Vinco Paints - Advt

قومی خبریں

خواتین

ڈی ٹی سی ڈرائیوروںکی ہڑتال پانچویں دن بھی جاری رہی ،مسافر رہے پریشان

یونین کے اعداد و شمار کے مطابق3ہزار سے زائد بسیںسڑکوں پر نہیں چل رہی ہیں

ہزاروں بسوں کے سڑکوں پر نہ ہونے کی وجہ سے میٹرو پر مسافروں کا بوجھ بڑھ گیا

نئی دہلی ،19ستمبر (میرا وطن نیوز )
ڈی ٹی سی بسوں کی ہڑتال ہفتے کو پانچویں دن بھی جاری رہی، جس کی وجہ سے راجدھانی میں مسافرو ں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ہزاروں بسوں کے سڑکوں پر نہ ہونے کی وجہ سے دہلی میٹرو پر مسافروں کا بوجھ بہت بڑھ گیا ہے۔ ہڑتال کے دوران، 17 ستمبر کو ڈی ایم آر سی نے 82.44 لاکھ مسافروں کے سفر (بورڈنگ) کا ریکارڈ قائم کیا۔ تب سے پیک آورز میں اضافی ٹرینیں چلائی جا رہی ہیں۔ اس کے باوجود، صبح اور شام کے اوقات میں مسافروں کو اسٹیشنوں پر شدید رش اور پلیٹ فارمز پر ٹرینوں کے مختصر وقفے کے لیے رکنے جیسی صورتحال کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ڈی ٹی سی ایمپلائز یونین کے اعداد و شمار کے مطابق3ہزار سے زائد بسیں نہیں چل رہی ہیں، حالانکہ متبا دل انتظامات کیے جا رہے ہیں۔حالانکہ صورتحال کو سنبھالنے کے لیے ڈی ٹی سی نے مختلف ڈپوو ¿ں پر 2,693 کنٹریکٹ ڈرائیوروں کو دوبارہ تعینات کیا ہے۔ اس کے باوجود، کئی روٹس پر مسافروں کو بسوں کے لیے طویل انتظار کرنا پڑ رہا ہے۔ مجبوری کے عالم میں لوگ آٹو رکشہ، ای-رکشہ اور کیب کا سہارا لے رہے ہیں اور اکثر بھاری کرایہ ادا کر رہے ہیں۔ اس دوران مصروف روٹس پر رائیڈ ہیلنگ ایپس (جیسے اوبر، اولا وغیرہ) کے کرایوں میں اضافہ ہوا ہے، جس سے عوام کے روزانہ کے بجٹ پر اثر پڑ رہا ہے۔
دہلی میٹرو میں شدید رش، اضافی ٹرینیں اور مسافروں کے لیے ہدایات: رش کو سنبھالنے کے لیے ڈی ایم آر سی نے پیک آورز کے دوران کم وقفوں کے ساتھ مزید ٹرینیں چلائیں،صرف 17 ستمبر کو 8 اضا فی ٹرین چلائی گئی تھیں۔ سب سے زیادہ رش ‘یلو لائن’ پر ریکارڈ کیا گیا، اس کے بعد ‘بلیو لائن’ اور ‘پنک لائن’ کا نمبر رہا۔ راجیو چوک، کشمیری گیٹ اور حوض خاص جیسے بڑے اسٹیشنوں پر شدید رش ر ہنے کا امکان ہے۔ اس صورتحال کے پیشِ نظر مشورہ دیا جاتا ہے کہ اگر ممکن ہو تو، وسطی دہلی کے ان رش والے اسٹیشنوں سے بچنے کے لیے آپ ‘منڈی ہاو ¿س’ یا ‘آئی این اے ‘ پر میٹرو لائن تبدیل کریں۔

No Comments:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *