
نئی دہلی،6اگست (میرا وطن نیوز )
جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر ملک معتصم خان نے سہارنپور کلکٹریٹ کے احاطے میں واقع تار یخی مسجد کے انہدام کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ملک کی جمہوریت پر ایک بدنما داغ قرار دیا ہے۔انہوں نے ملک میں مذہبی آزادی اور جائیداد کے تحفظ کے حوالے سے بھی سنگین سوالات اٹھا ئے ہیں۔
ملک معتصم خان نے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اتر پردیش کی پوری انتظامیہ اپنی اعلیٰ سیاسی قیادت کے اشتعال انگیز اشاروں پر مسلم برادری کو ہر ممکن طریقے سے ہراساں کرنے منصوبے پرعمل پیرا ہے۔ آئندہ اسمبلی انتخابات میں ووٹ حاصل کرنے کے لیے نفرت کی سیاست کو فروغ دینے والے عناصر یہ سمجھتے ہیں کہ وہ معاشی ترقی، روزگار، صحت اور تعلیم جیسے بنیادی مسائل سے عوام کی توجہ ہٹا سکتے ہیں۔ تاہم اس ملک کے عوام فرقہ وارانہ سیاست کے اس فریب کو اب سمجھ چکے ہیں اور مسلمانوں پر ظلم اور ان کی عبادت گاہوں کو تباہ کرکے ماضی کی ’کھوئی ہوئی عظمت‘ کی بحالی کے اس دکھاوے کا شکار نہیں ہوں گے۔
ملک معتصم خان نے کہا کہ اتر پردیش انتظامیہ کے اس غیر قانونی اقدامات کے باوجود یو پی کے مسلما ن اپنے ایمان، مذہبی شناخت، ثقافت اور روایات سے اپنے تعلق کو کسی بھی صورت کمزور نہیں ہونے دیں گے۔ کسی بھی سرکاری اتھارٹی کو یہ سمجھنے کی غلطی نہیں کرنی چاہیے کہ مسجد کو مسمار کرکے کسی مسئلے کا حل نکالا جا سکتا ہے۔ من مانی طاقت کے استعمال پر انصاف، قانون کی بالادستی اور آئینی حقوق کو ہر حال میں فوقیت حاصل ہونی چاہیے۔
No Comments: