Vinco Paints - Advt

قومی خبریں

خواتین

دہلی وقف بورڈ کی تشکیل کےلئے سرگرم دکھائی دے رہی ہے ریکھا گپتا سرکار

دہلی سرکارہائی کورٹ میں اگلی سماعت سے پہلے بنانا چاہتی ہے نئی باڈی

وقف ترمیمی ایکٹ 2025کے تحت نئی باڈی 11ممبران پر مشتمل ہوگی
دہلی میونسپل کارپوریشن نے نئی باڈی کےلئے دو کونسلروں کوکیا ہے نومینیٹ
بی جے پی کونسلر کمل باگڑی اور انل کمار شرما کے نام بھیجے گئے دہلی سرکار کو
متعلقہ دیگر اداروں سے بھی اراکین کے جلدنومینیٹ ہونے کا ہے امکان
دہلی وقف بورڈ26 اگست 2023 سے باقاعدہ طور پر تشکیل نہیں دیا گیا
وقف ایکٹ 1995سیکشن 14کے تحت باڈی 7ممبران پر مشتمل ہوتی تھی
پرانی باڈی میں الیکشن بھی ہوتا تھا ،چیئر مین بھی الیکشن کے تحت منتخب ہوتا رہا
اب دہلی سرکار تمام 11ممبران کو کرے گی نومینیٹ ،چیئر مین بھی ہوگا نومینیٹ

نئی دہلی ،15ستمبر (میرا وطن نیوز )
دہلی وقف بورڈ26 اگست 2023 سے باقاعدہ طور پر تشکیل نہیں دیا گیا ہے۔ تین سال سے زائد عر صے سے اس کے امور دہلی سرکار کی جانب سے مقرر کردہ ایک ایڈمنسٹریٹر کے ذریعے چلائے جا ر ہے ہیں۔ حالانکہ حالیہ میںدہلی وقف بورڈ کی تشکیل کے لیے دائر عرضی پر دہلی ہائی کورٹ نے دہلی سرکار، مرکزی سرکار اور دہلی وقف بورڈ کو نوٹس جاری کیاگیا ہے،جس کی اگلی سماعت دسمبر مہینے میں مقرر کی گئی ہے۔بہر حال یہ معا ملہ عدالت میں جانے کے بعد ریکھا گپتا سرکار بھی دہلی وقف بورڈ کی تشکیل کو لے کر سرگرم نظر آرہی ہے اور اسی کا نتیجہ ہے کہ حالیہ میںدہلی میونسپل کارپوریشن (ایم سی ڈی )کے ذریعہ دو کونسلر نئی باڈی کے لئے نامزد کئے گئے ہیں ۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ دہلی سرکار نے ’وقف ترمیمی ایکٹ 2025کے تحت دہلی وقف بورڈ کی تشکیل کے لئے متعلقہ اداروں سے نامزدگی کے خط لکھے ہیں ۔اسی کا نتیجہ ہے کہ متعلقہ ادارے سرکار کے ڈویزنل کمشنر کو نام بھیج رہے ہیں ۔اسی تناظرمیں ایم سی ڈی کے میئرپرویش واہی نے حالیہ میںبی جے پی کے رام نگر وارڈ نمبر 80سے کونسلر کمل باگڑی اور وارڈ نمبر 228موجپور وارڈ سے کونسلر انل کمار شرما کو نومینیٹ کیا ہے ۔بتایا جاتا ہے کہ دیگر متعلقہ ادارے بھی اپنے اپنے یہاں سے اراکین کو نومینیٹ کر ر ہے ہیں ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سرکار کا مقصد ہائی کورٹ میں اگلی سماعت سے پہلے دہلی وقف بورڈ کی تشکیل کا کام مکمل کر لیا جائے ۔
دلچسپ یہ ہے کہ وقف ایکٹ 1995سیکشن 14کے تحت دہلی وقف بورڈ کی باڈی 7ممبران پر مشتمل ہوتی تھی ۔ جن میںایک ایم پی ،ایک ایم ایل اے ،ایک سوشل ورکر /کونسلر ،ایک متولی ،دہلی بار کونسل ایک ممبر ،ایک اسلامی اسکالر اور سی ای او ایکس اوفیسیو شامل رہتا تھا ۔چیئر مین کا انتخاب الیکشن کے ذ ر یعہ ہوتا تھا اور متعلقہ اراکین ووٹ کرتے تھے ۔حالانکہ اب وقف ترمیمی ایکٹ 2025 کے تحت دہلی وقف بورڈ کی نئی باڈی کل 11ممبران پر مشتمل ہوگی ۔دہلی سرکار سبھی ممبران کونومینیٹ کرے گی ،یعنی اب چیئر مین بھی نومینیٹ ہی ہوگا ۔
وقف ترمیمی ایکٹ 2025کے تحت دہلی وقف بورڈ کی شکل ہی بدل جائے گی ۔کیونکہ پرانے ایکٹ میں پانچ نئی شرائط جوڑی گئی ہیں ۔اب دہلی وقف بورڈ کی نئی باڈی میں کم سے کم 2مسلم خواتین ضرور ی ہیں۔دو ممبر غیر مسلم ہوں گے یہ بھی نئے ایکٹ میں شامل ہے۔کم سے کم ایک فرد شیعہ ،ایک سنی اور ایک او بی سی ممبر ضروری ہے۔اس کے ساتھ ہی ایک بوہرا اور ایک آغا خانی بھی اگر دہلی میں ان کا و قف ہے تو نومینیٹ ہوں گے ۔

No Comments:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *