہ کام کریں گے اور امت کو وسطیت پر لانے کی کوشش کریں گے تو ہم دیکھیں گے کہ مختلف مسالک و مکاتب فکر کے حساس لوگ خود ہی نکل نکل کر ہمارے کارواں میں شامل ہوتے جائیں گے۔
پروفیسر خواجہ اکرام الدین احمد نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ’میں امکانات کی پوری ٹیم کو مبارک باد پیش کرتا ہوں کہ انہوں نے اپنے لیے ایک بہت نازک مشن منتخب کیا ہے۔صوفیائے کرام کی ساری جدوجہد کا مرکزی نقطہ رواداری تھا۔ ہمیں اس کو اختیار کرنا ہوگا۔اس کے ساتھ ہم لوگوں کو طباعت، اشا عت، ترسیل، منتخب قارئین اور اس جیسے مسائل کو بھی حل کرکے چلنا ہوگا۔آپ لوگوں نے بہت بڑی پہل کی ہے۔اس لیے مایوسی کو اپنے قریب نہ آنے دیں۔ان شاءاللہ کام یابی آپ کے قدم چومے گی۔
پروفیسر مشاہد حسین رضوی نے اپنے تاثرات پیش کرتے ہوئے کہا کہ ’امکانات کے مقاصد آج کے دور میں بہت اہمیت کے حامل ہیں۔آج کی نسل کے پاس معلومات ہے لیکن اس کو صحیح جہت دینے کی ضرورت ہے۔امید ہے کہ امکانات اس سلسلے میں اہم خدمات انجام دے گا۔مستقبل کی دیوار ماضی کی بنیادوں پر کھڑی کی جاتی ہے۔ اس لیے ہمیں بھی پیچھے کی طرف جانا ہوگا اور چودہ سو سال پرانی تار یخ سے کسب فیض کرنا ہوگا. اس طریقے کو چھوڑنے کا ہی نتیجہ ہے کہ آج ہم سخت آزمائشوں سے دوچار ہیں۔میں ہر طرح سے امکانات مشن کے ساتھ ہوں۔
اس تقریب میں مکالمے کا بھی سیشن رکھا گیا تھا، جس میں میں بالترتیب ڈاکٹر شعیب رضا، شبلی منظور، عبدالعلام، ڈاکٹر مظفر حسین غزالی وغیرہ نے اپنے تاثرات کا اظہار کیا۔ شکیل الرحمن نے کلمات تشکر پیش کیے اور مہمانان کرام، شرکائے تقریب اور تمام معاونین کا شکریہ ادا کیا۔ صدر جلسہ مولانا حسن سعد صفوی عثمانی کی دعا پر یہ تقریب اپنے اختتام کو پہنچی۔
تقریب اجراءکے خصوصی شرکاءمیں ڈاکٹر محمد ارشد، ڈاکٹر مفتی محمد مشتاق تجاروی، ڈاکٹر محمد عمر فاروق، ڈا کٹر خورشید آفاق، ڈاکٹر جنید حارث، ڈاکٹر مسیح اللہ، ڈاکٹر محفوظ الرحمن ندوی، مولانا ظفرالدین برکاتی، اشرف بستوی، نوراللہ فلاحی وغیرہ شامل تھے۔ تقریب کا آغاز مولانا شاہد ازہری کی تلاوت قرآن سے ہوا۔ حافظ بلال نے منظوم کلام پیش کیا۔جبکہ نظامت کے فرائض مولانا محمد فیضان عزیزی نے انجام دیے ۔
No Comments: