
نئی دہلی،5ستمبر (میرا وطن نیوز )
ڈابری میں واقع تاریخی مسلم قبرستان اور کربلا کی زمین (خسرہ نمبر 27/19، پاکٹ 20-D، دوارکا ) کے تعلق سے ایک اہم قانونی پیش رفت میں دہلی کی دوارکا کورٹ نے قبروں کی حفاظت کے لیے عبوری ہدایات جاری کی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی عدالت نے دہلی ڈیولپمنٹ اتھارٹی اور دہلی وقف بورڈ کو زمین کی ملکیت اور حد بندی سے متعلق تفصیلی ریکارڈ پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔
اس معاملے میں عدالت نے 2 ستمبر کو عرضی قبول کرتے ہوئے تمام مدعا علیہان ڈفینٹینٹس کو نوٹس جاری کیے تھے۔ تاہم، نوٹس جاری ہونے کے بعد مقامی لوگوں کا الزام ہے کہ ڈی ڈی اے نے تعمیری کام مکمل کیے بغیر ہی کربلا کی زمین پر آنن فائن میں ایک گیٹ نصب کر دیا اور تعمیراتی کام کو تیزی سے آ گے بڑھایا۔گیٹ لگائے جانے کی خبر ملتے ہی مقامی لوگوں میں شدید غصہ پھیل گیا۔ برہم رہائشیوں نے قبرستان و کربلا کی جگہ پر جمع ہو کر پرامن احتجاج کیا۔
ایڈوکیٹ رئیس احمد، ایڈوکیٹ شیو کمار چوہان اور سپریم کورٹ کے ایڈوکیٹ آن ریکارڈر اسلم احمد اپنے قانونی پینل (ایڈوکیٹ جےَنت تیواری اور شیلا کوشک) کے ساتھ 5 ستمبر کو دوبارہ عدالت کے سامنے پیش ہوئے اور معاملے کی شدید ہنگامی نوعیت کے پیش نظر فوری سماعت کی درخواست کی۔
سماعت کے دوران جج ڈاکٹر نپور گپتا نے 2019 کے دہلی وقف بورڈ کے خط کے تحت مدعی سوسائٹی کے ذریعہ انتظام کیے جانے والے تسلیم شدہ قبرستان کے وجود کو قبول کیا۔ اس بات کو تسلیم کرتے ہو ئے کہ قبروں کو نقصان پہنچانے یا ہٹانے سے ناقابل تلافی نقصان ہو گا، عدالت نے محدود عبوری را حت دیتے ہوئے موجودہ قبروں پر جیسے تھے کی صورتحال برقرار رکھنے کا سخت حکم جاری کیا۔
عدالت نے ڈی ڈی اے، دہلی وقف بورڈ، ایم سی ڈی اور مقامی پولیس سمیت تمام نامزد مدعا علیہان کو ہدایت دی کہ وہ خسرہ نمبر 27/19، گاو ¿ں ڈابری میں واقع کسی بھی موجودہ قبر کی کھدائی نہ کریں، انہیں نہ ہٹائیں، نہ کوئی نقصان پہنچائیں اور نہ ہی کسی طرح کی رکاوٹ ڈالیں، نیز اگلی سماعت تک صور تحال کو جیسا ہے ویسا ہی برقرار رکھیں۔ عدالت نے تمام فریقین کو اپنا جواب اور سرکاری ریکارڈ داخل کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے معاملے کی اگلی تفصیلی سماعت 17 ستمبر طے کی ہے۔
No Comments: