Vinco Paints - Advt

قومی خبریں

خواتین

ایم سی ڈی ہیڈ کوجرٹرسوک سینٹر میں چھاپہ، کارروائی میں لاکھوں روپے کی نقدی برآمد

ایس ایس اے انل کھتری کی گرفتاری سے اعلیٰ افسران میں خوف و ہراس کا ماحول

نئی دہلی،16 ستمبر (میرا وطن نیوز )
دہلی میونسپل کارپوریشن میں بدعنوان عناصر کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں۔ اسی کڑی میںبدھ کو سی بی آئی نے ایم سی ڈی کے ہیڈ کوارٹر سوک سینٹر میں چھاپہ ماری کی گئی۔ اس کارروائی کے دوران سی بی آئی افسروںنے ایم سی ڈی کے اشتہاراتی شعبے کے ایک افسر کو رنگے ہاتھوں گرفتار کیا۔
سی بی آئی نے پہلے سوک سینٹر کی دوسری بیسمنٹ 2 میں چھاپہ مارا اور اس کے بعد 25 ویں منزل پر وا قع اشتہاراتی شعبے کے دفتر میں موجود درازوں اور فائلوں کی تلاشی لی۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ جیسے ہی چھاپے کی خبر پھیلی، 25 ویں منزل پر موجود اشتہاراتی شعبے کے افسران نے اپنے عملے کوان کے گھر بھیج دیا۔اس دوران سی بی آئی نے برسوں سے ایم سی ڈی کے اشتہاراتی شعبے میں کام کر رہے ایس ایس اے انل کھتری کورنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا۔ کارروائی کے دوران افسروں نے کھتری کی گاڑی سے لاکھو ں روپے کی نقدی بھی برآمد کی۔
تاہم، خبر لکھے جانے کے وقت تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ آیا یہ چھا پہ کسی مخصوص شکایت کی بنیاد پر مارا گیا تھا یا کسی دوسرے مقدمے کے سلسلے میں۔ اس چھاپے میں سی بی آئی کے تقریباً دو درجن افسران نے حصہ لیا۔ انل کھتری کی جانب سے بدعنوانی کی شکایات طویل عرصے سے سامنے آ رہی تھیں،اس کے خلاف ایم سی ڈی کے ساتھ ساتھ دیگر اداروں میں بھی شکایات درج کرائی گئی تھیں۔ ذرائع کا دعو یٰ ہے کہ کھتری ایم سی ڈی کے کچھ اعلیٰ افسران کی ایماءپر ٹھیکیداروں سے بھتہ وصول کرتے تھے۔ مزید برآں، مبینہ طور پر وہ رشوت کی بنیاد پر یہ طے کرتے تھے کہ اشتہاراتی اور پارکنگ کے شعبوں میں نچلی سطح کے عہدوں پر کن افسران کو تعینات کیا جائے گا۔
اطلاعات ہیں کہ انل کھتری کی گرفتاری نے ایم سی ڈی کے اعلیٰ افسران میں خوف و ہراس کا ماحول پیدا کر دیا ہے۔ چھاپے کی بھنک پڑتے ہی اشتہاراتی شعبے کے افسران اپنے دفاتر سے کھسک گئے۔ یہاں تک کہ پارکنگ ڈیپارٹمنٹ کے ‘آر پی سیل’ کے افسران اور عملہ، جو اسی 25 ویں منزل پر واقع ہے، بھی اپنے مقررہ وقت سے پہلے ہی غائب ہو گئے۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ پہلا موقع ہے جب سی بی آئی نے کسی چھاپے کے دوران اشتہاراتی شعبے کے کسی افسر کو اتنی بڑی مقدار میں نقدی کے ساتھ پکڑا ہے۔

No Comments:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *